Categories
Exclusive Karachi KU Media MQM انکشاف ایم کیو ایم پنجاب پیپلز پارٹی دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مسلم لیگ (ن) مہاجر صوبہ مہاجرقوم

شہزاد غیاث کی متنازع فکر کا پوسٹ مارٹم

سمے وار (تحریر: شہباز قاضی)
ان سے ملیے، یہ ہیں پوڈکاسٹ نگری کے مہان دانش ور شہزاد غیاث شیخ! جو اپنی پوڈکاسٹ پر اتنے دھیرے سے اور “صبر، پیار، تحمل” کا چورن بیچتے ہوئے مائیک کے سامنے بیٹھتے ہیں کہ ناظر سمجھے شاید ملک کا سارا درد ان کے دل میں ہے، لیکن جیسے ہی ان کی مینیپولیشن کی تہیں کھلتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ دھیمہ لہجہ دراصل سندھ کو تباہ کرنے والی بدترین کرپٹ پارٹی کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ایک انتہائی شاطرانہ کوشش ہے۔
ان کی ویڈیوز دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ سراسر غلط بیانی، مینیپولیشن اور عوام کو گم راہ کرنے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
**1. کراچی کے اسپتالوں کا “نیا شوشا”**
**ویڈیو حوالہ:** *Understanding the PPP – Why does Sindh vote for PPP?*
شہزاد صاحب اپنی ویڈیو میں پیپلز پارٹی کے سوشل ویلفیئر اور ہیلتھ پروجیکٹس (جیسے NICVD) کے قصیدے پڑھتے ہوئے نہیں تھکتے۔ ان کا رونا یہ ہے کہ لوگ پیپلز پارٹی کی اچھائیاں نہیں دیکھتے۔
واہ شہزاد صاحب، کیا ماسٹر اسٹروک مارا ہے! آپ یہ تو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے کراچی میں اسپتال بنا کر کمال کر دیا، لیکن آپ کا وہ “ہائی لیول” دماغ یہ دیکھنے سے قاصر کیوں ہو جاتا ہے کہ پورے سندھ سے، حتیٰ کہ لاڑکانہ اور سکھر سے بھی لوگ علاج کروانے کراچی کیوں بھاگتے ہیں؟ بھائی، اگر 15 سال میں پیپلز پارٹی نے باقی سندھ میں اتنی ہی “کمال” سروسز دی تھیں تو بے چارے غریب مریض اپنا گھر بار چھوڑ کر کراچی کے دھکے کیوں کھا رہے ہیں؟ کراچی کے دو تین اسپتال دکھا کر پورے سندھ کی تباہی پر پردہ ڈالنا… اس کو کہتے ہیں اصلی “انٹیلیکچوئل مینیپولیشن”۔ کراچی کا انفراسٹرکچر باقی اسپتالوں پر بوجھ بن چکا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے اپنے ہوم گراؤنڈ میں آج تک ایسی بنیادی سہولیات تک نہیں دیں۔
**2. کراچی میں لسانی فسادات کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنا (تاریخی جھوٹ)**
**ویڈیو حوالہ:** *Understanding the PPP – Why does Sindh vote for PPP?*
شہزاد صاحب پبلک کو ڈائیورٹ کرنے کے لیے کراچی کی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“اسٹیٹ نے کراچی کو بھی استعمال کیا، کراچی میں ethnic tensions کو flare up کیا، chaos کیا، violence کیا تاکہ وہاں پر ایک conflict پیدا ہو جائے… PPP کو سندھی پارٹی brand کیا گیا تاکہ پنجاب میں ان کا ووٹ توڑ سکیں…”
یہاں شہزاد صاحب کی مینیپولیشن عروج پر ہے۔ کراچی میں لسانی فسادات کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1972 کے بدنامِ زمانہ “سندھی لینگویج بل” اور “کوٹہ سسٹم” سے پڑی، جس نے کراچی کے پڑھے لکھے طبقے کو دیوار سے لگایا۔ لیکن شہزاد صاحب اتنی صفائی سے پیپلز پارٹی کی ان متعصبانہ اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کو ہضم کر گئے اور سارا ملبا ایک مبہم “اسٹیٹ اور اسٹیبلشمنٹ” پر ڈال دیا۔ یہ پیپلز پارٹی کو پاک صاف دکھانے کے لیے تاریخ کا بدترین مینیپولیٹو ٹوئسٹ ہے۔
**3. پکا قلعہ واقعہ اور ڈائریکٹ فائرنگ پر چپ کا روزہ**
**ویڈیو حوالہ:** *Understanding the PPP – Why does Sindh vote for PPP?*
شہزاد صاحب اپنی ویڈیو میں MRD موومنٹ پر اسٹیٹ ریپریشن کا بڑا رونا روتے ہیں کہ “ہیلی کاپٹر سے فائرنگ ہوئی، لوگوں کو مارا گیا”۔
لیکن شہزاد صاحب، جب پیپلز پارٹی کے دور میں اسٹیٹ وائلنس ہوتا ہے تو آپ کے “صبر اور تحمل” کو کیا ہو جاتا ہے؟ 1990 کا “پکا قلعہ حیدرآباد” کا واقعہ آپ کو کیوں یاد نہیں آتا؟ جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں پولیس نے پکا قلعہ میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا جنازہ نکالا، پانی کی سپلائی کاٹ دی، اور جب خواتین قرآن پاک سر پر اٹھا کر باہر نکلیں تو ان پر ڈائریکٹ فائرنگ کر دی گئی، جس میں بچے اور خواتین سمیت درجنوں بے گناہ مارے گئے۔ شہزاد صاحب کے دوغلے پن کی حد یہ ہے کہ انھیں ضیاء کا ظلم تو یاد ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے دور کی یہ بدترین اسٹیٹ اسپانسرڈ ڈائریکٹ فائرنگ اور قتلِ عام پر انھوں نے اپنی ویڈیو میں چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ کیا یہ مینیپولیشن نہیں ہے کہ ایک طرف کا ظلم بیچو اور دوسری طرف کے خون کو دھو ڈالو؟
**4. “زرداری کی کرپشن” اور ایان علی کیسز کو ہضم کرنا**
**ویڈیو حوالہ:** *Understanding the PPP – Why does Sindh vote for PPP?*
جب بات زرداری دور کی بدترین کرپشن، من مانیوں اور الیکٹیبلز کی جاگیرداری کی آتی ہے تو شہزاد صاحب کی لاجک سنیں:
“یہ third PPP ہے جو Zardari PPP ہے، which is not about resistance and violence, which is about wheeling and dealing, building political consensus, which is about legislation, which is about ruling with electables…”
حد ہے ویسے! شہزاد صاحب کے نزدیک زرداری صاحب کی “surplus corruption” اور میگا منی لانڈرنگ اسکیمز کوئی جرم نہیں ہیں، بلکہ وہ تو ایک خوب صورت “wheeling and dealing” اور “سیاسی سمجھ بوجھ” ہے۔ جب سپر ماڈل ایان علی کے ذریعے لاکھوں ڈالرز فارن کرنسی کیش میں اسمگل کیے جا رہے تھے اور ان کا تعلق سیدھا پیپلز پارٹی کے ٹاپ لیول سے نکل رہا تھا، تو کیا وہ بھی کوئی “political consensus” تھا شہزاد صاحب؟ کسٹمز آفیسر اعجاز محمود جو اس کیس کا چشم دید گواہ تھا، اسے قتل کر دیا گیا، لیکن ہمارے اس “نیوٹرل” پوڈکاسٹر کے لیے یہ سب سیاسی ارتقا (political evolution) ہے! یعنی اگر آپ ڈاکوؤں اور وڈیروں کو ساتھ ملا کر کیش اسمگل کریں اور حکومت چلائیں تو یہ political maturity ہے! اس لاجک کے تحت تو دنیا کے ہر کرپٹ ترین مافیا کو “political coalition” کہہ کر کلین چٹ دی جا سکتی ہے۔
**5. پنجاب بمقابلہ سندھ کا کارڈ کھیلنا اور مریم نواز پر تنقید**
**ویڈیو حوالہ:** *Understanding the PPP – Why does Sindh vote for PPP?*
عوام کو مزید تقسیم کرنے اور پیپلز پارٹی کی پوزیشن کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کے لیے وہ کہتے ہیں:
“ابھی مریم نواز نے ایک racist کو support کیا جس نے انتہائی گھٹیا باتیں کیں سندھیوں کے خلاف، پشتونوں کے خلاف… تو کیسے کوئی ووٹ دے ان کو؟ PPP is one of the few parties جن کی سندھ میں ground presence ہے…”
یہاں یہ دانش ور خود اسی “لسانی اور صوبائی نفرت” کو ہوا دے رہے ہیں جس کا یہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں۔ مریم نواز یا نون لیگ کی غلطیوں کو اچھال کر یہ سندھ کے ووٹر کو ڈراتے ہیں کہ “دیکھو، پنجاب والے تمہارے خلاف ہیں، اس لیے تمہارے پاس پیپلز پارٹی کے سوا کوئی چارہ نہیں”۔ یہ سستا خوف (Fear-mongering) بیچ کر پیپلز پارٹی کی پسماندگی کی سیاست کو سندھ کی مجبوری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
**6. “بھٹو کی قبر” بمقابلہ “ضیاء کا مقبرہ” (جذباتی مینیپولیشن)**
**ویڈیو حوالہ:** *Kyon Bhutto Zinda Hay?*
عوام کو منطق سے ہٹا کر جذباتی اندھیرے میں دھکیلنے کے لیے شہزاد صاحب فرماتے ہیں:
“ضیاء الحق کا جو مقبرہ ہے وہ middle of Islamabad ہے… ذوالفقار علی بھٹو کی جو قبر ہے وہ middle of nowhere ہے… آپ مجھے بتائیں کہ ضیاء کی قبر پہ کتنے لوگ ہوں گے اور بھٹو کی قبر پر کتنے لوگ ہوں گے؟ تو پاکستان کی جو عوام ہے وہ یاد رکھتی ہے…”
کیا کمال کا معیارِ دانش وری ہے! شہزاد صاحب کے نزدیک کسی پارٹی کی سچائی اور اس کی کارکردگی کا معیار یہ ہے کہ اس کے لیڈر کی قبر پر میلہ کتنا بڑا لگتا ہے! یعنی گڑھی خدا بخش میں اگر لوگ حاضری دیتے ہیں، تو لاڑکانہ کے ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنا، سڑکوں کا گٹر بن جانا، اور اسکولوں کا بھینسوں کے باڑے میں تبدیل ہو جانا بالکل معاف ہے؟ یہ پبلک کو مینیپولیٹ کرنے کا بدترین طریقہ ہے جہاں مزاروں کی سیاست دکھا کر زندہ انسانوں کی بدحالی سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔
ان کی مینیپولیشن کا اصل طریقۂ کار سمجھیں۔ یہ لبرل اور سو کالڈ نیوٹرل انفلوئنسرز کبھی بھی پیپلز پارٹی کی کرپشن اور ان کے دور میں ہونے والی ڈائریکٹ فائرنگ یا منی لانڈرنگ کا سیدھا دفاع نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں پتا ہے کہ پبلک اتنی بے وقوف نہیں ہے۔ یہ کیا کرتے ہیں؟ یہ آپ کو بظاہر ایک سادہ طریقے سے ایک سیاسی تھیوری بنا کر دیں گے۔ یہ کہیں گے کہ “سسٹم خراب ہے، اسٹیبلشمنٹ خراب ہے، ماضی کے المیے بڑے ہیں”، اور ان تمام بھاری بھرکم الفاظ کے پیچھے پیپلز پارٹی کی 15-20 سالہ بدترین لوٹ مار، ایان علی کے ڈالر اسکینڈلز، پکا قلعہ کے معصوموں کے خون اور سندھ کے دوسرے شہروں کی بربادی کو بڑے خوبصورت طریقے سے چھپا دیں گے۔
یہ آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سندھ میں بھوک، افلاس اور بدحالی پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس “سسٹم” کی وجہ سے ہے جس میں معصوم زرداری صاحب صرف اپنا “پاور شیئر” لے رہے ہیں۔ کراچی میں دو تین اچھے اسپتال دکھا کر یہ ثابت کرنے نکلتے ہیں کہ پورے سندھ میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ باقی پورے سندھ کو انہوں نے بیمار چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ کراچی آنے پر مجبور ہوں۔ یہ دانش وری نہیں، یہ الفاظ کے ہیر پھیر سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ایک کرپٹ مافیا کو لبرل تحفظ فراہم کرنے کا منظم Diversion Plan ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights