Categories
Education Exclusive Interesting Facts Media Society Tahreem Javed انکشاف پنجاب تحریم جاوید تہذیب وثقافت سمے وار بلاگ ہندوستان

’پاکستان آئیڈل‘ یا احساس کم تری؟

سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے!
ایسا لگتا ہے کہ حالات و واقعات گاہے گاہے جناب داغ دہلوی کے اس خوب صورت شعر کی تشریح کرتے رہتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اردو گو کہ اتنی خوش نصیب نہیں رہی کہ سب لوگ اسے سر آنکھوں پر بٹھایا کریں، لیکن اردو ان میں سے بہت سوں کی مجبوری ضرور رہی ہے کہ وہ اردو کے خلاف ہو کر بھی اردو کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔ ایک طرف پاکستان ہے، جہاں اردو بنیادوں میں شامل ہے، لیکن یہاں بھی اس کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے اپنی موجودگی ثابت کرتے رہتے ہیں۔ احمد فراز کی بات کی جائے کہ جو کہتے تھے کہ ”میں اردو کا کلچر نہیں مانتا۔“ یا مستنصر حسین تارڑ پر اپنے الفاظ ضائع کیے جائیں، جو سیکڑوں کی تعداد میں اردو زبان میں کتب لکھ لینے کے باوجود بھی ادو کو اپنے دل میں خاطرخواہ جگہ نہ دے سکے، نہیں معلوم اس کا سبب کیا رہا۔ احمد فراز کے معاملے میں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی افتخار عارف سے رقابت شاید اس کا سبب بنی، لیکن مستنصر تارڑ اردو کے حوالے سے نامعلوم وجوہ کی بنا پرمتنازع کلمات بار بار ظاہر کرتے رہتے ہیں۔
1971ءمیں پاکستان کے ساتھ اردو کو بھی اپنی نفرت کے بھینٹ چڑھا دینے والے ہمارے سابق مشرقی پاکستانی نفرت کی انتہا پر پہنچ کر بھی اپنے ہاں سے اردو زبان کا خاتمہ نہ کر سکے۔ اب رہ گیا ہندوستان، تو وہ بے چارے اردو کو ہندی رسم الخط میں لکھ کر جداگانہ ہونے کے معاملے میں اتنے پیچھے تو آگئے کہ اپنی زبا ن کو ’ہندوستانی‘ کہنے لگے ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ ”ہندی“ نام کی ایک نام نہاد رقیبہ کے باوجود اردو ہندوستان میں آج بھی کچھ آگے ہی بڑھی ہوگی، پیچھے بہرحال نہیں ہٹی۔ وہ لاکھ اپنی فلموں اور نغموں کو ہندی کہتے رہیں، دنیا جانتی ہے کہ وہ وہ زبان اردو کے سوا کوئی اور نہیں۔
ایک تو ہندوستانی شاعری اور گیتوں کا معاملہ ویسے ہی کبھی کمزور نہیں رہا۔ تو ان کے گائیکی کے مقابلے ’انڈین آئیڈل‘ میں بھی ہندوستان کے کونے کونے سے آنے والے ’غیر اردو‘ امیدوار اپنی مادری زبان کی طرح جس طرح اردو گیتوں پر عبور دکھاتے ہیں، وہ داغ دہلوی کے مندرجہ بالا شعر کی بہترین تشریح دکھائی نہیں دیتا۔ کیا بنگالی، مراٹھی، تمل، کنڑ، ملیالم، تیلگو، گجراتی اور پنجابی اورکیا کشمیری، آسامی، نیپالی، اوڑیہ، میتھلی اور جانے کون کون سی زبانیں بولنے والے یہاں آکر کس سلیقے سے ش اور ق ادا کرتے ہیں وہ اپنے آپ میں ایک خاصے کی چیز ہے، ان لوگوں کے لیے جو اردو سے نفرت اور اسے ناپسند کرنے کے باوجود اس کاکچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔
اب آجائیے اپنے دیش میں، جہاں ہندوستان کی طرز پر’پاکستان آئیڈل‘ کا ڈول ڈالا گیا اور 2025ءمیں شروع ہونے والے اس مقابلے میں کچھ رکاوٹیں آئیں اور بالآخر 23 اگست 2026ءکو یہ مقابلہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی حرا قیصر کے نام کر دیا گیا۔ اگر کوئی چیز پہلے سے موجود کسی دوسری چیز سے متاثر ہوکر شروع کی جائے تو پھر اس کا موازنہ لازمی طور پر اسی سے کیا جاتا ہے، یعنی کہ ہماری مراد ہے ’انڈین آئیڈل‘ سے ہے۔
پہلے ہم اپنے والے پروگرام کو دیکھتے ہیں ۔ یہ سیزن 4 اکتوبر 2025 سے 23 اگست 2026 تک چلا۔ اس میں 105 گانے گائے گئے۔ جس میں صرف 51 گانے اردو کے تھے، یہ تقریباً 48.6 فی صد رہا۔ باقی 46 گانے پنجابی تھے، یعنی 43.8 فی صد۔ باقی تین سندھی (2.9 فی صد)، دو بلوچی (1.9 فی صد)اور ایک پشتو (ایک فی صد) کے علاوہ براہوی اور دیگر زبانوں کے دو گانے (1.9 فی صد) بھی شامل رہے۔
یہ اعدادوشمار پیش کرنے کا مقصد کسی بھی دوسری پاکستانی زبان کی ہتک کرنا ہرگز نہیں، بلکہ دانستہ طور پر اس پروگرام کے ذریعے جو طریقہ اختیار کیا گیا اس پر بات کرنی مقصود ہے۔ ہم سُر تال کی کوئی خاص سمجھ نہیں رکھتے، لیکن یہ جانتے ہیں کہ فن کی کوئی زبان نہیں ہوتی، اور یہ بات کئی بار ثابت بھی ہوئی ہے کہ بہت سے ایسے گانے مقبول ہوئے کہ جو لوگوں کو سمجھ میں بھی نہیں آتےئ، لیکن لوگ پسند کرتے رہے۔ ان میں پنجابی اور سندھی کیا، پشتو سے لے کر بلوچی اور ہندوستان کی بات کیجیے تو 2012ءکے زمانے میں تمل زبان میں ’کولا ویری‘ اور حال ہی میں سری لنکا کی سنھالی زبان میں ’مانیکے ماگے ہتے‘ اس کی واضح مثال ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں جس طرح اپنی ہی اردو شاعری، غزلوں اور نغموں کے وسیع ذخیرے کو بھرپور طریقے سے نظرانداز کیا گیا، اس سے واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ اس پروگرام کا مرکزی خیال کچھ مخصوص رکھا گیا ہے، جو پروپیگنڈے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے اور احساس کم تری بھی۔
یہاں ہم انڈین آئیڈل کے بھی حالیہ سیزن کو دیکھ لیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان میں پاکستان سے کہیں زیادہ لسانی تنوع اور لسانی تخافر بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہاں واضح طور پر 94 فی صد تک گانوں کی زبان اردو تھی، جسے وہ ہندی قرار دیتے ہیں۔ 18 اکتوبر 2025ءسے 26 جولائی 2026ءتک چلنے والے اس سیزن میں 470 نغموں میں سے 446 (94.9 فی صد) اردو کے تھے۔ باقی 20 پنجابی (4.3 فی صد)، مراٹھی اور بنگالی کے ایک ایک ( 2 0.فی صد) کے علاوہ دیگر زبانوں کے دو نغمے ( 0.4فی صد) شامل رہے۔
ہندوستان جیسا کثیر السانی ملک اپنے ہاں ہندی ہی کہہ کر سہی95 فی صد جگہ اردو کو دیتا ہے، جب کہ ہم اپنی قومی زبان کہہ کر بھی اسے اپنے پروگرام میں نصف جگہ دے پاتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہندوستان میں اردو یا ہندی بولنے والوں کی تعداد48 فی صد ہے، باقی آٹھ فی صد بنگالی اور تقریباً سات فی صد مراٹھی اور اسے کچھ کم تلیگو بولنے والے ہیں، دیگر تمل، گجراتی، کنڑ اور ملیالم کے بعد پنجابی کا نمبر آتا ہے، جو صرف 2.74 فی صدبنتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ہندوستان نے اپنے وسیع ثقافتی خزانے کا پورا مان رکھا ہے۔ مگر ہم شاید اپنی کچھ مصلحتوں کا شکار ہوگئے، احساس کم تری میں مارے گئے یا پھر ہم نے ہندوستان کے معیار کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں کہ جس زبان میں وہ پروگرام کر رہا تھا، ہم بھی اسی زبان میں اپنا فن پیش کرتے اور مقابلہ کرتے۔ دوسری طرف حرا قیصر نامی گائیکا کو اس مقابلے کا فاتح قرار دینے کے بعد ناقدین نے اس پر بات کرنا شروع کر دی ہے کہ اس کی کیا وجہ تھی کہ ہم نے 80 سال کے اپنے ایک سے بڑھ کر ایک اردو مقبول خزانے سے صرف نظر کیا اور اس کے بدلے اپنی دیگر زبانوں بلکہ زیادہ تر پنجابی گانوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ جو کہ غیر ضروری بھی دکھائی دے رہی تھی۔ کچھ لوگوں نے اس نتیجے کے تانے بانے راحت فتح علی خان کے فیصل آبادی ہونے سے بھی جوڑ دیے ہیں، جو کہ ایک انتہائی نوعیت کا الزام ہے۔
اردو کی طرح ہماری دیگر تمام پاکستانی زبانیں بھی بہت خوب صورت ہیں، اگر ہم طریقے اور سلیقے کے ساتھ کام کرتے، تو ان زبانوں کا اچھا کام بھی گاہے گاہے اس مقابلے کا حصہ بنا سکتے تھے۔ فن کی کوئی زبان نہیں ہوتی، فن کا مظاہرہ کسی بھی زبان میں ہو، اگر اس میں کوئی کلا ہو تو کوئی تنگ نظر بھی ہو تو وہ بھی اس کی زبان کیا تھی؟ کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا۔ اس لیے ہندوستان کی نقالی ضرور کریں، لیکن احساس کم تری میں نہ پڑیں۔ یاد رکھیے، اردو ہندوستان سے زیادہ آپ کی ہے۔ وہاں اردو کے دشمنی بھی صرف پاکستان سے نفرت میں نکالی جاتی ہے۔ اِدھر ہم ہیں کہ اردو کو اپنا دشمن سمجھ کر بھونڈے طریقے سے اپنے آپ کو آگے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لڑکھڑا کر گہرائیوں میں گر رہے ہیں۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights