Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi MQM PPP Society انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی دل چسپ ذرایع اِبلاغ سندھ سیاست کراچی

چھتیس سال سے لٹکی ہوئی ہاکس بے اسکیم سیاسی مسئلہ ہے؟

سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
کراچی میں رہائش اور آسان رہائش مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں اپنے گھر اور سرپر چھت کے نام پر جتنا زیادہ نجی ہائوسنگ اسکیم کے ذریعے لوٹا جاتا ہے وہاں دیگر طور سے بھی یہ دھینگا مشتی کوئی کم نہیں ہے۔
ایسی ہی ایک اسکیم ہاکس بے ہائوسنگ اسکیم ہے، جس میں پلاٹوں کے لیے آج سے 36 سال پہلے 1992 میں قرعہ اندازی ہوئی تھی، اس قرعہ اندازی کے بعد سے شہریوں نے اس کی اقساط کے پیسے بھی جمع کروانے شروع کردیے اور یہ قسطیں پوری بھی ہوگئیں، لیکن گھر تو گھر یہ رہائشی اسکیم کہاں چلی گئی؟ کسی کو کچھ پتا ہی نہیں
پیسے بھرنے والوں کو ابھی تک قبضہ کیا کوئی سیدھی زمین کا ٹکڑا تک نہیں مل سکا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر یہاں آباد کاری ہوجاتی تو ان کی آباد کاری سے “سیاسی” مسائل پیدا ہو جاتے اس لیے ابھی تک اسے لٹکا کر رکھا ہوا ہے۔ ہاکس بے اسکیم کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری طور پر آٹھ ارب لیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود زمین تک ہموار نہیں ہے، کہ مبادا کوئی وہاں جھونپڑی ڈال کر ہی بیٹھ جائے اپنی زمین پر۔ شاید جان بوجھ کر وہاں سے زمین سے ریتی نکال کر بیچ دی جاتی ہے تاکہ رکاوٹ رہے اور یہاں کی آبادی کا نسلی تناسب نہ بگڑے۔
سوال یہ ہے کہ ہاکس بے اسکیم کے ہزاروں پلاٹ کہاں گئے۔ پہلے سے موجود ایک اسکیم میں دوسری اسکیم کیسے بن گئی، کیوں کر اس کے اندر گرین بیلٹ کو بھی تجارتی ٹھیکے پر دے دیا گیا۔ کوئی آواز اٹھانے والا ہی نہیں۔ یہاں “کے 28” کے نام سے بھی ایک اور اسکیم بنا دی گئی۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ہاکس بے ہائوسنگ اسکیم میں 14 پندرہ ہزار پلاٹ تھے، جس میں مختلف سرکاری محکموں نے مختلف ادوار میں اس کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں،
اپنے سر پر چھت کا خواب دیکھنے والے کتنے ہی الاٹیز قبر میں جا سوئے، کتنوں کی جوانیاں بڑھاپے میں بدل گئیں، لیکن ہاکس بے اسکیم کی تکمیل تو درکنار اس مسئلے کا حل بھی دور دور تک موجود نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights