سمے وار (خصوصی رپورٹ)
گذشتہ دنوں ختم ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں آخری روز متحدہ کی مرکزی راہ نما نسرین جلیل کے لیے بیٹھک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے گفتگو ہونی تھی، جسے معزز صحافی مظہر عباس نے زیادہ تر کسی اور جانب ہی موڑے رکھا۔ اب نہیں معلوم یہ دانستہ کوئی حرکت ہوگئی یا غیر دانستگی میں۔۔۔
بہرحال نسرین جلیل محو گفتگو تھیں۔۔۔جناب مظہر عباس نے فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی مزاحمت کا ذکر کیا اور کہا کہ فاطمہ جناح سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں اور بے نظیر کو قتل کر دیا گیا۔ ایسے ہی تحریک انصاف کی اسیر خاتون راہ نما ڈاکٹر یاسمین راشد کا نام لے کر کہا آج بھی ایسی مثالیں موجود ہیں، جو ڈٹی ہوئی ہیں، ایسی ہی ایک آواز نسرین جلیل کی بھی ہے۔
اب مظہر صاحب نے نسرین جلیل کے جھیلے گئے کئی آپریشن کا ذکر انھوں حیرت انگیز طور پر نہیں کیا۔ لیکن یہ ضرور بتایا کہ نسریل جلیل زیر عتاب رہیں، تین سال جیل میں رہیں، آپریشن کا سامنا کیا۔
نسرین جلیل نے بتایا کہ ان کے شوہر ایم اے جلیل اور وہ الطاف حسین سے متاثرہوئے تو ان سے رابطہ کرنا چاہا۔ بیرسٹر کمال اظفر الطاف حسین والی اس میٹنگ میں ساتھ تھے، ان سے پوچھا، تو انھوں نے کہا کہ حق پرست تعاون کمیٹی میں شامل ہو جائیں بیگم سلمیٰ احمد ہیں، آپ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں، تو ہم وہاں چلے گئے اور پھر کراچی کی تاجر برادری سے چندہ لے کر الطاف حسین کو دیا کرتے تھے۔
دو مرتبہ سینٹیر رہنے والی سابق نائب ناظمہ کراچی نسرین جلیل کہتی ہیں ہک انھوں نے “نائن زیرو” پر ایک بالکل مختلف زندگی تھی، میں کافی پارٹی اور کیٹی پارٹی اور لنچز وغیرہ میں مصروف رہتی تھی، لیکن یہاں اس سے مختلف صورت حال تھی کہ لوگ بلامعاوضہ مسائل حل کر رہے ہیں۔ الطاف حسین کو تو جلیل کو فوراً اپنے ساتھ لیا اور اس کے بعد مجھے بھی لے لیا گیا۔
ایک مرتبہ رات کے بارہ بجے جب ہم لوگ نائن زیرو گئے، تو مجھے وہاں انتظار گاہ میں روکا گیا کہ الطاف حسین کو جلیل سے مشورہ کرنا تھا، مجھے یہ بہت برا لگا اور میں وہاں سے ٹیکسی میں بیٹھ کر واپس آگئی۔ پھر جلیل آئے اور انھوں نے بھی کہا کہ ایسا ہوگا تو پھر ہم نہیں جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا ہم پھر ان کے ساتھ رہے۔
مجھ سے امین الحق نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کلب جانے کے بہ جائے یہاں آجاتی ہیں۔ مجھے وہاں چھے سال تک کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی، میں وہاں خود کو کارآمد کرتی تھی ٹیلی فون ایکس چینج پر بیٹھ گئئی۔ انگریزی اچھی تھی تو پھر یہ لوگ مان گئے کہ یہ رپورٹ اچھی لکھ سکتی ہیں تو میں خطوط وغیرہ کے حوالے سے میں ان کے لیے ناگزیر تو نہیں ہوئی، بس ساتھ ہوگئی۔
جس پر مظہر عباس نے کہا کہ پھر وہی خطوط لکھنا مصیبت بھی ہوا؟
نسرین جلیل نے کہا کہ شروع سے ہی مجھے سفارت کاروں سے رابطوں میں ڈال دیا گیا جہاں دیگر سفارتی افراد کو مکتوب لکھے وہیں ہندوستانی سفارت خانے کوبھی خط لکھا جو کہ مجھے گورنر سندھ بننے سے روکنے کا باعث بنا۔
مظہر عباس نے بعد میں ایم کیو ایم کے حالات کا ذکر کیا کہ پہلے ایسا نہیں تھا، بعد میں ہوگیا۔ تو نسرین جلیل نے کہا صورت حال ایسی نہیں ہوتی جیسی نظر آرہی ہوتی ہے، جب آپ کے گھروں میں کود کر داخل ہوا جائے بچوں کو اٹھالیں ماورائے عدالت قتل، ٹارچر اور کارکن لاپتا ہوں، تو اس کا ردعمل ہوتا ہے۔ آج بلوچستان کو دیکھ لیجیے تو یہ ہوت اہے، جو کچھ ہوا وہ نہٰیں ہونا چاہیے تھا، ہمارے ہاں ہر پارٹی کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔
مظہر عباس نے کہا ایم کیو ایم سے اردو اسپیکنگ متاثر ہوئے، ریاست ظلم کر رہی ہے لیکن اس کے متاثر عوام بن رہے تھے۔
نسرین جلیل نے گھر پر چھاپے کے ذکر پر انکشاف کیا کہ بانی سیکیٹری جنرل اور کنوینئر ڈاکٹر عمران فاروق کراچی سے پارٹی چلا رہے تھے، 1992 کا آپریشن شروع ہوا، تو انھوں نے جلیل سے جگہ مانگی اور پھر جلیل نے ان کو سات برس تک محفوظ رکھا۔ یہاں ان کے سر کی قیمت مقرر تھی، اللہ کا کرم رہا کہ وہ برآمد نہ ہو سکے۔ میرے چار بچے ہیں۔ وہ بھی سب اس کی لپیٹ میں آئے۔ میں لندن میں چھوٹے بیٹے کے ساتھ تھی۔ گھر چھوڑ دیا تھا ہم سب روپوش تھے۔ اپنے نوکروں کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔ کیوں کہ جو بھی ہاتھ آجائے اس سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔ گھر کو ویسے ہی چھوڑ دیا تھا۔ میری بیٹی کا تعلق ایم کیو ایم سے نہیں تھا وہ کراچی میں اپنا کام کرہی تھی، نام بتانا مناسب ہے جہاں کام کر رہی تھی (تھوڑی دیررکتی ہیں) وہ بائیس سال کی تھی، رات کو 12 بجے فون آیا جلیل کا کہ تم وہ جگہ چھوڑ دو۔ پارٹی اسمارٹ فون پر چل رہی تھی عمران فاروق اسی سے رابطے کرتے تھے۔ اسمارٹ فون عائشہ کے پاس ہوتا تھا اور نعمان سہگل صاحب انھیں اسمارٹ فون دیتے تھے۔ نعمان سہگل کے ہاں کال کی، تو وہاں رابطہ نہ ہوا، تو کہا یہاں پہنچ گئے ہیں اور پھر وہ عائشہ اور جلیل تک پہنچتے اور عمران فاروق تک پنہچتے۔
وہ ایک سال تک ایک کمرے میں بند رہی لاہور میں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کو میں نے ‘پک اپ’ کیا سڑک کے کنارے سے، پھر گرومندر چھوڑا۔ وہاں سے ایک شخص انھیں لیا بلوچستان لے گیا، وہاں سے عراق پہنچے وہاں سے سری لنکا کی پرواز لی، ایک ملک کے سفیر کو یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ وہ یہاں “مطلوب” ہیں، اس کے باوجود انھیں یورپی ملک کا ویزا لگا دیا گیا۔ ان کا اپنا پاسپورٹ تھا۔ باقاعدہ ویزا موجود تھا، انھیں لندن کے راستے آگے جانا تھا، لیکن وہاں پنچ کر انھوں نے اپنا پاسپورٹ پھاڑا اور پھر وہاں فوراً انھیں پناہ مل گئ۔ باہر وکلا موجود تھے فوراً کارروائی کرلی گئی۔
مظہر عباس نے ڈاکٹر عمران فاروق اور الطاف حسین کے اختلافات پر بھی بات کی، انھوں نے کہا کہ عمران فاروق سات سال میں کٹ کر رہ گئے تھے اور ان کے معمولات بھی وہ نہیں رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کے الطاف حسین سے تعلقات خراب ہوگئے تھے، وہ لندن سیکریٹریٹ کو اس طرح نہیں اٹھا پا رہے تھے۔
مظہر عباس نے نسرین جلیل کی اسیری کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ تین سال جیل میں رہیں، اس وقت بھی یہاں ایک خاتون ہی کی حکومت تھی۔ (بے نظیر کا نام نہیں لیا) مجھے یاد ہے کہ جب اجمل دہلوی اور اشتیاق اظہر ریلیف لینے کے لیے گئے تو بے نظیر نے کیا کہا؟
نسرین جلیل نے کہا کہ 1994 کی بات ہے،ٓ جب آپ عتاب میں ہوتے ہیں تو آپ کے خلاف مقدمے بھی بنتے ہیں، ان دونوں سینیٹروں کے خلاف بھی جھوٹے مقدمے تھے تو خود گرفتاری دینے کا فیصلہ ہوا۔ جیل میں بند کر دیے گئے۔ ان دونوں کی عمریں زیادہ تھیں تو اپیل کی کہ جیل میں رکھنے کے بہ جائے “ہائوس اریسٹ” کردیں تو انھوں نے کہا کہ خاتون سینٹیر کے لیے کیا کہیں گے تو انھوں نے مجھے بھی گھر میں نظربند کردیا۔
مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیو ایم نے جنرل پرویز مشرف کا ساتھ نہیں دیا، پھر معاہدہ ہوا تو ایم کیو ایم کے مخالفین کو جیل میں ڈال دیا یا ملک سے جانا پڑا؟ پہلی ملاقات کیسے ہوئی؟
میں نے نفیس صدیقی سے کہا کہ پرویز مشرف سے ہماری ملاقات کروائیے تو پتا چلا کہ مشرف نے انکار کردیا کہا کہ یہ تو دہشت گرد پارٹی ہے۔ میں نہیں ملوں گا، ‘انگلش اسپیکنگ یونین’ میں بھی انھوں نے ایم کو ایم کی برائی کی۔ لیکن جب امریکا میں 11 ستمبر کے واقعات ہوئے اور اس کے بعد لیاقت آباد میں ہم نے جلسہ کیا۔ پورے ملک میں کوئی جماعت نہیں تھی جس نے اس کی مذمت کی۔ ہماری پارٹی کا بہت بڑا جلسہ تھا۔ جب ظاہر ہوا کہ ہمارے علاوہ کوئی ان کا حامی نہیں ہے تو پھر انھوں نے ملاقات کا کہلوایا۔ پھر ایک مشترکہ جاننے والے بلاول ہائوس کے قریب رہتے تھے، انھوں نے میری آفتاب شیخ اور شیخ لیاقت حسین کی ملاقات کروائی۔ اس وقت آدھا شہر “حقیقی” کے قبضے میں تھے اور ہم ان علاقوں میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ ہم بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے، پرویز مشرف کو اپنا ریفرنڈم کروانا تھا۔ اس کے لیے ان کو ضرورت تھی ایم کیو ایم ان کا ساتھ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر حملے بھی ہو رہے تھے تو پوچھا کہ آپ اپنی حفاظت کے لیے کیا کر رہے ہیں تو انھوں نے چھوٹا سا پستول ان کی طرف آگے کردیا کہ دیکھیے یہ ہے، جس سے تاثر دیا گیا کہ ان کو ہم پر اعتماد ہے ورنہ وہ بھرا ہوا پستول کیوں ہمارے ہاتھ میں دیتے۔
مظہر عباس نے گفتگو پھر بانی ایم کیو ایم کی طرف موڑ دی،
الطاف حسین کو کیسے بیان کریں گی؟
یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ “ہی از گون نٹس نائو” لیکن ان میں ایک لیڈر شپ کوالٹی تھیں، اور ان وہ سوتے بہت کم تھے اور کیا چیز کہاں ہو رہی ہے ہر شخص اور اس کے اہل خانہ کے بارے میں خیال رہتا تھا۔ مشورہ سنتے تھے اور بات بدل دیتے تھے یہ بہت بڑی خوبی تھی۔ جس طرح سے ان کو پذیرائی ملی اور جو کشش تھی ہر ایک کو اس نے اپنی طرف کھینچا ۔ ہم بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے جیسے آج پی ٹی آئی نہیں ہوتی۔ ہر شخص تو تیس سال تک اس نہج نہیں رہ سکتا، اسے نیچے آنا ہوتا ہے۔ جو بھی ان کی شخصی خامیاں ہیں جس کی وجہ سے آج جو ساری تباہی اور خرابی آئی۔ لیکن انھوں نے ہمیں دوڑائے رکھا، لیکن جب آپ کسی چیز میں ہوتے ہیں تو سوچتے نہیں، باہر سے معروضی طور پر دیکھ کر کہہ سکتے ہیں۔
عظیم احمد طارق کے اختلافات کے سوال پر کہا کہ چڑھانے والے بہت سے لوگ ہوتے ہیں، انھیں کہا گیا کہ الطاف حسین آپ کی طرح بردبار اور معاملہ فہم نہیں ہیں، جیسے آپ بات کرتے ہیں۔ قیادت آپ کے پاس ہونی چاہیے تو بہت سارے عوامل کام کرتے ہیں جو اردگرد ہوتے ہیں وہ چڑھاتے ہیں، حکم راں ہوتے ہیں جیسے پرویز مشرف پہلے تین سال تک صحیح تھے اس کے بعد ان کے اردگرد کے لوگوں نے غلط کام کروائے۔
مظہر عباس نے کہا آپ اس وقت پارٹی میں نہیں تھیں جب خود عظیم احمد طارق نے قائد کے لیے الطاف حسین کا نام تجویز کیا تھا جب الطاف حسین ملک میں بھی نہیں تھے۔ تو کیا بانوے کا آپریشن انھی ہارڈ لائنز کے خلاف تھا؟
بہت سی جوابی کارروائی ہو رہی تھیں، جس میں اردو اسپیکنگ لوگ متاثر ہو رہے تھے۔ کولٹرل ڈیمیج جیسے کہ آپ کہہ رہے ہیں۔ فوج چاہتی تھی کہ الطاف حسین کو ہٹا دیا جائے پہلے حقیقی اور پھر عظیم طارق کو لایا گیا، پھر الطاف حسین مجبور ہوگئے کہ قیادت دے دیں، لیکن اس کے باوجود جب مظالم ہوتے رہے، لاگ لاپتا اور سارے جبر کے سلسلے جاری رہے تو عظیم طارق نے کہا کہ میں یہ قیادت نہیں لے سکتا، میں یہ راہ نمائی نہیں کرسکتا، فاروق ستار سے انھوں نے کہا کہ میں الگ ہو رہا ہوں میں یہاں نہیں رہوں گا، آسٹریلیا جا رہا ہوں پھر قتل ہوگیا۔
مظہر عباس نے کہا کہ ان کی بیوہ سے بات کی کہ انھوں نے اس روز گارڈ بدلے، وہ کہتے تھے کہ عظیم طارق کہتے تھے کہ میں اپنی سیاست گھر سے باہر رکھتا ہوں (جیسے مظہر عباس مزید کچھ کہنا چاہ رہے تھے اور بات بدل دی) اور جب مجھے بٹ مارا گیا تو میں نے دیکھا عظیم طارق خون میں لت پت تھے، ان کی شکایت جو رہی ایم کیو ایم سے کہ انھیں عدت بھی پوری نہیں کرنے دی اور ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔
جب نسرین جلیل سے پوچھا گیا کہ ایم کیو ایم والے حکومت کے بغیر نہیں رہ سکتے؟
تو انھوں نے کہا کہ ہم رابطہ کمیٹی میں طے کرتے تھے کہ ہمیں پیپلزپارٹی سے علاحدہ ہوجانا چاہیے، اس بات اعلان بھی ہوجاتا تھا لیکن اگلے روز الطاف حسین وہ فیصلہ واپس لے لیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زرداری کے پاس الطاف حسین کی فائلیں ہوتی تھیں جس کی وجہ سے تبدیلی ہوجاتی تھی اور ہم پھر حکومت میں ہوتے تھے۔ اب کو حکومت میں ہیں تو ہم حکومت میں ہوں تو کچھ کرسکتے ہیں، ورنہ حزب اختلاف کی سیاست کریں گے، اندر سے کچھ کرسکتے ہیں۔
مظہر عباس نے کہا مجھے پتا ہے کہ وہ کون سی فائل ہے، جو زرادی کے پاس ہے۔ اور حکومت میں شمولیت کے لیے ریفرنڈم جو نائن زیرو پر ہوا اس میں ایم کیو ایم کے لوگوں نے نہیں میں ووٹ کیا تھا اور اس کے نتائج نہیں دکھائے گئے اور حکومت میں شامل ہوگئے۔ نسرین جلیل نے کہا گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔۔۔۔
مظہر عباس نے کہا کہ کیا آپ کو کچھ پچھتاوا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاست کا نقصان سب سے زیادہ ہوا کراچی کو ہوا شہری سندھ اور کود ایم کیو ایم کو ہوا؟
نسرین جلیل نے کہا: یہ میں مانتی ہوں کہ پچھلے تیس برس جو ہیں ہم نے ضائع کیے ہیں کیوں کہ الطاف حسین کے ذہن میں کوئی مقصد تھا ہی نہیں ان تمام چیزوں کا۔ اور ہم ان کے پیچھے پیچھے رہے ہمیں وہ کچھ حاصل کرنا چاہیے تھا وہ حاصل نہیں کرسکے۔ لیکن مہاجروں کو جو ملیاملیٹ کرنے کی پالیسی تھی کہ آپ سر اٹھا کر نہیں چل سکتے تھے، کم از کم شناخت ایم کیو ایم نے دی۔
الطاف حسین کا بھی تو یہی کہنا ہے کہ آپ لوگ اسٹیبلشمنٹ کی زبان بول رہے ہیں،
اور کون نہیں بول رہا؟
اس طرح آخر میں نسرین جلیل نے شکوہ کیا کہ موضوع کیا تھا، مگر اس پر بات نہیں کی گئی، جس پر وہاں شرکا میں موجود شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی چیئرپرسن ڈاکٹر سعدیہ محمود نے بھی کہا کہ مظہر عباس صاحب نے موضوع پر گفتگو کرنے کے بجائے وہ سوالات کیے، جس کے جوابات انھیں پہلے سے معلوم تھے۔ مظہر عباس کہہ رہے تھے کہ آپ سیاسی خاتون ہیں تو لامحالہ خاتون ہونے کے باوجود آپ سے سیاسی گفتگو ہی ہوگی۔
