سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
سیاست میں مداخلت اور ’فن کاری‘ کوئی نیا معاملہ نہیں۔ البتہ اس کے کم یا زیادہ ہونے پر ضرور بحث کی جاسکتی ہے، ساتھ ہی ’قیادت‘ کی جانب سے اپنے نظریات سے وفاداری اور مفادات کے حصول کے حوالے سے ضرور بات ہو سکتی ہے۔ ’مصنوعی سیاست‘ اور اور ’سرکاری سرپرستی‘ میں وجود میں آنے والی سیاسی جماعتوں میں ہمیں سب سے پہلے جنرل ایوب خان کی ’کنونشن مسلم لیگ‘ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے بھی پیر پگارا کے تعاون سے اپنی ایک مسلم لیگ بنائی تھی۔ وہ خود اس کے کوئی عہدے دار نہیں بنے، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مسلم لیگ ہر سرکاری مسلم لیگ سے زیادہ زرخیز نکلی۔ اسی سے مسلم لیگ جونیجو، مسلم لیگ جناح، مسلم لیگ فنکشنل کے ساتھ خود مسلم لیگ ن جیسی جماعت بھی قائم ہوئی۔ پھر 1999ءمیں ایک بار پھر ’کڑا وقت‘ آیا ، جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آگئے، تو انھوں نے بھی جنرل ضیا کی طرح اپنے لیے ایک مسلم لیگ بنائی، اور خود اس کے براہ راست عہدے سے دور رہے، لیکن اس ’کنگز پارٹی‘ نے انھیں سیاسی طور پر مکمل معاونت فراہم کی۔ ضیا الحق کی مسلم لیگ کے برعکس یہ الگ سے وجود میں نہ آئی، بلکہ اسے مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر برآمد کیا گیا سو اس کا حشر بھی جنرل ایوب کی ’کنونشن لیگ‘ جیسا ہوا۔ جیسے ہی پرویز مشرف کا اقتدار کمزور ہوا، سرکاری ق لیگ واپس اپنی ’ن لیگ‘ میں جانے لگی، اسی میں سے اعجاز الحق نے اپنی ’ضیا لیگ‘ بنالی، تو شیخ رشید نے ’عوامی مسلم لیگ‘ کا جھنڈا لہرا دیا۔ اسی پر بس نہیں، گجرات کے جن چوہدریوں کے گھر کی یہ جماعت تھی، اس میں سے بھی پرویز الٰہی عمران خان کے سائے میں جا چکے ہیں اور ’ق لیگ‘ نامی سیاسی پرچم چوہدری شجاعت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ ہماری سیاست میں صرف سرکاری سرپرستی اور مداخلت کے حوالے سے ایک مختصر سی تمہید تھی۔ یہ سارے واقعات صرف فوجی حکومتوں کی مدد کے واسطے سے ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سی سیاسی جماعتوں کو ’اندر‘ سے توڑ کر کام نکالے گئے ہیں، جس میں 2022ءمیں تحریک انصاف کا برا وقت شروع ہوا تو اس میں ’استحکام پاکستان پارٹی‘ نام کر کے ایک جماعت بنی، جو چلنا تو دور کی بات سیدھی طرح سے اٹھ کر بیٹھ بھی نہ سکی تاہم ’ایم کیو ایم‘ کو توڑنے کے لیے سرکار نے شاید کسی بھی سیاسی جماعت سے زیادہ زور لگایا۔ فوجی آپریشنوں سے پولیس کے ماورائے عدالت قتل اور رینجرز کے بے رحمانہ چھاپوں اور سادہ لباس افراد کی کارروائیوں کے سائے میں اس جماعت پر نقب لگانے کے کئی واقعات سامنے آئے، جس میں 1992ءمیں ’ایم کیو ایم (حقیقی) اور 2016ءمیں ’پی ایس پی‘ (پاک سرزمین پارٹی) کا جنم قابل ذکرہیں۔
1992ءاور 2016ءکے طریقہ واردات میں بہت سی مماثلتیں تھیں تو بہت سے فرق بھی موجود تھے۔ تاہم 2016ءوالا تجربہ عملی طور پر 1992ءسے زیادہ ناکام رہاہے کہ اسے بنانے والا شخص مصطفی کمال جس پارٹی کو دفن کر دینے کے دعوے کرتے تھکتا نہ تھا، آج خود اسی جماعت کا ”مرکزی راہ نما“ کہلاتا ہے۔
2016ءکے واقعے کو 2026ءمیں پورا ایک عشرہ تمام ہوچکا ہے۔ یہ بات تو متعدد بار ثابت ہو چکی ہے کہ یہ ناکام ترین سیاسی انجینئرنگ کے دس سال ثابت ہوئے ہیں۔ کہنے کو 2016ءکے مارچ میں مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے دبئی سے کراچی آکر’پی ایس پی ‘ قائم کی، لیکن سیاسی انجینئرنگ میں اصل موڑ 22 اگست 2016ءمیں آیا کہ جب ’ایم کیو ایم‘ کی کراچی رابطہ کمیٹی نے لندن میں موجود اپنے قائد الطاف حسین کے ایک ناپسندیدہ نعرے کی بنیاد پر ان سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس میں سب سے زیادہ لطف کی بات یہ ہے کہ لندن میں موجود قائد نے بھی کراچی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کو تسلیم کرلیااور دو روز بعد کراچی اور حیدآباد کے میئر منتخب ہونے کا مرحلہ ہوا اور وسیم اختر کراچی اور طیب حسین حیدآباد کے میئر منتخب ہونے میں کام یاب ہوئے۔

وسیم اختر میئر کراچی منتخب ہونے کے بعد نائب میئر ارشد وہرہ کے ساتھ
لگ بھگ دو ماہ تک الطاف حسین کی یہ سرپرستی موجود رہی، لیکن پھر یہ اعتماد ختم ہوا اور الطاف حسین نے کراچی میں اپنی الگ رابطہ کمیٹی کا اعلان کر دیا۔

پندرہ اکتوبر 2016 کو ڈاکٹر حسن ظفر عارف بانی متحدہ الطاف حسین کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی کے ارکان پہلی پریس کانفرنس کا اعلان کر رہے ہیں۔ کنور خالد یونس، مومن خان مومن، ساتھی اسحق، امجد اللہ ودیگر نمایاں ہیں۔
دوسری طرف نومبر 2017ءمیں نادیدہ قوتوں نے کراچی میں ’ایم کیو ایم‘ (بہادرآباد) اور ’پاک سرزمین پارٹی‘ کو ’متحد‘ کرنے کی کوشش کی، جو بعد کے بیانات اور کارکنوں کی زبردست مزاحمت کے بعد پہلی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد 24 گھنٹے بھی نہ چل سکی ۔ صورت حال یہ تھی کہ فاروق ستار نے الطاف حسین کی طرح قیادت چھوڑ کر دوبارہ کارکنان کے کہنے پر مسند سنبھالی تھی۔

کراچی پریس کلب میں 2017 میں فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کا انضمام

نو نومبر 2017 کو دل برداشتہ فاروق ستار قیادت چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں، وسیم اختر اور نسرین جلیل انھیں روک رہے ہیں۔
اس کے کچھ دنوں بعد سینیٹ کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ڈاکٹر فاروق ستار ناراض ہو گئے۔ مارچ 2018ءمیں ان کی جگہ خالد مقبول کو نیاکنویئر بنا دیا گیا، وہ عدالت میں ’ایم کیو ایم‘ کی قیادت کی لڑائی بھی ہار گئے، یوں قائد سے لاتعلقی کے بعد ایم کیو ایم‘ پھر قیادت کی ’تبدیلی‘ سے گزری۔ جولائی 2018ءعام انتخابات سے قبل ڈاکٹر فاروق ستار واپس ایم کیو ایم میں آگئے، کراچی سے صرف چار ارکان قومی اسمبلی ہی منتخب ہوسکے اور کچھ عرصے بعد فاروق ستار دوبارہ خفا ہوگئے۔

مارچ 2018 میں رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کی جگہ خالد مقبول کو کنوینر بنانے کا اعلان کر رہی ہے
دوسری طرف ایم کیو ایم (لندن)کہلانے والی تنظیم کے لیے ڈھکی چھپی سیاسی سرگرمیوں کے لیے بھی گنجائش ختم ہوتی چلی گئی۔ کراچی میں ان کی رابطہ کمیٹی کے ارکان پہلے تو گرفتار رہے۔ پھر جنوری 2018ءمیں لندن رابطہ کمیٹی کے انچارج ڈاکٹر حسن ظفر عارف ایک ویرانے میں پراسرار موت کا شکار ہوگئے، یوں الطاف حسین کی جانب سے2018ءکے عام انتخابات میں بائیکاٹ کر دیا گیا اور لندن کی رابطہ کمیٹی کے کراچی میں باقی ارکان غیرفعال ہوگئے ، عملاً الطاف حسین سے وابستہ لوگ مکمل روپوشی میں چلے گئے۔

الطاف حسین کی رابطہ کمیٹی کے اعلان کے ایک ہفتے بعد 22 اکتوبر 2016 کو ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو کراچی پریس کلب سے گرفتار کرکے لے جایا جا رہا ہے
حالت یہ رہی کہ نو دسمبر کو ایم کیو ایم کے ’یوم شہدا‘ پر جناح گراﺅنڈ میں فاتحہ خوانی نہیں کرنے دی جاتی۔ 17 ستمبر کو الطاف حسین کی سال گرہ کے کیک بنوانے اور کٹوانے تک کی مخبریاں کی جاتی ہیں، انتہا تو یہ ہے کہ ’ہاکس بے‘ کے ساحل پر منچلوں کی ایک ویڈیو آتی ہے جس میں الطاف حسین کے ترانے پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہوتا ہے، ان کے چہروں کو ’نادرا‘ کی مدد سے شناخت کرکے ان کے گھروں تک سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ دسمبر 2018ءمیں ڈاکٹر فاروق ستار گرو پ سے وابستہ سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی بھی اپنے گھر کے باہر نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے، وہ ایم کیو ایم کے تمام گروہوں کے اتحاد کے لیے کام کر رہے تھے۔ ستمبر 2022ءمیں اندرون سندھ سے ایم کیو ایم کے چھے سال سے لاپتا تین کارکنان عرفان بصارت، وسیم راجو اورعابد عباسی کی لاشیں بھی برآمدہوئیں، حیدرآباد میں 5 جولائی2026ءکو الطاف حسین کے ایک زیر حراست کارکن کی سعید مہاجر کی جان گئی، کراچی میں بھی ایسے کئی زیرحراست کارکنان اس دوران اپنی جان کھو بیٹھے۔

9 دسمبر 2016 کو ایم کیو ایم لندن کے کارکنان مکا چوک پر جمع ہیں
12 جنوری 2023ءکو چشم فلک یہ حیران کن منظر دیکھتا ہے کہ وہ کامران ٹیسوری جن کو سینٹیر بنوانے کے اصرار پر فاروق ستار ایم کیو ایم کی قیادت سے باہر ہوگئے، وہی کامران ٹیسوری بطور گورنر سندھ ’افہام وتفہیم ‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے مصطفی کمال کی ’پی ایس پی‘ اور ڈاکٹر فاروق ستار کی ’تنظیم بحالی کمیٹی‘ کو ڈاکٹر خالد مقبو ل کی بہادرآباد ایم کیو ایم میں گھلا ملا دیتے ہیں۔جس سے اس مفروضے کا تو خاتمہ ہوجاتا ہے کہ الگ رہنے سے ان دھڑوں کا ”ووٹ“ تقسیم ہو رہا ہے، انھیں ساتھ مل کر ایک ’طاقت‘ بننا چاہیے۔ طاقت تو خیر کیا بنی، قیادت کی دال جوتیوں میں بٹنے لگی، بیان بازیوں سے بات گریبانوں اور بہادآباد کے عارضی مرکز پر فائرنگ تک پہنچ چکی ہے، لیکن ’مجبوریوں‘ نے انھیں ابھی تک ایک تصویر میں جوڑے رکھا ہوا ہے۔ خالد مقبول اور مصطفی کمال باربار ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف تڑیاں بھی لگاتے ہیں، اپنے جلسے تک الگ الگ کرتے ہیں، لیکن ریاست کی ’چھتری‘ ایسی ہے کہ دونوں کو ابھی تک باندھ کر رکھا ہوا ہے۔
فروری 2024ءکے عام انتخابات میں ”مضبوط“ دکھانے کے واسطے ”ایم کیو ایم“کو بہت سی نشستیں دلوا دی گئیں، لیکن عملی طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ مصنوعی چھتری تلے چلنے والا بہادرآباد گروپ کسی بھی تانگہ پارٹی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ پہلے اکثریتی جماعتوں کے راہ نما ووٹ لینے ’نائن زیرو‘ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتے تھے، اب حالت یہ ہے کہ انھیں اسلام آبا طلب کیا جاتا ہے۔
2024ءمیں انتخابی مہم کے آخری وقت میں ’لندن‘ سے الطاف حسین کے حمایت یافتہ مختلف انتخابی نشانوں کے آزاد امیدواروں کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد ان امیدواروں کے گھروں پر چھاپے پڑے، بہت سوںکو لاپتا کر دیا گیا۔ ایسے میں انتخابی مہم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود انھیں معقول تعدا میں ووٹ پڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں، آخر میں نتائج روک کر ’بہادرآباد ‘ گروپ کے ارکان کی جیت کا اعلان کیا گیا، جسے فارم 47 کی متنازع جیت کہا جاتا ہے۔

بائیس اگست 2016 کی رات کو کراچی پریس کلب آمد پر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز گرفتار کرکے لے جا رہی ہے

(رہائی کے بعد 23 اگست 2016 کو فاروق ستار الطاف حسین سے الگ ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس موقع پر عقب میں خواجہ سہیل منظور، اقبال ڈپٹی، آصف حسنین، وقار شاہ، محمد حسین، انور ترین اور ساتھی اسحق کے ساتھ شازیہ پٹنی بھی موجود ہیں، جب کہ عامر لیاقت، نسرین جلیل کے علاوہ خواجہ اظہار اور خالد مقبول بھی فاروق ستار کے ساتھ ہیں۔ نسرین جلیل کے پیروں کے پاس سمیتا افضال بیٹھی ہوئی ہیں، جب کہ میز کی دوسری طرف ہیر سوہو کو بھی دیکھا جاسکتا ہے)،
آج 23 اگست 2026ءکو 2016ءمیں الطاف حسین سے الگ ہونے کو پورے 10 سال ہو چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ صورت حال کا کچھ تجزیہ کیا جائے۔ یہ درست ہے کہ تحریک کسی بھی شخصیت کی محتاج نہیں ہوتی، قائد یا راہ نما اپنا نظریہ دے دیتا ہے، اس کے بعد اس نظریے کے ماننے والے اسے آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم بھی خود کو ایک تحریک کہتی ہے، تحریکوں کو ایسے بحران اور دباﺅ کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور 22 اگست 2016ءکے بحران کا آنا بھی اچنبھے کی بات نہیں تھی کہ جب انھیں اپنے قائد ہی کو چھوڑ کر تحریک چلانی پڑی، لیکن دس برسوں میں اب یہ امر پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے کہ الگ ہونے کا یہ قدم تحریکی سوچ یا جدوجہد کسی بھی صورت میں نہ تھی، یہ 23 اگست کا اقدام سراسر ریاستی دباﺅ کا نتیجہ تھا، ایک ریاستی جبر تھا، جس کے تحت اپنے بانی اور قائد کو چھوڑا گیا، بدقسمتی سے سیاسی منظر پر موجود ان سینئر راہ نماﺅں کی اپنی کوئی تحریکی تربیت یا کوئی سوچ موجود نہ تھی کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے نظریے کو آگے بڑھا سکیں اور اپنی تحریک کے مقاصد کو حاصل کرسکیں۔

بائیس اگست کی رات فاروق ستار گرفتاری سے قبل پریس کانفرنس کی مہلت مانگ رہے ہیں
ہمارے سینئر صحافی اور تجزیہ کار فیصل حسین کہتے ہیں کہ ”ایم کیو ایم کے ان ارکان نے اتنا مال بنا لیا تھا کہ اسے خرچ کرنے کے لیے ’لندن‘ سے لائن کاٹنا ضروری ہوگیا تھا، ورنہ وہ اس مال کو کیسے خرچ کرتے؟‘ ‘کراچی والے جانتے ہیں کہ سب کی طرح ایم کیو ایم بھی دودھ کی دھلی ہوئی نہیں، لیکن یہ اس قدر میلی بھی نہیں کہ جتنا کوئی ’مالا کنڈ کا دانش وَر‘ یا ’لورالائی کا تجزیہ کار‘ آکر ہمیں پڑھاتا ہے۔ دراصل پس ماندہ علاقوں اور دیہاتوں میں پیدا ہونے والے اپنے اسی پس منظر کے ساتھ کراچی والوں کو ’شکارپوریا‘ سمجھ کر ”حب الوطنی“ اور ”امن پسندی“ کے جو سستے ترین بھاشن دینے کی کوشش کرتے ہیں، اگر اس کے بہ جائے وہ اپنے شہر اور اپنے علاقوں کی پس ماندگی دور کریں اور وہاں کے مسائل پر نظر رکھیں تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔
چوں کہ یہاں کا نظام، ہمارے ’تعلیم یافتاﺅں‘ کے ذہنوں سے لسانی تعصب کے پردے نہیں اتار سکا، تو کراچی کے غم میں ہلکان کسی ’غیر مقامی‘ سے کیا ہی شکوہ کیجیے کہ وہ آج 2026ءکے زمانے میں بھی 1990ءکے ”تکبیر“ رسالے کے تیسرے درجے کے چغد قاری سے زیادہ کچھ بھی آگے نہیں دیکھ سکتا۔ اسے آج کے 10 سال کے ریاستی جبر کے حوالے سے لب کشائی کی زحمت تو درکنار، الٹا ابھی تک سرکار کی بتائی ہوئی بوری بند لاشیں اور ڈرل زدہ کھوپڑیوں سے آگے سوچنے کی سکت ہی نہیں آسکی ہے۔ جب ذہن میں دلیل اور وسعت کے بہ جائے تعصب کی غلاظت اور نفرت کی تنگ نظری ہو اور آپ کو کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاسی راہ نما ہی کے صحیح یا غلط کرتوت کی آڑ میں کسی قوم سے اپنی باطنی نفرت کے اظہار کا موقع مل رہا ہو تو نام نہاد پاکستانی کہلانے والا کوئی بھی بدبخت صحافی یا دانش وَر اس سے کبھی پیچھے نہیں رہا۔ یہ نہ کسی مذہبی نظریے کے ماننے والے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی غیر مذہبی فکر ہوتی ہے، کیوں کہ یہ جنگل کے قانون والے معاشرے کے کسی جنگلی سے بھی بدتر ہیں، جو کہتا ہے کہ بس جو مجھے اچھا لگتا ہے صرف وہی اچھا ہے، جس کو جی چاہے جلا دو اٹھا کر مار کر پھنک دو، کوئی مسئلہ نہیں۔ اور جو مجھے پسند ہے میری قوم کا ہے، پھر اس کے تو سو خون بھی معاف ہیں۔ اس لیے ایسے ’غیر قوم‘ کے لوگوں سے تو کوئی شکوہ نہیں، اصل بدبختی اس قوم کے اپنے اور اس شہر کے بسنے والے وہ اہل قلم ہیں، جو بدترین منافق اور انتہا کے بے شرم واقع ہوئے ہیں۔ انھوں نے ہی اپنے کنفوژ خیالات سے اس ملک کے بدبودار لوگوں کو شے دی ہے اور کبھی ناکام سیاسی انجینئرنگ پر ایک لفظ تک نہیں کہا۔
آج کراچی کی سیاست پابہ زنجیر ہے، لیکن منافق کا قلم اور زبان گنگ ہے۔ ہمارا نام نہاد لبرل شاید صرف ڈالروں کی آمد دیکھ کر ہی اپنا منھہ کھولتا ہے، اس لیے وہ کراچی والوں کے بنیادی حقوق کے لیے کوئی اچھل کود کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ سیاسی اصولوں اور انسانی حقوق کا کوئی گوشوارہ کراچی والوں کے واسطے نہیں کھولا جاتا، یہاں جس طرح من چاہے لوگوں کو ’سیاست‘ کے نام پر مسلط کر دیا گیا، اس پر کوئی لب کشائی نہیں کرتا۔ دس سال میں یہاں کتنے لوگوں کو لاپتا کیا گیا، کتنے لوگ مار دیے گئے، کتنے اسیر ہوگئے، کتنے گم نام ہو کر بیٹھ گئے۔ اس پر کوئی دانش ور کالم نہیں لکھتا۔ ’جیو نیوز‘ کے شاہ زیب خان زادہ اور ’اے آر وائی‘ کے وسیم بادامی جیسے کراچی والے اینکروں کی تو گردن پتلی ہے، کہ ہم ان کے نام لے کر اپنی ساری بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ جب کہ اصل مجرم تو وہ سینئر صحافی اور اہل قلم ہیں، جو بدقسمتی سے ہمارے اساتذہ میں سے بھی ہیں۔ ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم ان کے نام لے کر کوئی اصولی اختلاف بھی کریں۔ لیکن کیا ان کو نہیںپتا کہ کراچی میں 10 سال سے کیسا ریاستی جبر جاری و ساری ہے؟
کیا کراچی والوں کو یہ لوگ انسان نہیں سمجھتے ؟ کیا کراچی والے اپنی شناخت اور اپنے بنیادی سیاسی اور انسانی حقوق کے اہل نہیں ہیں؟ کیا انھیں اپنے وسائل اپنے گلی، محلے اور اپنے شہر پر اپنے نمائندے چننے کا کوئی حق نہیں؟
شاید نہیں ہے! کیوں کہ ہمارے یہ بدبخت قلم کار اساتذہ اور سینئر صحافی خود کسی بھی قسم کی شرم سے عاری ہیں۔ انھیں پتا ہے کہ اس شہر کا سیاسی انتخاب ان کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے، اس لیے وہ مرجائیں گے لیکن اپنی یہ منافقت نہ چھوڑیں گے۔
باقی کوئی ہمارے بارے میں بھی کوئی چھاپ لگاتا ہے، تو جناب، جب ہمارے شہر کے قریب المرگ صحافی بدبخت ہوجائیں، کالم نگار منافق، ادیب بکاﺅ اور شاعر بے شرم ہوں، تو پھر ہم ایسے شہر میں اپنے لیے ایسی ’چھاپ‘ کو تو اعزاز سمجھتے ہیں۔ ہم نے صرف حق اور سچ کی ، اصول، دلیل، قانون اور آئین کی عمل داری کی بات کی ہے۔ کراچی والوں کے لیے بھی بالکل اسی قانون اوراسی اصول کی بات کی ہے جو یہاں اسٹیبلشمنٹ کے کسی لاڈلے کو حاصل ہے۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں، تو پھر آپ ہماری نہیں بلکہ اپنی فکر کیجیے کہ ایسی گھٹیا اور تنگ سوچ رکھ کر دراصل آپ کون ہوئے؟
پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اتنے طویل عرصے تک ریاستی جبر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جماعت اسلامی نے جنرل ایوب خان کے مختصر دور میں ریاستی پابندی سہی۔ پیپلز پارٹی کو جنرل ضیا کے نو برس ہی کے جبر کو سہنا پڑا۔ 1986ءمیں بے نظیر کی لاہور آمد اس جبر کے خاتمے کا اظہار تھی۔ نواز لیگ کو 1999ءمیں اس سختی کو سہنا پڑا، اس کا دورانیہ بھی سات سے آٹھ سال رہ سکا، لیکن ’ایم کیو ایم‘ کو 1992ءمیں ’حقیقی‘ کے سخت جبر کے ذریعے توڑا گیا، ’جناح پور‘ بنانے کے الزام میں ایک سال تک فوجی آپریشن سہنا پڑا۔ ساتھ ہی چیئرمین عظیم طارق کے ذریعے بھی تنظیم کے اندرایک دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ 1995ءمیں بے نظیر بھٹو نے انسانیت سوز جرائم کا ریکارڈ قائم کیا اور پولیس آپریشن کے ذریعے فسطائیت کی نئی داستان رقم کی۔ سال بھر کے اس آپریشن کے بعد1998ءمیں حکیم محمد سعید کے قتل کا الزام لگاکردوبارہ ایک آپریشن جیسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں وزیراعظم نوازشریف نے ’ایم کیو ایم‘کے کارکنان کو فوجی عدالتوں کے بھینٹ چڑھانے کے نئے سلسلے کا آغاز کیا، جس میں ایک کارکن کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی ہوا، پھر 1999ءکے شروع میں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو خلاف آئین قرار دے دیا، پھر اکتوبر1999ءمیں نواز شریف بھی وزیراعظم نہ رہ سکے۔
اس کے بعد2014ءکے بعد سے شروع ہونے والا آپریشن 2015ءمیں نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے تک پہنچا تو الطاف حسین کے سخت بیانات کے بعد انھیں اخبارات سے لے کر تمام ذرائع ابلاغ پر مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ مارچ 2016ءمیں نئی حقیقی ’پی ایس پی‘ کی صورت میں سامنے لائی گئی اور پھر کارکنان کی گرفتاری اور گم شدگی کے خلاف 22 اگست کی بھوک ہڑتال میں الطاف حسین نے ’کراچی پریس کلب‘ میں ریاست مخالف نعرے لگا دیے اور پھر ڈاکٹر فاروق ستار نے تنظیم کی کمان سنبھال لی۔ تنظیمی مرکز ’نائن زیرو‘کو سیل کردیا گیا، (جسے کچھ سال بعدآگ لگا کر بھسم کر دیا گیا) شہر بھر میں ایم کیو ایم کے 100 زائد دفاتر ناجائز قرار دے کر بلڈوز کردیے گئے۔کچھ برس بعد جناح گراﺅنڈ میں قائم ’ایم کیو ایم‘ کے شہدا کی یادگارکو ’نامعلوم افراد‘ نے توڑ پھوڑ دیا، وہاں الطاف حسین کے خلاف نعرے بھی لکھے۔ اگست 2016ءکے واقعے کے بعد ہی نائن زیرو کے نزدیک واقع ’مکا چوک‘ سے شہر بھر کی طرح الطاف حسین کی تصاویر ہٹا دی گئیں، پھر اس مکے کو ایک ڈبا لگا کر چھپا دیا گیا اور پھر دسمبر 2017ءکو اچانک اس مکے کو وہاں سے نکال دیا گیا۔
پیپلزپارٹی کے علاوہ اگر کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو پھانسی دی گئی ہے تو وہ ’ایم کیو ایم‘ ہی ہے۔ 1998ءمیں فوجی عدالت سے پھانسی کے بعد 2015ءمیں ایم کیو ایم کے 16 سال سے قید کارکن صولت مرزا کو قتل کے مقدمے میں پھانسی دی گئی، ان کی پھانسی پر عمل درآمد1999ءسے موخر کیا جا رہا تھا، اس موقع پر ان کی الطاف حسین کے خلاف بیانات کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئیں اور نائن زیرو پر چھاپے کے بعد یہ ویڈیو تواتر سے سامنے آئیں، تاہم اس کے باوجود 12 مئی 2015ءکو انھیں بلوچستان کی مچھ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

(حکومت کی طرف سے جاری کردہ اشتہار کا عکس)
ایم کیو ایم ہی واحد سیاسی جماعت ہے کہ جس کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق سمیت کئی کارکنان کی خطرناک مجروم کی سروں کی قیمت مقرر کی گئی۔ 1992ءمیں جلاوطن رہتے ہوئے الطاف حسین 2016ءتک اپنی جماعت کی قیادت کرتے رہے۔ 2016ءکے بعد پہلی بار صورت حال یہ ہوئی کہ کراچی میں پوری تنظیم الطاف حسین سے الگ ہوگئی اور کنور خالد یونس کے سوا کسی دیرینہ رکن نے اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا، ان کے ساتھ ڈاکٹر حسن ظفر عارف، ساتھی اسحق، مومن خان مومن، امجد اللہ جیسے بعد میں شامل ہونے والے ارکان آئے۔ ان میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی موت کے بعد باقی سب غیر فعال ہوچکے۔ عزیز آباد سے متنخب سابق رکن قومی اسمبلی نثار بنہور اب بھی الطاف حسین کے حامی ہیں اور اسی پاداش میں ایک بار پھر اپنے بیٹے کے ہمراہ لاپتا ہیں۔ قبل ازیں منور ترین بھی الطاف حسین سے وفاداری کی پاداش میں لاپتا رہ چکے۔ اس کے علاوہ الطاف حسین گروپ کے سرگرم رکن آفتاب بقائی کا 8 اکتوبر 2025ء میں انتقال ہوچکا۔ ان دنوں جوہر عابد ایڈووکیٹ ہلکی پھلکی سیاسی سرگرمیاں کرتے ہوئے نظر آجاتے ہیں، بالخصوص 27 دسمبر 2025ءکو عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران کے جنازے میں ان کی بھرپور شرکت پر مصطفی کمال کو اگلے دن آپے سے بے آپے پریس کانفرنس کرنا پڑ گئی تھی۔
2002ءمیں ’ایم کیو ایم‘ حکومت میں شمولیت کے بعد امید ہو چلی تھی کہ کراچی کے سیاسی معاملات اب ’مداخلت‘ سے آگے بڑھ جائیں گے، لیکن بدقسمتی سے 12مئی 2007ءکے بعد صورت حال بہ تدریج خراب کی جاتی گئی اور 2015ءمیں ’نائن زیرو‘ پر چھاپے اور بھرپور میڈیا ٹرائل کے باوجود عزیز آباد کے ضمنی انتخاب میں رینجرز کی کڑی نگرانی میں تحریک انصاف کے عمران اسمعیل متحدہ کے کنور نوید کے 93ہزار ووٹ کے مقابلے میں 22 ہزار ووٹ لے سکے۔ اگست 2015ءسے الطاف حسین کے بیانات شائع اور نشر ہونے پر پابندی کے بعد بھی دسمبر 2015ءمیں ایم کیو ایم نے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ’دو جماعتی اتحاد‘ کو بہ آسانی شکست فاش سے دوچار کر دیا۔ اس کے بعدمارچ 2016ءمیں ’پی ایس پی‘ کے آنے کے بعد بھی ’ایم کیو ایم‘ کا مینڈیٹ اپنی جگہ موجود رہا اور قرائن بتاتے ہیں کہ اصل ایم کیو ایم آج بھی اپنا ویسا ہی وجود رکھتی ہے ۔ ان 10 سالوں میں طرح طرح کے سیاسی تجربات کے باوجود ذرا بھی من چاہے نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ ایسے میں بجا طور پر یہ سوال ہے کہ کراچی میں ناکام ترین سیاسی انجینئرنگ کے 10 سال کے بعد بھی سیاسی آزادی ملنے کی کوئی امید ہے یا کراچی والوں کی سیاسی رائے کو زنجیروں میں رکھے رہنے کا سلسلہ جاری رہے گا؟؟
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
