سمے وار (تحریر: طاہر حبیب)
اپ تک ہوتا یہ تھا کسی اخبار یا رسالے میں ایسا کوئی مواد چھپ جاتا تھا جس پر ریاست کو اعتراض ہوتا یا کسی قانون کی خلاف ورزی ہوتی تو اخبار یا رسالے کے ایڈیٹر، پرنٹر اور پبلشر پر مقدمہ درج کر لیاجاتا تھا لیکن ایک نوزائیدہ ایجنسی کے حالیہ اقدام کے بعد جس کے تحت پونے تین سو افراد کے خلاف جس میں ایک سو لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
ایف ائی ار کا اندارج،گرفتاری اور ضمانت پر رہائی کا معاملہ، اانے والے وقت کی ہولناک تصویر پیش کرتا ہیے یعنی معاملہ صرف ایڈیٹر، پرنٹر اور پبلشر تک مدود نہیں رہے گا قانون نافذ کرنے والے کمپوزر، پروف ریڈر، شفٹ انچارج، نیوز ایڈیٹر، اجبار یا رسالے کو کاغذ فراہم کرنے دوکاندار، اخبار یا رسالہ فروخت کرنے والے بک اسٹال کے مالک یا ہاکر حتی کہ خریدنے والے فرد کو بھی گرفتار یا اس پر مقدمہ قائم کرسکیں گے ،کیونکہ ان کے مطابق یہ سارے کے سارے جرم میں برابر کے شریک ہیں، پھر یہ بھی کوشش کی جائے گی کہ ان میں سے کچھ لوگ دوبارہ کسی دوسری جگہ نوکری نہ کرسکیں، کیوں کہ اس جرم کے دوبارہ ارتکاب کا خدشہ رہے گا، یہ عجب منطق اس افسر کی ہے جس نے اپنے اختیارات کا بے جا اور من مانا استعمال کیا ہے اور پونے تین سو خاندانوں کو ذہنی اذیت پہچانے کے علاوہ ان کی معاشرے میں رسوائی کا سبب بھی بنا،قانونی طور پر جس فرد کے خلاف ایف آئی آر درج ہو اور وہ بری بھی ہو جائے, وہ کسی نوکری کے لیے ناقابل قبول ہوجاتا ہے،اسطرح اس افسر نے کئی سو نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے اس ظلم کا مداوا کس طرح ہوگا ،کراچی کے ہر شہری کو اس کے خلاف اواز بلند کرنا چاہئے خصوصا دانشوروں، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ،ایک مہذب معاشرے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے یا صاف کہہ دیا جائیےکہ ہم ایک جابرانہ اور استبدادی معاشرے کے عَلم بردار ہیں.
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کال سینٹر پر چھاپا، کراچی والوں کے لیے مزید ہول ناکیاں؟
