Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi Media Saad Ahmad Society اچھی اردو اردوادب انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ ذرایع اِبلاغ سعد احمد سمے وار بلاگ سندھ قومی سیاست کراچی مہاجرقوم

احمد شاہ نے پریس کانفرنس میں بتادیا وہ واقعی “جن” ہیں!

سمے وار (تحریر: سعد احمد)
صدر کراچی آرٹس کونسل احمد شاہ صاحب نے اردو کانفرنس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں اعلانیہ طور پر “عالمی اردو کانفرنس” کو 12 مسالوں کی چاٹ بنانے کی صفائیاں پیش کیں۔
ان کے ساتھ جناب زہرا نگاہ، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی اور منور سعید جیسی ہستیاں بھی موجود تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان جیسے دیو قامت ہستییوں کے جلو میں احمد شاہ عالمی اردو کانفرنس میں سبھی کچھ کرنے کا اعلان بھی کر رہے تھے کہ اس میں فلانی زبان بھی ہوگی فلانی زبان بھی ہوگی، موسماتی تغیر کے موضوعات بھی ہوں گے اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی بات ہوگی اور فلاں موضوع بھی ہوگا فلاں موضوع بھی ہوگا۔
ان تینوں بڑی بڑی شخصیات میں سے کسی نے بھی “شاہ” کے لیے یہ کہنے کی جرات نہ کی اور ظاہر ہے نہ اس سے پہلے کبھی سمجھایا ہوگا کہ یہ تو ایک عرصے سے احمد شاہ کے حلقہ بگوش ہیں، کہ
شاہ صاحب! یہ عالمی اردو کانفرنس ہے، مانا کہ 18 سال ہوگئے، ایک بڑا ادبی میلہ ضرور آپ کے ذریعے مسلسل جاری رہنے والا کارنامہ ہے، لیکن اردو کانفرنس میں تو اردو ہی کی بات ہونی چاہیے!
ابھی ایک مہینے کا “عالمی ثقافتی میلہ” ختم ہوا ہے جس میں دنیا جہاں کی ثقافت تھی، آپ کشمیر، کوئٹہ اور سکھر وغیرہ میں بھی “پاکستان لٹریچر فیسٹول” کرواتے رہے ہیں، یہ سب “عالمی اردو کانفرنس” کی کام یابی ہے، وہاں آپ نے ظاہر ہے خالص ادبی موضوعات پر بھی بات کی ہوگی، براہ راست دوسری زبانوں کے ادیبوں اور شعرا کی بھی بیٹھک سجائی ہوگی، لیکن اب یہ کانفرنس تو اردو سے منسوب ہے، اس لیے اس میں سب کچھ اردو سے متعلق کیوں نہیں ہونا چاہیے!!
یہ توکوئی راکٹ سائنس کی بات ہے، اور نہ کسی کی مخالفت یا مخاصمت کا ماجرا، ہی تو سیدھا سیدھا سا عین منطقی سا معاملہ ہے، جو آرٹ کونسل کے کسی عہدے دار کو سمجھ میں آتا ہے اور نہ ہی کوئی معقول شخصیت کبھی اس حوالے سے بات کرتی ہوئی نظر آتی ہے
بس احمد شاہ کام کروا رہے ہیں، بس تالیاں پیٹتے جائیے، اب اردو کانفرنس میں صحافت، انسانی حقوق، مصنوعی ذہانت، موسمایتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں کے ادب اور ان کے شعرا کی بات ہوگی۔ ہمیں کسی کی زبان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن یہ اردو کے ساتھ اردو کے شہر میں زیادتی ہے۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
آپ دھڑلے سے دوسرے شہر سے آکر اردو بولنے والوں کے شہر میں ان کے ثقافتی ادارے پر براجمان ہیں، ہماری بدقسمتی ہے کہ کوئی اردو بولنے والا اور کوئی مہاجر آپ کی راہ سیدھی کرنے والا نہیں رہا۔
اور 15، سولہ سال سے تو آپ بالکل شہنشاہ بن چکے ہیں، سارے بڑے لوگ آپ کی جیب میں ہیں، حکومت سندھ اور ہر گورنر آپ کا دوست ہوجاتا ہے، طاقت ور حلقوں سے تعلق بنانا بھی آپ کو خوب آتا ہے، ایسے میں اگر آپ اپنی من مانی نہ کرسکیں اور بادشاہت نہ چلا سکیں تو پھر اس سب کا کیا فائدہ۔
حیرت تو اس موقعے پر موجود رپورٹروں اور صحافیوں پر بھی ہے، جس میں خانہ پری کے لیے ایک دو سوال ہوئے، جو معذرت کے ساتھ بے تکے سے تھے، ان میں اردو کانفرنس کی اس حالت زار پر کوئی بات نہ تھی، شاید آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح آپ اپنی بادشاہت چلا سکتے ہیں، کوئی تنقیدی بات آپ کو ناگوار لگتی ہے اور تنقید کرنے والے سے آپ کے رویے اچھے نہیں ہوتے، آپ تنقید کرنے والے کی نیت پر شبہ کرتے ہیں، آپ اسے ذاتی مسئلہ سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ تنقید کرنے والا خلوص نیت سے یہ بات کر رہا ہوتا ہے۔
ہمیں آرٹس کونسل اور احمد شاہ سے کچھ نہیں چاہیے، ہم صرف اردو کانفرنس اور آرٹس کونسل کا قبلہ درست چاہتے ہیں۔
احمد شاہ صاحب، آپ نے اپنی اس پریس کانفرنس میں اختلاف رائے اور مکالمے کی ضرورت کا ذکر ایک سے زائد بار کیا، لیکن کیا آپ اپنے ادارے اور اپنی کارکردگی پر ہونے والی تعمیری تنقید کو اہمیت دیتے ہیں؟
کیا آپ نے کبھی ہم جیسے چھوٹے موٹے لکھنے والوں کی باتوں کو درخوراعتنا جانا؟
آپ نے سوچا کہ واقعی اردو کانفرنس تو نام ہے اردو ہی کا۔ چلیے 4 کی جگہ 2 روز کی کانفرنس کرلیجیے لیکن اردو کانفرنس کے نام سے زیادتی نہ کیجیے۔۔۔
پچیس دسمبر سے یہ عالمی اردو کانفرنس سجنے والی ہے، اندرون سندھ اور بیرون کراچی سے بے شمار بسیں بھر بھر کر لائی جایئں گی، بھیڑ دکھائی جائے گی، غیر مقامی ثقافتوں کا شور ہوگا، کراچی شہر کے قلب میں کراچی اجنبی ہوگا۔ کوئی اس کا نوحہ لکھنے والا ہوگا اور نہ کوئی آواز بلند کرنے والا، کیوں کہ رپورٹر سے لے کر شاعر اور ادیب تک سب آپ کی جیب میں ہیں، سبھی کو آپ نے ہم نوا بنا لیا ہے۔
زہرا نگاہ نے کہا تھا کہ احمد شاہ کے قبضے میں “جن” ہیں جن سے یہ کام کرواتے ہیں، اس پر کسی نے گرہ لگائی کہ یہ خود جن ہیں تو واقعی احمد شاہ آپ واقعی جن ہیں، جو اتنے بڑے بڑے ناموں کو اپنی دھنوں کا اسیر اور اپنے حلقے کا قیدی بنا کر چل رہے ہیں، دیکھتے ہیں کب تک چلتے ہیں۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights