سمے وار (تحریر: مریم عمر)
میری اُن سے ملاقات اُس وقت ہوئی جب میں ایک خالی کلاس روم میں اکیلی بیٹھی ہوئی تھی۔ اُس وقت تک میں دوستیوں اور لوگوں سے وابستہ توقعات سے کسی حد تک دست بردار ہو چکی تھی۔ میں نے یہ مان لیا تھا کہ شاید کچھ لوگوں کی زندگی میں اُن کے اپنے لوگ نہیں ہوتے، شاید کچھ لوگ کسی سے تعلق قائم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، اور شاید اُن کی قسمت میں کبھی ایسا شخص نہیں لکھا ہوتا جس کے ساتھ وہ خود کو مکمل محسوس کر سکیں۔ میں نے بھی یہی سمجھ لیا تھا کہ شاید میں اُنھی لوگوں میں سے ایک ہوں۔
پھر وہ آئے۔ انھوں نے خود مجھ سے بات شروع کی، بغیر کسی وجہ کے، بغیر کسی خاص ضرورت کے۔ بس ایک عام سا سوال پوچھا، ’’تمھارا نام کیا ہے؟‘‘
مجھے لگا یہ بھی عام سی رسمی گفتگو ہے، جو چند جملوں کے بعد ختم ہو جائے گی اور جس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلے گا۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک اجنبی کا یوں اچانک مجھ سے بات کر لینا میری زندگی کے بارے میں میرے پورے نظریے کو بدل کر رکھ دے گا۔
دن گزرتے گئے، باتیں بڑھتی گئیں اور گفتگو کی گہرائی میں اضافہ ہوتا گیا۔ مجھے ایک ایسا شخص مل گیا تھا جو نہ صرف میری طرح سوچتا تھا، بلکہ میری سوچ کے پیچھے چھپی وجوہات کو بھی سمجھتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ میں کسی بات کو کس نظر سے دیکھتی ہوں، میرے خیالات کہاں سے جنم لیتے ہیں، اور بعض اوقات میرے الفاظ سے زیادہ میری خاموشی کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
وقت جیسے ہمارے درمیان سے گزرنے کے بہ جائے ہمارے ساتھ گزرنے لگا۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے عادی ہو گئے کہ جہاں وہ ہوتے، وہاں میرا ہونا بھی لازمی سمجھا جاتا، اور جہاں میں ہوتی، وہاں اُن کی موجودگی کی توقع کی جاتی۔ کلاسیں ہوں، تقریبات ہوں یا کیفے ٹیریا میں یونہی بیٹھ کر وقت گزارنا، ہم ہر جگہ ساتھ ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ ہمارا تعلق اس مقام پر پہنچ گیا جہاں ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ وہ میری خاموشی میں چھپی بات سمجھ لیتے تھے، اور میں اُن کے چہرے سے اُن کے خیالات پڑھ لیا کرتی تھی۔
میرے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔
کیونکہ اپنے باقی تمام رشتوں میں، چاہے وہ خاندانی ہوں یا دوستانہ، میں ہمیشہ وہ شخص رہی تھی جو دوسروں کو سمجھتا تھا۔ اُن کی ضروریات، اُن کی خواہشات، اُن کے احساسات، اُن کی خاموشیاں، حتیٰ کہ وہ باتیں بھی جو وہ خود زبان پر نہیں لا پاتے تھے۔ میں ہمیشہ یہ کوشش کرتی تھی کہ کوئی خود کو میرے سامنے غیر سمجھے جانے کا احساس نہ کرے۔ لیکن کہیں نہ کہیں میرے دل میں بھی ایک خواہش تھی کہ کبھی کوئی میرے لیے بھی ایسا ہو۔ کوئی ایسا جو مجھے سمجھنے کے لیے مجھے ہر بات کی وضاحت کرنے پر مجبور نہ کرے، کوئی ایسا جس کے سامنے مجھے اپنے احساسات کا ترجمہ نہ کرنا پڑے۔
اور پھر یہ شخص میری زندگی میں آیا۔
وہ میری اُن تمام خواہشات کی تصویر بن گیا جنھیں میں نے کبھی اپنے دل میں خاموشی سے جگہ دی تھی۔ یا شاید مجھے ایسا لگتا تھا۔
آپ نے کبھی یہ جملہ سنا ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات سوچ سمجھ کر مانگنی چاہئیں؟
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خواہشات پوری ہونے کے بعد صرف خوشیاں لاتی ہیں، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر خواہش اپنے ساتھ کچھ ایسے نتائج بھی لا سکتی ہے جن کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے۔
میں ہمیشہ یہ سمجھتی آئی تھی کہ شاید کائنات میرے خلاف ہے، شاید خوشی میرے حصے میں لکھی ہی نہیں گئی، اور شاید میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کسی کی توجہ اور اپنائیت کے مستحق ہوتے ہیں۔ لیکن اس شخص نے آہستہ آہستہ میرے ان تمام خیالات کو بدلنا شروع کر دیا۔ اُن کی موجودگی نے مجھے یہ یقین دلایا کہ میں بھی خوش رہ سکتی ہوں، کہ میں بھی کسی کے لیے اہم ہو سکتی ہوں، اور یہ کہ شاید مجھے بھی وہ اپنائیت مل سکتی ہے جس کی مجھے ہمیشہ تلاش رہی تھی۔
پھر تبدیلی آئی۔
یہ اچانک نہیں ہوئی تھی، بالکل نہیں۔ یہ تبدیلی بہت آہستہ آہستہ آئی، اتنی خاموشی سے کہ شروع میں مجھے اس کے آنے کا احساس تک نہ ہوا۔ پہلے پیغامات کا جواب ملنا بند ہوا، پھر فون کال کا جواب آنا کم ہو گیا۔ اس کے بعد ملاقات کے منصوبے منسوخ ہونے لگے، اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جب ہم شاذ و نادر ہی ایک دوسرے کو دیکھ پاتے تھے۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ میں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ شاید غلطی اُن کی ہو سکتی ہے۔
میرا ذہن بار بار ایک ہی سوال کی طرف لوٹتا تھا: میں نے کیا غلط کیا؟
کیا میں نے کوئی ایسی بات کہہ دی تھی جو انھیں بری لگی؟ کیا میں نے کسی نامناسب بات پر ہنس دیا تھا؟ کیا میرے کسی مذاق نے انہیں اس طرح تکلیف پہنچائی تھی جس کا مجھے احساس بھی نہیں ہوا؟ کیا میں نے ان جانے میں اُس تعلق کو نقصان پہنچا دیا تھا جسے میں اتنی اہمیت دیتی تھی؟
میرا پہلا خیال ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ قصور میرا ہی ہوگا، ہے نا؟
شاید یہی میری سب سے بڑی کمزوری تھی۔ میں دوسروں کے رویّوں میں تبدیلی کا سبب بھی خود کو ہی سمجھتی تھی۔ اگر کوئی مجھ سے دور ہو جائے تو میں یہ سوچنے کے بہ جائے کہ اُس نے ایسا کیوں کیا، یہ سوچنے لگتی تھی کہ مجھ میں ایسی کیا کمی تھی جس نے اُسے مجھ سے دور ہونے پر مجبور کر دیا۔
دن اور راتیں پہلے سے زیادہ اداس ہونے لگیں۔ جس شخص کی موجودگی نے میری زندگی میں روشنی پیدا کی تھی، اُس کی غیر موجودگی نے جیسے وہ ساری روشنی اپنے ساتھ سمیٹ لی تھی۔
لیکن ہمیں تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی آپ کے پیغام کا جواب نہ دے تو آپ بھی اُس سے رابطہ نہ کریں۔ اگر کوئی آپ کو اہمیت دینا چھوڑ دے، تو آپ بھی یوں ظاہر کریں جیسے اُس کا وجود آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم کسی کی غیر موجودگی میں بھی اپنی زندگی معمول کے مطابق گزارتے ہوئے نظر آئیں گے تو شاید اُسے ہماری کمی کا احساس ہو جائے گا۔
اور میں نے بھی یہی کیا۔
بے وقوفی میں، میں نے بھی یہی سمجھا کہ شاید خاموشی ہی اُنھیں میری کمی کا احساس دلائے گی۔ یوں کئی مہینے گزر گئے، اور مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہمارے درمیان اب باقی کیا رہ گیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کلاس میں دیکھتے، سر ہلا کر یا ہاتھ ہلا کر سلام کرتے اور پھر اپنی اپنی راہ لے لیتے۔
بس اتنا ہی۔
جو شخص کبھی میری زندگی کا اتنا اہم حصہ بن گیا تھا کہ اُس کے بغیر کسی دن کا تصور بھی مشکل لگتا تھا، وہ اچانک میری زندگی سے یوں غائب ہو گیا تھا جیسے کبھی اُس کا کوئی وجود ہی نہ رہا ہو۔ اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ میں اُن سے یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہی تھی کہ آخر ہوا کیا تھا۔
مجھے کیوں چھوڑ دیا گیا تھا؟ کیا بدل گیا تھا؟ کیا ہمارا تعلق صرف میری نظر میں اتنا اہم تھا؟
یہ سوال مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہے تھے۔ اُنھیں اپنی زندگی میں اپنے بغیر اتنا مطمئن دیکھنا میرے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ آخرکار میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس معاملے کا کوئی اختتام چاہیے، کوئی جواب چاہیے۔ میں ہر رات اپنے فون کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ کر نہیں گزار سکتی تھی کہ کیا وہ بھی کبھی میرے بارے میں سوچتے ہوں گے؟ کیا انھیں بھی میری کمی محسوس ہوتی ہوگی؟ کیا اُن کے دل میں بھی کبھی یہ خیال آتا ہوگا کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچ گئے؟
چناں چہ میں نے اپنی تمام ہمت جمع کی، اُن کے پاس گئی اور کہا، ’’کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟‘‘
شاید انھیں توقع نہیں تھی کہ میں خود چل کر اُن کے پاس آؤں گی۔ وہ کچھ حیران ہوئے۔ انہوں نے میری طرف اس طرح دیکھا جیسے اُنھیں ایک لمحے کے لیے یاد کرنے کی کوشش کرنی پڑ رہی ہو کہ میں کون ہوں۔ وہ کچھ کہہ نہیں پائے، بس خاموشی سے سر ہلا دیا۔
ہم چلتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آس پاس کوئی اور موجود نہیں تھا۔ میں نے اپنی ہمت کو ایک بار پھر مجتمع کیا اور پوچھا، ’’آخر ہوا کیا ہے؟ ایک وقت تھا جب تم میرے بغیر کہیں نہیں ہوتے تھے۔ ہم ہر لمحہ ساتھ گزارتے تھے، اور اب تم یوں پیش آتے ہو جیسے مجھے جانتے تک نہیں۔ کیا میں نے کچھ کیا ہے؟ تمھیں مجھے بتانا ہوگا۔‘‘
وہ میری آنکھوں میں نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ اُن کے چہرے پر ایک ایسی جھجک تھی جیسے اُن کے پاس کوئی ایسی بات ہو جس پر انھیں خود بھی شرمندگی محسوس ہو رہی ہو۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دھیمی آواز میں بولے، ’’میں اب بھی تمھیں اپنی زندگی میں رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ پچھلے چند مہینے تمہارے بغیر بہت عجیب گزرے ہیں۔ لیکن جو کچھ میں نے کیا ہے، اُس کے بعد مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم دوبارہ مجھے اپنی زندگی میں جگہ دینا بھی چاہو گی یا نہیں۔‘‘
میں نے اُن کی طرف دیکھا اور پوچھا، ’’تم نے ایسا کیا کیا ہے؟‘‘
میں تقریباً جانتی تھی کہ وہ کیا کہنے والے ہیں، لیکن شاید میرے دل کا ایک حصہ اب بھی چاہتا تھا کہ میرا اندازہ غلط ثابت ہو۔
انھوں نے ایک گہری سانس لی۔ اُن کی نظریں اب بھی زمین پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ الفاظ ڈھونڈ رہے ہوں اور شاید انھیں امید ہو کہ زمین کی دراڑوں میں کہیں اُن کے لیے کوئی درست جواب موجود ہوگا۔
’’میں نے کچھ باتیں سنی تھیں،‘‘ انھوں نے کہنا شروع کیا۔ ’’کچھ ایسی باتیں جو لوگ تمھارے بارے میں کر رہے تھے، ہمارے بارے میں، ہمارے تعلق کے بارے میں۔ اور میں نے تم سے پوچھنے کے بہ جائے، تمھیں اپنی بات سمجھانے کا موقع دینے کے بہ جائے، اُن باتوں کو اپنے ذہن میں جگہ دے دی۔ میں نے خود ہی کچھ نتیجے نکال لیے اور پھر اُنھی کی بنیاد پر تمھارے ساتھ اپنا رویّہ بدل لیا۔ اُس وقت مجھے لگا تھا کہ میں جو کر رہا ہوں، وہ درست ہے۔ لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک کی تھی۔‘‘
کچھ لمحوں کے لیے میں بالکل خاموش ہو گئی۔
میں نے مہینوں اپنے اندر اُن سوالوں کے جواب تلاش کیے تھے۔ ہر گفتگو کو، ہر مذاق کو، ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو بار بار یاد کیا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ شاید میں ہی کسی مقام پر حد سے بڑھ گئی تھی۔ شاید میں کسی کے لیے بہت زیادہ ہو گئی تھی، اُس شخص کے لیے بھی جس نے کبھی مجھے یہ احساس دلایا تھا کہ میں جیسی بھی ہوں، کافی ہوں۔
اور ان تمام مہینوں میں، جس جواب کو میں اپنے اندر تلاش کرتی رہی تھی، وہ کہیں اور موجود تھا۔
’’تم نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں؟‘‘ میں نے بالآخر کہا۔
اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ یا شاید جواب تھا، لیکن وہ اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ڈھونڈ پا رہے تھے۔ انھوں نے میری طرف دیکھا، پھر نظریں چرا لیں، اور اُس لمحے مجھے احساس ہوا کہ شاید میں کبھی جان ہی نہیں پاؤں گی کہ حقیقت کیا تھی۔
’’مجھے ڈر لگ رہا تھا،‘‘ انھوں نے کچھ دیر بعد کہا۔ ’’مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس بات پر یقین کروں۔ مجھے لگا کہ تم سے دور ہو جانا اس بات کا سامنا کرنے سے زیادہ آسان ہوگا کہ شاید میں نے تمھارے بارے میں جو کچھ سوچ رکھا ہے، وہ سب غلط ہو۔‘‘
مجھے اُس بات کی ستم ظریفی پر تقریباً ہنسی آ گئی۔
وہ اس خوف میں مبتلا تھے کہ کہیں انھوں نے مجھے غلط نہ سمجھ لیا ہو، لیکن اسی خوف کی وجہ سے انھوں نے مجھے اپنی بات سمجھانے کا موقع ہی نہ دیا۔ وہ ایک ایسے امکان سے خود کو بچانا چاہتے تھے جو شاید حقیقت بھی نہ تھا، لیکن اس سے بچنے کی کوشش میں انھوں نے اُسی امکان کو حقیقت بنا دیا۔
میرے دل میں بے شمار سوالات تھے۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ انھوں نے مجھ پر اتنا اعتماد کیوں نہیں کیا کہ مجھ سے بات کر لیتے؟ مہینوں کی قربت، ایک دوسرے کو جاننے کا اتنا طویل عرصہ، اُن چند باتوں سے زیادہ اہم کیوں نہ ہو سکا جو انہوں نے دوسروں سے سنی تھیں؟ اور وہ شخص جو کبھی میری خاموشی تک سمجھ لیا کرتا تھا، آخر ایک سادہ سا سوال پوچھنے میں اتنا بے بس کیوں ہو گیا تھا؟
لیکن میں نے ان میں سے کوئی سوال نہیں پوچھا۔
کیوں کہ اُس لمحے، اپنے سامنے کھڑے اُس شخص کو دیکھتے ہوئے جو کبھی مجھے دنیا کے سب سے مانوس لوگوں میں سے ایک محسوس ہوتا تھا، مجھے ایک ایسی بات سمجھ میں آئی جس کا احساس مجھے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
کسی کی پسندیدہ چیزیں جان لینا، اُس کی عادتیں پہچان لینا، اُس کی خاموشیوں کو سمجھنا، اُس کے ادھورے جملے مکمل کر دینا اور اُس کے ساتھ زندگی کے بے شمار لمحے گزارنا، یہ سب اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہم اُس انسان کو مکمل طور پر جانتے ہیں۔ میں نے اُنہیں وہی جانا تھا جو انھوں نے مجھے دکھایا تھا۔ میں نے اُن کی باتوں پر یقین کیا تھا، اُن کے رویّوں سے معنی اخذ کیے تھے۔ لیکن میں کبھی یہ نہیں جان سکی تھی کہ جب خوف، شک یا دوسروں کی رائے اُن کے فیصلوں پر اثر انداز ہوگی تو وہ کیا کریں گے۔
اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہی تھی۔
یہ نہیں کہ وہ بدل گئے تھے، یا یہ کہ وہ میری زندگی سے چلے گئے تھے، بلکہ یہ کہ میں مہینوں تک خود کو اُس فیصلے کے لیے قصوروار ٹھیراتی رہی تھی جو میں نے کیا ہی نہیں تھا۔
ہم کچھ دیر اور بات کرتے رہے۔ کچھ معذرتیں تھیں، کچھ وضاحتیں تھیں، اور کچھ ایسی باتیں تھیں جو کئی مہینے پہلے کہہ دی جانی چاہییں تھیں۔ مجھے آج بھی ہماری ہر بات یاد نہیں، لیکن مجھے اتنا ضرور یاد ہے کہ کئی مہینوں میں پہلی بار ہمارے درمیان موجود خاموشی مجھے کسی ایسے سوال کی طرح محسوس نہیں ہو رہی تھی جس کا جواب دینا میری ذمہ داری ہو۔
جب ہم بالآخر ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ اب ہمارے درمیان کیا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ہم دوبارہ اُس مقام تک پہنچ سکیں گے جہاں کبھی ہمارا تعلق ہوا کرتا تھا، یا کچھ چیزیں ایک بار ٹوٹ جائیں تو انھیں دوبارہ جوڑنے کے باوجود وہ پہلے جیسی نہیں رہتیں۔
لیکن اس بار میں نے خود کو یہ اجازت دے دی کہ مجھے ہر بات کا جواب معلوم ہونا ضروری نہیں۔
ایک طویل عرصے تک میرا خیال تھا کہ اپنے لوگوں کو تلاش کرنے کا مطلب کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا ہے جو مجھے اس قدر مکمل طور پر سمجھ لے کہ مجھے کبھی خود کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس شخص نے مجھے یقین دلایا تھا کہ ایسا تعلق ممکن ہے۔ اور جب وہ تعلق بکھر گیا تو مجھے لگا کہ میں نے وہ واحد ثبوت کھو دیا ہے جو مجھے یقین دلا سکتا تھا کہ میں بھی کسی کے لیے اہم ہو سکتی ہوں۔
لیکن میں غلط تھی۔
اُن کا میری زندگی میں آنا غلط نہیں تھا، اور نہ ہی ہمارے درمیان گزرے ہوئے تمام لمحات محض ایک جھوٹ تھے، صرف اس لیے کہ اُن کا اختتام تکلیف دہ ثابت ہوا۔ جو کچھ ہمارے درمیان تھا، وہ میرے لیے حقیقی تھا۔ اور شاید اُن کے لیے بھی۔ لیکن میں کبھی اُن کے احساسات کی مکمل حقیقت نہیں جان سکتی تھی، بالکل اسی طرح جیسے وہ کبھی میرے دل کے تمام گوشوں کو نہیں جان سکتے تھے۔
اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ کسی کو سمجھنا اور کسی کو مکمل طور پر جان لینا دو الگ باتیں ہیں۔ محبت ہو، دوستی ہو یا انسانوں کے درمیان قائم ہونے والا کوئی بھی بامعنی تعلق، صرف ایک دوسرے کے قریب ہونے سے قائم نہیں رہتا۔ ایسے تعلقات کے لیے سوال پوچھنے کی ہمت، جواب سننے کا حوصلہ، اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حقیقت جاننے کا اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔
میں نے کئی مہینے یہ سوچتے ہوئے گزار دیے تھے کہ شاید کسی کو اپنی زندگی میں برقرار رکھنے کے لیے مجھے خود کو بدلنا ہوگا، اپنی ذات کے کچھ حصے کم کرنے ہوں گے، شاید مجھے اتنا کم ہو جانا ہوگا کہ کسی دوسرے شخص کے لیے مجھے برداشت کرنا آسان ہو جائے۔
لیکن آخرکار مجھے یہ سمجھ آیا کہ میں خود کو بدل کر کسی کو رکنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ اور اگر کوئی شخص مجھ سے حقیقت جاننے کے لیے ایک سوال پوچھنے پر بھی آمادہ نہ ہو، تو میں اسے زبردستی اپنی حقیقت سمجھا بھی نہیں سکتی۔
آج بھی مجھے یقین ہے کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ایسے لوگ موجود ہیں جو مجھے سمجھ سکیں گے۔ مجھے آج بھی یقین ہے کہ انسانوں کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو سکتا ہے، کہ اجنبی مانوس بن سکتے ہیں، اور یہ کہ کبھی کبھی ایک عام سی گفتگو کسی عام سے دن کو، بلکہ شاید پوری زندگی کو بدل سکتی ہے۔
لیکن اب میں یہ نہیں سمجھتی کہ کسی کو جان لینے کا مطلب یہ ہے کہ میں اسے کبھی کھو نہیں سکتی۔ اور نہ ہی کسی کو کھو دینے کا مطلب یہ ہے کہ شاید وہ کبھی میری زندگی میں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں اور ہمیں یادیں دے جاتے ہیں۔ کچھ سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ اور کچھ ہمیں اس تلخ حقیقت سے روشناس کروا جاتے ہیں کہ شاید ہم اُن لوگوں کے بارے میں بھی کبھی مکمل سچ نہیں جان سکتے جنہیں ہم کبھی سب سے زیادہ قریب سے جاننے کا دعویٰ کرتے تھے۔
شاید یہی وہ بات تھی جس نے اس واقعے کو میرے لیے ناقابلِ فراموش بنا دیا۔
اس واقعے نے مجھے یہ نہیں سکھایا کہ انسان محبت یا دوستی کے قابل نہیں ہوتے۔ اس نے مجھے یہ سکھایا کہ کبھی کبھی سب سے گہرے تعلقات بھی اُن مفروضوں کی نذر ہو جاتے ہیں جن پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، اُن باتوں کی جو کہی نہیں جاتیں، اور اُن سوالوں کی جو وقت پر پوچھے نہیں جاتے۔
اور شاید بعض اوقات کسی بات کو قبول کرنا سب سے زیادہ مشکل نہیں ہوتا کہ کسی نے ہمیں غلط سمجھ لیا۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیں اتنا جانتے تھے کہ ہم سے پوچھ سکتے تھے، لیکن انھوں نے پوچھنے کا انتخاب نہیں کیا۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
میری زندگی کا وہ شخص۔۔۔
