سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
جب پاکستان قائم ہوا تو یہاں دیگر شعبہ جات کی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی کافی خلا موجود تھا، جسے علی گڑھ سے فارغ التحصیل بہت سے علما اور ماہرین نے پر کیا، انھی میں سے ایک شخصیت ابوبکر احمد حلیم عرف ابا حلیم بھی تھے، جنھوں نے کراچی میں سول اسپتال کے قریب جامعہ کراچی کا ننھا سا پودا لگایا۔ یہ جگہ آج کراچی کالج کہی جاتی ہے۔ اس وقت یونیورسٹی کے لحاظ سے جگہ کی تنگی کی بنا پر اپنے گھر کے برآمدے کو دفتر بنایا، کرائے کے ٹائپ رائٹر اور ادھار کی پرنٹنگ سے جامعہ کراچی کو شروع کیا۔
پھر اسے 1950 کی دہائی میں موجودہ جامعہ کراچی منتقل کردیا گیا۔
وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا کے دور کے بعد عالمی درجہ بندی میں جامعہ کراچی نیچے جاتی چلی گئی۔ 2006 میں گلوبل رینکنگ میں جامعہ کراچی 600 میں شامل تھی۔ 2008 میں بہتر ہوکر 500 بہترین جامعات میں آگئی۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد 2016 میں 700 بہترین جامعات سے بھی باہر ہوگئی اور 2019 میں 800 کی فہرست سے بھی باہر ہوگئی۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگئی کہ جامعہ کراچی کی زمینوں پرقبضے کی شروعات 1981 میں ہوئی جب بھایائی ہائیٹس بنیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی میں تشدد اور خوں ریزی کی تاریخ 1970 کے زمانے سے شروع ہوتی ہے، جس میں پھر مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم میں کئی جانیں گئیں۔
1977 یونین نے شیخ الجامعہ سے بدتمیزی کی
1977 میں لبرل گروپ کے مصطفین کاظمی نے جمعیت کے امیدوار سلیم مغل کو شکست دے کر یونین صدر بن گئے اور انھوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان رشید کے کمرے میں بدتمیزی کی، انھیں نکال کر تالامار دیا ان کی کرسی کو باہر نکال کرنذر آتشن کر دیا گیا۔
اے پی ایم ایس او 1978 میں قیام کے بعد ضیا مخالف ‘یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس فیڈریشن’ میں شامل ہوئی، سندھ اور کراچی میں مہاجر طلبہ کی اسناد چھین کر پھاڑنے کے واقعات پیش آئے۔
پہلی بار 1979 میں گولی چلی!
سینئر صحفی مظہر عباس بتاتے ہیں کہ 12 اگست 1979 کو اسلامی جمعیت طلبہ کے یونین صدر حسین حقانی اور لبرل اور پروگریسو کے سیکریٹری رفیق پٹیل کی حلف برداری تھی۔ جمنازیم کے بالکل پیچھے ایک بڑے ہال میں یہ سیشن ہوتا تھا۔ آرٹس لابی سے جمنازیم تک پروگریسو فرنٹ اور لبرل اسٹوڈنٹس کے نمائندوں نے احتجاجی مارچ کیا۔ اس پر اسٹین گن سے فائرنگ ہوگئی، 17 اٹھارہ طلبہ طالبات زخمی ہوئے۔ یہ اس وقت تک سب سے بڑاواقعہ تھا۔
1980 “این ایس ایف” کا قدیر آصف قتل ہوا
1980 میں اسلامی جمعیت طلبہ سے ملسح تصادم میں “این ایس ایف” کا کارکن قدیر آصف گولی لگنے سے مارا گیا۔
1981؛ “پی ایس ایف” نے فوجی جیپ جلادی
مارچ 1981 میں پی ایس ایف حکومت مخالف تحریک چلا رہی ہے، جامعات بند ہیں، لیکن جامعہ کراچی کھلی ہے، یہ لوگ جامعہ کراچی بند کرانے کے لیے نعرے بازی کرتے ہیں۔ اس دوران آرمی کی ایک جیپ آتی ہے ایک میجر اتر کر ایڈمن بلاک چلا جاتا ہے اور پی ایس ایف کے جنرل سیکریٹری اکرم قائم خانی جیپ کے قریب جا کر فوج کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جیپ کا ڈرائیور نکل کر بھاگ جاتا ہے۔ جیپ کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ فوجی میجر اپنی بیٹی کا داخلہ کرانے آیا تھا۔
1981 ٹیپو نے جمعیت کے حافظ اسلم کو گولی ماری
پی ایس ایف کے اکرم قائم خانی اسلامی جمعیت طلبہ کے ضرار خان اور فرخ سعید پر خود پر حملے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ پی ایس ایف کے سلام اللہ ٹیپو پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرلیتے ہیں اور کابل لے جاتے ہیں۔ شاہ نواز اور مرتضی بھٹو نے اسے جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک درست اقدام قرار دیا۔ اس سے پہلے ٹیپو اکثر جامعہ کراچی آتا اور وہاں رعب جماتا تھا۔ 26 فروری 1981 کو دوپہر ساڑھے بارہ بجے ایڈمن بلاک پر گاڑی رکتی ہے۔ٹیپو مشین گن اور جدید اسلحے سے لیس ہو کر جامعہ کراچی آکر فائرنگ کرتا ہے اور جمعیت کے ایم ایس سی کیمسٹری کے حافظ اسلم کے سر پر گولی مار کر قتل کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کے جمعیت کے رکن رفیق افغان اور سلام اللہ ٹیپو کا محلے کا جھگڑا تھا جس کی زد میں حافظ اسلم آگیا۔ چند روز بعد اس نے طیارہ اغوا کیا۔
1981:شوکت چیمہ کو مسجد سے گولی ماری
چندروز بعد طلبہ یونین کے انتخابات سر پر تھے۔ اس دوران پی ایس ایف کا شوکت چیمہ جو پہلے جمعیت میں تھا، وہ اسکوٹر پر آتا ہے اور جمعیت کے لڑکوں کو دیکھ کر ایکسلیٹر دینا شروع کر دیتا ہے، جواباً نعرے بازی شروع ہوجاتی ہے اور اس دوران شوکت چیمہ کو گولی لگ جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے یہ گولی مسجد سے جمعیت کے رکن جہان زیب خان تھا۔ ان دنوں ہاسٹل میں پنجابی اور پشتون طلبہ کی اکثریت جمعیت کی حامی تھی اور یہ ہاسٹل جمعیت کے لیے کسی قلعے سے کم نہ تھے۔
این ای ڈی ہاسٹل سے تصادم، جمعیت کا دانش غنی قتل
یونین انتخاب کے اگلے روز این ای ڈی اور جامعہ کراچی میدان جنگ بن جاتی ہے۔ این ای ڈی سے بلوچ طلبہ مورچہ زن ہیں۔ اس میں جمعیت کے دانش غنی کو گولی مار دی جاتی ہے۔ جامعہ کراچی اور این ای ڈی کے ہاسٹل کے درمیان دس پندرہ دن تک فائرنگ ہوتی رہی۔ جدید اسلحے کا استعمال ہوتا تھا۔
1989 نیشنل کالج میں 2، جامعہ کراچی میں 3 طلبہ ہلاک
1983 میں جامعہ کراچی سے اسلامی جمعیت طلبہ جیت گئی، لیکن پنجاب وغیرہ میں شکست ہوگئی۔ دھیرے دھیرے جمعیت کی مقبولیت کم ہو رہی تھی، مخالف مضبوط ہو رہے تھے۔ یونین پر پابندی لگ گئی۔ پی ایس ایف خواتین کی صدر راحیلہ ٹوانہ بتاتی ہیں کہ انتظامیہ اور جمعیت داخلوں سے روکتی تھی۔ 1987 میں کھلے عام اسلحہ لایا گیا۔ ہاسٹل پر قبضے ہونے لگے، کلاسوں کو روکا جانے لگا۔
1990 کے زمانے میں نیشنل کالج کراچی میں نامعوم افراد کی فائرنگ سے پختون ایس ایف کے قاسم خٹک اور طالب علم ندیم قتل ہوئے۔ اے پی ایم ایس او نے ندیم کو اپنا کارکن کہا۔
راحیلہ ٹوانہ کے بقول اس کے بعد انھوں نے جامعہ کراچی میں بیگ میں اسلحہ لاتے دیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ “اس وقت داخلوں کی فہرست آویزاں ہوگئی تھی۔ تب وہاں پی ایس ایف کے لڑکوں کو قطار میں کھڑا کر دیا۔ اور پوچھا کہ ہارون کون ہے؟ اس نے ہمارا لڑکا قاسم خٹک مارا ہے اسے جواب دینا ہے۔ لیکن وہ پختون نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے لڑکے تھے۔ اس دوران ایک ذرا بڑی عمر کے شخص نے آکر برسٹ مار دیا۔ چوہدری ہارون رشید کا بھیجا گیارہ فٹ تک گیا۔ سہیل رشید بھاگا تو اسے مارا ، عزیز اللہ اجن کو دو گولیاں ماریں۔ محمود ٹانگوں پر گولیاں ماریں وہ معذور ہوگیا۔”
واقعے کے بعد پولیس جامعہ کراچی میں قدم نہ رکھ سکی۔ لاشیں کئی گھنٹے پڑی رہیں۔ گورنر سندھ فخر الدین ابراہیم نے این ای ڈی میں تمام شیخ الجامعہ سے میٹنگ کی اور رینجرز بلانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ 1989 میں رینجرز جامعہ کراچی آگئی۔
1999، جمعیت “پی ایس اے” تصادم، طالب علم جاں بحق
8 اپریل 1999 میں جمعیت اور پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا تصادم ہوا نوٹس بورڈ پر پمفلٹ لگانے پر تنازع ہوا، پی ایس اے کے مقابل خلاف معمول جمعیت کو بھاگنا پڑ گیا۔ ان کے تین کارکن نرغے میں آگئے۔ دو بھاگ گئے۔ ایک تشدد ادھ موا ہوگیا۔ اسے پھینک کر بھاگے۔ 15 بیس دن آئی سی یو میں رہا۔ ذہنی توازن بھی بہت دن خراب رہا۔ پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن شاہ فیصل کے علامہ اقبال کالج گڑھ تھا، وہاں سے لڑکے بھر کر لائے جاتے۔ پی ایس اے نے ڈنڈے پتھر اور بوتلیں چھپا دیں۔ 9 اپریل کو پنجابی اسٹوڈنٹس نے گلشن حدید سے آنے والے پوائنٹ کو چھوٹا گیٹ پر روکا سب کو اتار کر بس اغوا کی اور خلاف معمول صفورہ کے راستے اسٹاف گیٹ سے جامعہ کے اندر لے گئے۔ یہ پوائنٹ کے لیے کبھی نہ کھلتا تھا۔ اگر ان کے 100 کارکنان تھے تو بہ مشکل 25 ہی جمع ہو سکے۔ ان کی چھپائی گئی بوتلیں ڈنڈے غائب ہو چکے تھے۔ تین ٹولیں میں جمع ہوگئے۔ جمعیت کے کارکنان ان کی طرف بڑھے، ایڈمن بلاک کے سامنے “پی ایس اے” کے کاشف اقبال کو ڈنڈے مار مار کر قتل کر دیا، کئی گھنٹوں بعد روپوش “پی ایس اے” طلبہ رینجرز کے پاس جمع ہوئے اور پھر نکلے۔ اس الزام میں کئی گرفتار ہوئے جس میں سے 3 کارکنان سات ماہ تک جیل میں رہے۔
2007 تین کارکنان جمعیت سمیت 4 قتل
12 ستمبر 2007 میں جمعیت نے اے پی ایم ایس او کے “وائٹ ڈے” پر حملہ کر دیا، کہ اس پروگرام میں باہر کے لوگ آئے ہیں۔ 13 ستمبر 2007 کو “جی سیون” کی بس میں جمعیت کے کارکنان کو بس روک کر گولیاں ماریں۔ مرنے والوں نے عمران شاہد، غلام صدیق، عاطف حسین شامل تھے۔ عام مسافر حبیب خان کی بھی جان گئی۔ الزام “اے پی ایم ایس او” پر آیا۔
2008 دو جمعیت ایک متحدہ کا طالب علم قتل
26 اگست 2008 کو “اے پی ایم ایس او” کے روایتی وائٹ ڈے کا اعلان ہوا۔ جس میں حسب روایت الطاف حسین کی سال گرہ منائی جاتی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اعتراض کیا۔ اور اسی میں جمعیت ایک بار پھر اے پی ایم ایس او کے آڑے آگئی۔ شدید تصادم ہوا، اس کے بعد مبینہ طور پر “مسکن” سے گاڑیاں اور “کے کے ایف” کی ایمبولینس آئیں۔ اس تصادم میں “اے پی ایم ایس او” کے رکن محمد رامش کی بھی ہلاکت ہوئی۔ جب کہ جمعیت کے عبدالجبار کو میتھ اور اسامہ بن آدم کو سوشل ورک کے قریب گولی ماری گئی۔ کے کے ایف کی ایمبولینس میں گولیاں مارنے کے الزام جمعیت نے لگایا۔
Categories
جامعہ کراچی: پہلی گولی سے مورچہ بند فائرنگ تک!
