سمے وار (خصوصی رپورٹ)
جیسے وسائل اور مسائل کی تقسیم کے حوالے سے مختلف صوبوں اور شہروں کے درمیان دھینگا مشتی چلتی رہتی ہے، وہیں میڈیا پر غالب آنے کی جنگ بھی اب پرانی نہیں رہی ہے۔
اگر بات چینلوں کی ہو تو کراچی کے چینل اور لاہور کے چینل اور کراچی کے دفاتر اور لاہور کے دفاتر اور لاہور کے صحافی اور کراچی کے صحافی کا رونا دھونا بھی ہوتا رہتا ہے۔
لیکن 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شائقین میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب دو مین اسٹریم میڈیا گروپ میں کام یاب اسپورٹس نشریات جاری رکھنے والے کراچی کے اینکروں کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو بلے بازوں نے “کلین بولڈ” کردیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایکسپریس نیوز میں مرزا اقبال بیگ اور ان کا پروگرام “جوش جگا دے” کو اب ان سے لے لیا گیا ہے اور یہ پروگرام اب لاہور اسٹیشن سے عامر سہیل سلمان بٹ کے ساتھ کریں گے۔ یعنی دو سال سے عامر سہیل کو کراچی آنا پڑ رہا تھا یا ایسی کیا مجبوری تھی کہ عامر سہیل کے بغیر یہ پروگرام ہو نہیں سکتا تھا ، لہٰذا اس کی خاطر ایکسپریس انتظامیہ نے مرزا اقبال بیگ کی بلی چڑھا دی، پتا چلا ہے کہ وہ بدستور ایکسپریس نیوز سے منسلک رہیں گے لیکن اپنا روایتی اسپورٹس پروگرام کرین گے اور پہلی بار ان سے کام یاب شو “جوش جگہ دے” کی میزبانی چھین لی گئی ہے اور وہی عامر سہیل جنھیں وہ دو سال سے کراچی اسٹوڈیو میں مدعو کرتے تھے وہ اپنا پروگرام لاہور میں بیٹھ کر مزے سے کریں گے اور میچ فکسنگ میں ملوث سلمان بٹ ان کا ساتھ دیں گے۔
دوسری طرف جیو میں یہ پروگرام بدستور تابش ہاشمی کے سپرد ہے جو “ہارنا منع ہے” کے عنوان سے یہ پروگرام کریں گے، جس میں راشد لطیف ان کے ساتھ ہوں گے اور ایک اور اسپاٹ فکسر محمد عامر بھی ان کے ساتھ تجزیہ کریں گے اور احمد شہزاد ان کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کراچی ہی سے اے آر وائے پر وسیم بادامی جیسے کام یاب اینکر سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کام یاب ترین شو “ہر لمحہ پرجوش” کی میزبانی چھین کر شعیب ملک کے سپرد کردی گئی ہے، بعض ذرائع اسے رمضان ٹرانسمیشن کی وجہ سے وسیم بادامی کی مصروفیات بتا رہے ہیں، لیکن ایکسپریس میں مرزا اقبال بیگ سے پروگرام اور میزبان چھن جانا اور اس کےبعد ارے آر وائی جیسے پروگرام سے شیعب ملک کے سپرد ہوجانا دونوں جانے والے اینکر کراچی سے اور لائے جانے والے کھلاڑی پنجاب سے ہونا اچنبھے کی بات ضرور ہے، اے آر وائے میں شعیب ملک کی میزبانی کا ساتھ باسط علی اور کامران اکمل دیں گے۔
سوشل میڈیا پر شائقین اس اکھاڑ پچھاڑ کو روایتی کراچی لاہور جنگ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں میڈٰیا ہائوسز کراچی کے ہیں، اگرچہ ایکسپریس کے بعض مرکزی دفاتر لاہور میں ہیں، لیکن مرکزی انتطامیہ آج بھی کراچی ہی میں بیٹھتی ہے۔
Categories
کراچی کے 2 اسپورٹس اینکر پنجاب کے بلے بازوں سے “بولڈ” !
