سمے وار (تحریر: سوزین عامر)
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ آپ کی نانی یا دادی جس اردو میں بات کرتی ہیں اور جس اردو میں آپ اپنے دوستوں کو ’میسج‘ کرتے ہیں، ان دونوں میں کتنا فرق ہے؟ وہ “جی، کیا حال ہے آپ کا؟” سے بات شروع کرتی ہیں اور ہم “یار، کیا سین ہے؟” پر آ جاتے ہیں۔ دونوں اردو ہی ہیں، مگر لگتا ہے جیسے دو الگ زمانوں کی زبانیں ہوں۔ یہی فرق ہمارا موضوع ہے۔
زبانیں کسی دریا کی طرح ہوتی ہیں، یہ کبھی رکتی نہیں، وقت کے ساتھ بہتی رہتی ہیں۔ اردو تو پیدا ہی میل جول سے ہوئی تھی۔ لشکری زبان کہلانے کی وجہ ہی یہ تھی کہ مختلف علاقوں، نسلوں اور زبانوں کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوئے اور ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لیے الفاظ کا لین دین کرتے گئے۔ فارسی نے نفاست دی، عربی نے علمی وزن، ترکی نے چند خوب صورت لفظ، اور مقامی بولیوں نے وہ مٹھاس جو کتابوں سے نہیں، گلیوں سے آتی ہے۔ یعنی جس زبان کی بنیاد ہی ملاوٹ پر ہو، اس کے بدلنے پر حیران ہونا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ پہلے یہ تبدیلی دہائیوں میں آتی تھی اور اب مہینوں میں آ جاتی ہے۔
میر تقی میر اور اسد اللہ غالب کے زمانے میں زبان محض بات چیت کا ذریعہ نہیں تھی، تہذیب کی پہچان تھی۔ دلّی اور لکھنؤ والے ایک دوسرے کے محاورے اور تلفظ پر بحث کرتے تھے، اور کسی کی زبان میں ذرا سی لغزش بھی محفل میں نوٹ کی جاتی تھی۔ “آپ” اور “جناب” کے بغیر بات کرنا بدتمیزی سمجھا جاتا تھا۔ خط لکھا جاتا تو پہلے القاب و آداب کی لمبی تمہید، پھر کہیں جا کر اصل بات۔ آج ہم کسی کو “سلام، ایک کام تھا” لکھ کر سیدھا مطلب پر آ جاتے ہیں۔
ریڈیو اور پرانے ٹیلی وژن کے دور تک یہی روایت کسی حد تک قائم رہی۔ خبریں پڑھنے والوں کا تلفظ لوگوں کے لیے سند ہوتا تھا۔ گھروں میں بڑے بچوں کو کہتے تھے کہ خبرنامہ سنا کرو، زبان سیدھی ہو جائے گی۔ وہ زمانہ ایسا تھا جب صحیح اردو بولنا ایک طرح کا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔
اب تصویر بالکل مختلف ہے۔ آج کی اردو واٹس ایپ کے وائس نوٹس، انسٹاگرام کے کیپشنز، ٹک ٹاک کی ویڈیوز اور یوٹیوب کے کمنٹس میں سانس لیتی ہے۔ “میٹنگ”، “پراجیکٹ”، “کانٹینٹ”، “ٹرینڈ” اور “ڈیڈ لائن” جیسے الفاظ اتنے عام ہو چکے ہیں کہ کسی کو یاد بھی نہیں کہ یہ انگریزی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات ان کی اردو کہنا زیادہ اجنبی لگتا ہے۔ “اجلاس” کہیں تو لوگ مسکرا دیتے ہیں، “میٹنگ” کہیں تو بات فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے۔
’’رومن اردو‘‘ نے بھی خاموشی سے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ موبائل کی چھوٹی سی اسکرین پر نوجوان “kya haal hai” لکھنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں بہ نسبت اردو کی بورڈ پر “کیا حال ہے” ڈھونڈنے کے۔ اس کے نتیجے میں ایک پوری نسل ایسی ہے جو اردو بولتی تو روانی سے ہے، مگر اردو رسم الخط میں لکھتے ہوئے ہچکچاتی ہے۔ یہ بات فکر کی بھی ہے اور سمجھنے کی بھی۔
جملے چھوٹے ہو گئے ہیں، لہجہ بے تکلف ہو گیا ہے، اور رسمی ادب آداب کی جگہ سیدھی بات نے لے لی ہے۔ اب کوئی “از راہِ کرم” نہیں کہتا، “پلیز” کہہ دیتا ہے۔
ڈراموں اور ریلز نے بھی لہجے کو بدلنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پہلے کسی دوسرے شہر کا لہجہ سننے کے لیے سفر کرنا پڑتا تھا، اب فون کھولتے ہی لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سب ایک ہی اسکرین پر مل جاتے ہیں۔ اس لیے پنجابی، سندھی، پشتو اور سرائیکی کے لفظ اور انداز اردو میں پہلے سے زیادہ گھل مل رہے ہیں۔ کسی ڈرامے کا ایک مکالمہ یا کسی ریل کا ایک جملہ ہفتے بھر میں پورے ملک کی زبان پر چڑھ جاتا ہے۔
اس سوال پر لوگ دو حصوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ زبان بگڑ رہی ہے، املا کمزور ہو رہا ہے، تلفظ کا خیال کوئی نہیں رکھتا، اور نئی نسل شعر و ادب سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی فکر بے وجہ نہیں۔ واقعی ایسے طلبہ مل جاتے ہیں جو اردو میں ایک صفحہ بھی روانی سے نہیں لکھ پاتے۔
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ زندہ زبان وہی ہے جو بدلتی رہے۔ جو زبان بدلنا چھوڑ دے، وہ آہستہ آہستہ کتابوں اور عجائب گھروں تک محدود ہو جاتی ہے۔ اردو کی اپنی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ہمیشہ دوسروں سے لیتی اور اپنے رنگ میں ڈھالتی رہی ہے۔ ان کے نزدیک نئے الفاظ کا آنا کمزوری نہیں، زندگی کی علامت ہے۔
سچ شاید دونوں کے بیچ میں کہیں ہے۔ زبان کو بدلنے سے روکا نہیں جا سکتا، یہ ممکن ہی نہیں۔ لیکن اس کی بنیاد کو سنبھال کر رکھنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم روزمرہ میں سہولت کے ساتھ ساتھ اچھا ادب پڑھیں، لکھتے وقت املا کا خیال رکھیں، اور کبھی کبھار اپنی ہی زبان کے خوبصورت لفظ استعمال کر کے دیکھیں، تو اردو اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔
یہاں ایک بات الگ سے سمجھنے کی ہے۔ دوسری زبان آنا ایک خوبی ہے، اس میں کوئی برائی نہیں۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب ہم اپنی زبان میں اپنے احساسات بیان کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھیں۔ اگر آپ اردو میں اپنی خوشی، اپنا غم اور اپنے تجربے کو پوری گہرائی سے بیان کر سکتے ہیں، تو انگریزی یا کوئی بھی دوسری زبان آپ کی صلاحیت میں اضافہ ہی کرے گی۔ لیکن اگر مطالعہ کم ہوتا جائے اور ذخیرۂ الفاظ سکڑتا جائے، تو بات کہنے کے لیے بھی ہمیں بار بار دوسری زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے، اور پھر بھی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور عجیب رویہ بھی نظر آتا ہے۔ انگریزی بولنے والے کو اکثر زیادہ ذہین، جدید اور کام یاب سمجھ لیا جاتا ہے، جب کہ خالص اردو بولنے والے کو کبھی کبھی کم پڑھا لکھا مان لیا جاتا ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ اردو کے ہر نئے انداز کو تہذیبی زوال کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں رویے ناانصافی پر مبنی ہیں۔ انگریزی بولنا ذہانت کا ثبوت نہیں، اور اردو سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ باقی زبانوں سے منھ موڑ لیا جائے۔ زبان کی اصل قدر اس میں ہے کہ وہ انسان کو اپنی بات کتنی صاف اور گہری طرح کہنے کا موقع دیتی ہے
اردو کا بدلتا ہوا لہجہ دراصل ہمارے بدلتے ہوئے معاشرے کی تصویر ہے۔ جیسے جیسے ہمارا رہن سہن، میڈیا اور رابطے کے طریقے بدلتے ہیں، زبان بھی انہی کے ساتھ ڈھلتی جاتی ہے۔ نانی کی اردو اور ہماری اردو میں فرق ضرور ہے، مگر دونوں میں ایک چیز مشترک ہے، اپنوں سے بات کرنے کی خواہش۔ جب تک وہ خواہش زندہ ہے، زبان بھی زندہ ہے۔
ضرورت بس اتنی ہے کہ ہم اس تبدیلی کو سوچ سمجھ کر قبول کریں، یعنی نئے رنگ ضرور اپنائیں مگر جڑوں سے رشتہ نہ توڑیں۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
اردو بدلی یا اردو بگڑی۔۔۔؟
