Categories
Exclusive Karachi KU MQM Rizwan Tahir Mubeen انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی جامعہ کراچی جماعت اسلامی رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ سندھ قومی تاریخ کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

’ایم کیو ایم‘ کے 15 بنیادی جرائم

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
’ایم کیو ایم‘ نے اپنے تیس، چالیس سالوں میں مہاجر قوم یا کراچی والوں کو کیا دیا؟
کراچی نے ’متحدہ‘ کی وجہ سے کیا کھویا اور کیا پایا؟
کراچی کی سیاسی تاریخ کا یہ سوال جتنا اہم اور دل چسپ ہے، اس کا جواب ملنا اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل محسوس ہوتا ہے!
کیوں۔۔۔؟
وہ اس لیے کہ اکثر اس کے جواب میں ہر دو جانب کے موقف مختلف انتہاﺅں کا شکار نظر آتے ہیں۔
مخالفین کے لیے یہ جماعت دہشت گرد، قاتل، بھتا خور، ملک دشمن، ’را‘ کی ایجنٹ اور نہ جانے کیا کچھ ہے، تو دوسری جانب اپنے قائد کی عقیدت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے لیے یہ شناخت کی جدوجہد، متوسط طبقے کی جنگ، موورثیت اور وڈیرہ شاہی کے خلاف ایک بھرپور تحریک اور بہت کچھ قرار پاتی ہے۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت آخر ہے کیا؟
کتنی عجیب بات ہے کہ کراچی میں بیٹھ کر ہم ابھی یہی نہیں سمجھ پا رہے کہ ’ایم کیو ایم‘ آخر ہے کیسی؟ اور اس نے اب تک اپنے شہر اور اپنی قوم کو آخر دیا کیا ہے؟
یہ سوال واقعی اتنا ہی مشکل ہے، جتنا کہ خود ’ایم کیو ایم‘!
اس کے جواب میں اتنے پیچ وخم ہیں جتنا کہ اس جماعت کے اپنے نشیب وفراز!
آئیے ذرا کوشش کرتے ہیں کہ دیکھیں تو سہی اس جماعت نے تین، چار دہائیوں کی جدوجہد کے بعد آخر کیا اچھے، اور کیا برے اثرات چھوڑے؟
لیکن ذرا ٹھہریے!
اگر آپ بھی ’ایم کیو ایم‘ سے متعلق یک طرفہ طور پر کوئی ایسی قطعی اور حتمی رائے رکھتے ہیں، جو کہ ہم نے شروع میں بیان کی تو پہلے ذرا ٹھنڈے دل سے اُسے ایک طرف رکھ دیجیے۔
یہ اس لیے ضروری ہے کہ یہاں ہم حتی الامکان اچھے اور برے ہر دو جانب سے چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کریں گے، تاکہ اُسے اچھا یا برا بنانے کے بہ جائے جتنا ممکن ہو حقائق سامنے لاسکیں۔
تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے کراچی نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
قلم چھین کے ہتھیار دے دیے!
’ایم کیو ایم‘ پر سب سے دیرینہ اور سب سے زیادہ لگایا جانے والا الزام اس کے تشدد میں ملوث ہونے کا ہے۔ ناقدین کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ ’ایم کیو ایم‘ نے تعلیم یافتہ لوگوں سے قلم چھین کے انھیں ہتھیار دے دیے۔ ایک پڑھی لکھی قوم کو دادا، لنگڑا، کانا، کمانڈو، کن کٹا، چریا، بھرم اور نہ جانے کیا کیا بنا دیا ہر چند کہ ممکنہ طور پر یہ نام، شام کے ایک مقبول اخبار ’عوام‘ کی جانب سے دیے گئے، تاہم ان کی اس عرفیت سے قطع نظر اکثر ان ناموں سے موسوم کیے جانے والے کارکنان کا تشخص تعلیم یافتہ بھی تو نہ تھا۔
1978 ءمیں جامعہ کراچی سے اپنا بنیادی سفر شروع کرنے والی ’ایم کیو ایم‘ کے ابتدائی ارکان اور کلیدی راہ نماﺅں میں اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ، حالات کے جبر یا چھاپوں یا آپریشن کے نتائج میں دھیرے دھیرے نچلی تنظیمی سطح پر اس کا تشخص بگڑنا شروع ہوا، کیوں کہ پڑھے لکھے مہاجر کارکنوں کے گھر پر پولیس آئی، چھاپے پڑے، تھانوں میں مقدمے اور عدالتوں میں پیشی کے سلسلے ہوئے تو ان کے پاس فعال سیاست سے کنارہ کشی کا اور کوئی راستہ نہ تھا، کیوں کہ ان کے بڑوں کی جانب سے انھیں کہا گیا کہ تمھاری بہنوں کے رشتے نہیں آئیں گے، لوگ کہیں گے کہ ان کے گھروں پر تو پولیس آتی ہے، چھاپے پڑتے ہیں، مقدمات ہوتے ہیں، نتیجتاً پھر کراچی کی گلی کوچوں میں سرگرم سیاست اکثر ایسے ’لوگوں‘ کے سپرد ہوگئی، جو ان سارے ’داغوں‘ کو سہار سکتے تھے۔
مجرمانہ کردار
اس حقیقت کو خود ’ایم کیو ایم‘ نے کبھی نہیں جھٹلایا کہ اس سے وابستہ ارکان بھتا خوری، چھینا جھپٹی، قتل وغارت میں ملوث ہوئے، تنظیمی سطح پر ہمیشہ اس کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مضبوط اور فوجی نظم وضبط رکھنے والی جماعت میں یہ ”بے نظمی“ اس قدر بے قابو کیوں رہی؟ یہ بات درست ہے کہ ’نائن زیرو‘ پر کارکنان سے لے کر رابطہ کمیٹی تک کے ارکان کے خلاف شکایت کا ایک بھرپور اور موثر نظام موجود تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ شکایتی نظام تک پہنچنے کی جرا¿ت شاید آدھے لوگ ہی کر پاتے ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کی جانب سے چندے اور فطرے کی جبری وصولی کے ساتھ کھالوں کی چھینا جھپٹی کی شکایات بھی بہت زیادہ تھیں۔ یہاں تک کہ پتھارے والوں سے ’چائے پانی‘ اور ایک جگہ تو یہ بتایا گیا کہ مرغی کے انڈوں کے ٹرک سے ہر پھیرے پر ایک انڈے کی ٹرے بطور بھتے کے وصول کرنے جیسی کارروائیاں اسی سیاسی چھتری تلے ہی کی جانے لگی تھیں۔ یہی وہ جبر تھا کہ جس کی وجہ سے متوسط طبقے کی نمائندگی کی بات کرنے والوں کو ’شہری وڈیرا‘ کہا گیا۔
مہاجروں کا استحصال
’ایم کیو ایم‘ کے کراچی والوں کے حساب کتاب میں ایک حوالہ مہاجروں ہی کے استحصال کا بھی ہے۔ کراچی والوں کو شکایت ہے کہ ’ایم کیو ایم‘ کی جانب سے اپنی ہڑتالوں کو کام یاب بھی مہاجر علاقوں کی دکانوں کو بند کرا کے کرایا جاتا تھا۔ اگرچہ اخلاقی طور پر اگر یہ زور زبردستی ہے تو پھر کیا مہاجر اور کیا غیر مہاجر دونوں کے لیے ہی ناجائز قرار پانا چاہیے، لیکن اس سے کراچی والوں کے اس بیانیے کو راہ ملتی ہے کہ اپنوںکے نام پر اپنوں ہی کو نقصان پہنچایا گیا۔
مہاجر شعور کی بربادی
’مہاجر‘ قوم کے حقوق کے تحفظ سے اچانک ’متحدہ‘ کی جانب سفر سے نہ صرف ایم کیو ایم (حقیقی) جیسا ’خوف ناک‘ بحران پیدا ہوا، بلکہ 1992ءمیں شروع ہونے والے ’ایم کیو ایم‘ کے دونوں دھڑوں کے درمیان تصادم میں بلا مبالغہ ہزاروں کارکنان مارے گئے۔ یہ ہزاروں نوجوان یقیناً اس قوم کا ایک اثاثہ تھے، جو بدقسمتی سے آپس کے تصادم اور سیاسی اناﺅں کی نذر ہوگئے۔ اگر یہ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا کہ محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو جانے کی حکمت عملی نے پوری قوم کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اگر یہ دھڑے بندی نہ ہوتی تو شاید کراچی اس بربادی کا شکار بھی نہ ہوا ہوتا۔ اپنے قیام کے محض چھے برسوں کے بعد صرف علاقوں میں قبضے کے لیے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے، تحمل اور برداشت کا سیاسی ماحول بھی برباد ہوا۔ شاید کراچی کی موجودہ حالت اسی اختلاف رائے کو جگہ نہ دینے کا ایک نتیجہ بھی ہے۔ اگر لچک دار سیاست کی گنجائش کو باقی رکھا جاتا تو مہاجر سیاسی شعور کسی نہ کسی سطح پر خود کو زیادہ بہتر طریقے سے منوا لیتا اور سیاسی وسماجی انتشار کی موجودہ صورت حال نہ ہوتی۔
قوم ’را‘ کی ایجنٹ بن گئی؟
’ایم کیو ایم‘ کے ملک دشمن ہونے کا بیانیہ اتنا ہی پرانا ہے، جتنا کہ خود ’ایم کیو ایم‘۔ 1992ءکے فوجی اور 1995ءکے پولیس آپریشن کے بعد 2015ءسے اب تک جاری آپریشن کی لہر میں ریاستی سطح پر کبھی ’جناح پور‘ کی سازش تو کبھی بھارتی خفیہ ایجینسی ’را‘ کے ایجنٹ ہونے کا الزام سامنے آتا رہا ہے۔ 2012ءمیں بھی صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا اور 2015ءمیں ’ایم کیو ایم‘ سے منحرف ہونے والے مصطفیٰ کمال نے الطاف حسین کے ملک دشمن ہونے کے سنگین الزامات دُہرائے تھے، لیکن تاحال یہ سنگین معاملہ کسی عدالت میں ثابت نہیں ہو سکا ہے، جب کہ ’جناح پور‘ جیسے الزامات کو بعد میں غلط بھی قرار دیا گا ہے، اس لیے کراچی والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ’ایم کیو ایم‘ پر اس الزام کو غلط اور پروپیگنڈا قرار دیتی ہے، دوسری طرف اس الزام کو درست ماننے والے بھی پائے جاتے ہیں۔
’محصورین مشرقی پاکستان‘ نہ آ سکے!
1971ءمیں پاکستان کی محبت کی سزا پانے والے پاکستانی اپنی تیسری نسل کے ساتھ بنگلا دیش میں اسی اذیت میں گزار رہ ہے ہیں اور آپ کو پتا ہے کہ ’ایم کیو ایم‘ کی بنیاد میں ’محصورین مشرقی پاکستان‘ کی وطن واپسی کے مطالبے کو ایک کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ اسمبلیوں میں جانے کے بعد ’ایم کیو ایم‘ اپنے اس بنیادی مطالبے کو بھول ہی گئی اور پھر وقت آگے بڑھا تو بات ’مہاجر‘ کو ’متحدہ‘ کرنے کی طرف متوجہ ہوگئی تو پھر اس مطالبے کو کیے جانے کی توقع بھی اٹھتی چلی گئی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے ’محصورین مشرقی پاکستان‘ بھی گنوا دیے!
’پانچویں قومیت‘؟
اگرچہ ’ایم کیو ایم‘ نے 1988ءمیں بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنے پہلے سیاسی سمجھوتے ’معاہدہ کراچی‘ میں ہی مہاجروں کو ملک کی ’پانچویں قومیت‘ تسلیم کرنے کی شرط سے دست برداری اختیار کرلی تھی، لیکن اس کے باوجود آج بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’ایم کیو ایم‘ نے اردو بولنے والوں کی اس شناخت کو منوایا ہے۔ ہر چند کہ اس حوالے سے خود ’ایم کیو ایم‘ کی پالیسی بدلتی رہی ہے۔ کبھی وہ مہاجر، تو کبھی ’اردو اسپیکنگ‘ تو کبھی ’اردو بولنے والے سندھی‘ کی اصطلاح بھی استعمال کرتی رہی۔ تاہم کراچی والوں کی شناخت کو آج بھی ’مہاجر‘ سے الگ نہیں کیا جا سکتا، ہم اس عنصر کو بھی کراچی پر ’ایم کیو ایم‘ کے ایک اثر کے طور پر شمار کر سکتے ہیں۔
کوٹا سسٹم
’ایم کیو ایم‘ کے قیام کی تین بنیادی مطالبوں میں سے ایک کلیدی مطالبہ ’کوٹا سسٹم‘ کا خاتمہ تھا، جس طرح ’ایم کیو ایم‘ نے مہاجر قوم کی شناخت منوانے کو مصلحت کی نذر کیا، ویسے ہی محصورین مشرقی پاکستان کے ساتھ ساتھ ’کوٹا سسٹم‘ پر بھی دباﺅ یا سیاسی مصلحت کا شکار نظر آئی، بلکہ اب تو اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے مبینہ طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ حیدر عباس رضوی اور ڈاکٹر فاروق ستار کے توسط سے ’ایم کیو ایم‘ کی قیادت کو یہ باور کرایا گیا کہ بدلے ہوئے منظرنامے میں ’کوٹا سسٹم‘ ہی ان کے مفاد میں ہے۔ نہیں معلوم یہ مفاد مہاجر قوم کا تھا یا پھر اس کا تعلق سیاسی معاملات سے تھا، لیکن ’ایم کیو ایم‘ یہ شہری سندھ اور دیہی سندھ کا کوٹا ختم نہ کرا سکی۔
داخلہ پالیسی
’ایم کیو ایم‘ کے قیام کے محرک جو بنیادی محرومیاں تھیں، ان میں ’کوٹا سسٹم‘ کے تناظر میں داخلوں اور ملازمتوں کے تئیں مہاجروں پر جاری پابندیاں اور وسائل پر حق نہ ہونا تھا۔ ’ایم کیو ایم‘ کوٹا سسٹم تو ختم نہ کرا سکی، لیکن داخلوں کے حوالے سے کراچی کے ڈومیسائل کے شرائط ضرور منوانے میں کام یاب ہوئی۔ بالخصوص جامعہ کراچی میں دست یاب نشستوں میں ’کے‘ ’ایس‘ اور ’پی‘ کی پالیسی سامنے آئی، جس کے مطابق پہلے مرحلے میں کراچی کے طلبہ کو داخلے دیے جاتے، پھر سندھ کی سطح پر اور تیسرے مرحلے میں پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو داخلے ملتے۔ ایم کیو ایم کے کمزور پڑتے ہی اب اس داخلہ پالیسی کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کے طلبہ کو داخلے کے مواقع ملنا ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔
وسائل پر اختیار
’ایم کیو ایم‘ کے پہلے میئر ڈاکٹر فاروق ستار ہوں یا اس کے بعد مصطفیٰ کمال۔ دونوں ادوار میں دست یاب وسائل کا استعمال عوامی سطح پر بہت سراہا گیا۔ مصطفی کمال کے دور میں اگرچہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے وسائل کی فراوانی تھی، تو فاروق ستار کے دور میں نوجوان قیادت کے جوش وجذبے سے بہت سے چمتکار کراچی کے سامنے آئے، جس میں ’مفت بازار‘ سے لے کر ’ہفتہ صفائی‘ تک کو اس وقت کے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ’ایم کیو ایم‘ کے دورمیں کراچی کی تعمیر وترقی کے نمایاں نشان دکھائی دیتے ہیں، ہر چند کہ اسے چائناکٹنگ، پارکوں میں غیر قانونی تعمیرات کے الزامات نے گہنا ضرور دیا، لیکن یہ الزامات اتنے بڑے نہیں ہیں، جتنے کراچی میں بنیادی وسائل کی کام یاب فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ کوئی تو بات تھی کہ جب لوگ ’ایم کیو ایم‘ کے طاقت ور ترین دور میں لاہور کے لوگ کراچی کی روشنیاں دیکھ کر رشک کرتے تھے اور جیسے آج وزیراعلیٰ سندھ کے لیے کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ لے لو، مریم نواز دے دو، تو اس وقت لاہور والے بھی بالکل ایسے ہی اپنے شہر کے لیے کراچی کے ناظم مصطفی کمال کی چاہ کرتے تھے۔
اپنی ثقافت کا تحفظ
’ایم کیو ایم‘ کے کمزور پڑتے کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی شہر میں بھی بڑے پیمانے پر ’سندھی زبان‘ اور سندھی ثقافت کی ترویج کے لیے اقدام دیکھ کر بھی کراچی والے یہ کہنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ مضبوط ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے اب تک ان کے شہر میں ان کا ثقافتی تشخص محفوظ تھا۔ بھٹو دور میں سندھ ذولسانی صوبہ تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اب جا بہ جا مرکزی سڑکوں پر اجرک رنگے ہوئے فلائی اوور، ہر صوبائی ادارے کے نام اور انداز میں صرف سندھی قومیت کا پرچار دیکھ کر مہاجروں میں شدید ثقافتی عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے، جس بنا پر وہ اب تک ’ثقافتی تحفظ‘ کا سہرا ایم کیو ایم کے سر باندھتے ہیں۔
گھر محفوظ ہوگئے!
اگر ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے کراچی والوں کو ملنے والی ’چیزوں‘ کو شمار کیا جائے، تو کراچی والے اس میں ’سماجی تحفظ‘ کو بہت اہم گردانتے ہیں۔ ان کے گھرانوں میں عام طور پر آتشیں اسلحہ رکھنے کا رواج تھا ہی نہیں۔ اس لیے انھیں لگا کہ 1965ءاور 1972ءکے بعد 1985ءکے لسانی فسادات اور 1986ءکے قصبہ علی گڑھ جیسے خوں ریز واقعات کے بعد ’ایم کیو ایم‘ کے ’یونٹ‘ اور ’سیکٹر‘ ان کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ ہر چند کہ ’یونٹ‘ اور ’سیکٹر‘ کی سطح پر بدتمیزی، غنڈہ گردی، بدمعاشی اور بھتا خوری جیسے الزامات عام ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاجر قوم میں ان کے مخالفین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے اپنے گھروں میں محفوظ ہوتے تھے۔ بدقسمتی سے کراچی جیسے بڑے شہر میں امن وامان کی ناگفتہ بہ صورت حال کی بنا پر لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد مضبوط ’ایم کیو ایم‘ ہی کو اپنا سائبان سمجھتی تھی۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے مہاجر بستیوں کو کسی ممکنہ ’خطرے‘ سے تحفظ ملا۔ بہت سے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ 2007ءمیں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد کراچی میں پیدا ہونے والی کشیدگی، بلوے اور بھگ دڑ کے ماحول میں ان کے مُحلوں پر ’ایم کیو ایم‘ کے کارکنوں کا پہرا ہی انھیں دنگے سے محفوظ رکھ سکا۔
منفرد سیاسی نمائندگی
یہ بات درست ہے کہ ماضی قریب میں حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی، کراچی کی امارت کے دوران بہت واشگاف الفاظ میں ’حق دو کراچی کو‘ کی مہم شروع کی اور اس عنوان سے پہلی بار جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے بڑی بڑی ریلیاں بھی نکالیں، لیکن جہاں ’مہاجر تشخص‘ کی بات آتی ہے، وہاں جماعت اسلامی آج بھی کافی زیادہ محتاط دکھائی دیتی۔ یہی نہیں جب صوبائی اسمبلی میں سندھ میں نئے صوبوں کے خلاف بات ہوتی ہے، تو حیرت انگیز طور پر جماعت اسلامی پیپلزپارٹی کی ہم آواز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کواکب ہیں جو کراچی میں ’ایم کیو ایم‘ کی منفرد نمائندگی کو مزید مستحکم کرتے ہیں، ہر چند کہ ماضی میں خود ’متحدہ‘ سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کی حمایت کرتی رہی ہے، لیکن لوگوں میں یہ احساس ہے کہ کراچی کے حق کے لیے ساڑھے سولہ آنے آواز ’متحدہ‘ کی جانب سے ہی اٹھائی جا سکتی ہے اور اٹھائی جاتی رہی ہے، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم کی وجہ کراچی کو ایک بھرپور سیاسی نمائندگی ملی۔
سیاسی خلا
’متحدہ‘ نے قوم کو کیا دیا؟ کا ایک جواب کراچی میں موجود ’سیاسی خلا‘ میں بھی پنہاں ہے کہ گذشتہ 10 برس سے ’متحدہ‘ زیرعتاب ہے اور اس وقت ریاست کی ایک من پسند ”ایم کیو ایم“ منظر نامے پر مختلف تجربات کے ساتھ موجود ہے، جو 23 اگست 2016ءکو ڈاکٹر فاروق ستار سے شروع ہوئی اور 2018ءمیں ڈاکٹر خالد مقبول کے سپرد ہوگئی اور پھر 2023ءمیں اس میں مصطفی کمال کی ’پی ایس پی‘ بھی ضم کر دی گئی (جو بار بار یہ کہتے تھے کہ وہ ’ایم کیو ایم‘ کو دفن کرنے آئے ہیں) لیکن زمینی سیاسی نتائج میں خاطرخواہ فرق نہ پڑ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی سیاست کی واپسی آج بھی غیرمتعلقہ نہیں ہو سکی ہے۔ ’ایم کیو ایم‘ کی بہت سی فاش غلطیوں اور سامنے دکھائی دینے والی برائیوں کے باوجود یہ حقیقت آج اپنی جگہ بہت مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
مردم شماری کی درستی
کراچی کی مردم شماری کی درستی اگرچہ بغیر الطاف حسین والی موجودہ ’ایم کیو ایم‘ کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے کسی نہ کسی طرح کوششیں کر کے کراچی کی مردم شماری میں مزید 70 لاکھ آبادی کا اندراج یقینی بنوا ہی لیا، لہٰذا کراچی کو ’ایم کیو ایم‘ کی وجہ سے حاصل فائدے اور نقصان کے باب میں ہم اس نکتے کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights