سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
یوں تو اسکول کے زمانے سے ہی ہمیں سیاست اور تاریخ سے دل چسپی پیدا ہوگئی تھی، اسی الیے اخباری تراشے، مضامین، کالم اور فیچر کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں انٹرویو بھی محفوظ ہیں۔ گذشتہ دنوں کچھ وقت ملا تو یہ پرانے انٹرویو دوبارہ دیکھنے کا موقع ملا۔
یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ سیاست دانوں نے کس کس طرح سے پینترے بدلے تھے، کیا کیا نام لیجیے اور دیکھیے کہ پہلے کیا کہتے تھے اس کے بعد کیا موقف اپنا لیا۔ مندرجہ ذیل میں ہم نے 8 مختلف راہ نمائوں کے وچار پیش کرنے کی جسارت کی ہے، آپ خود دیکھیے.

دو بار وزیراعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو کا انٹرویو تو کیا کمال کا ہے، آپ خود ملاحظہ فرمائیے کہ “میں نواز شریف پر جنرل پرویز مشرف کو ترجیح دوں گی” اس کے بعد کسی اور کلام کی کیا گنجائش ہے، اس کے بعد انھوں نے اپنے روایتی حریف نواز شریف سے باقاعدہ تحریری مفاہمت کی جو “مذاق جمہوریت” ہمارا مطلب ہے “میثاق جمہوریت” کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔

اس کے بعد ہمارے اور آپ کے “تبدیلی” وزیراعظم بننے والے عمران خان نیازی۔۔۔ یہ انٹرویو 2000 کے زمانے کا ہے جس میں عمران خان کہتے ہیں کہ “میرے بچے پاکستان ہی میں تعلیم حاصل کریں گے” اس کے بعد عمران خان کے بچے نہ صرف تعلیم باہر حاصل کر رہے تھے، بلکہ اب وہ مستقل وہیں مقیم ہیں۔ اگرچہ اس میں ان کی جمائما گولڈ اسمتھ سے طلاق کا واقعہ بھی رونما ہوا۔

اس وقت کے بھی سابق وفاقی وزیر اور بعد میں بھی دو مرتبہ وفاقی وزیر رہنے والے شیخ رشید احمد نے کہا کہ “پارٹی (یعنی نواز لیگ) نے فارغ بھی کردیا تو بھی ق لیگ میں نہیں جائوں گا۔” اس انٹریو کے کچھ ہی دن بعد دیکھا کہ شیخ رشید ببانگ دہل ق لیگ میں گئے۔ جب ق لیگ کا زمانہ گیا تو انھوں نے اپنی عوامی مسلم لیگ بنالی، اس کے بعد عمران خان کے ساتھی ہوگئے۔ عمران خان کے زوال کے بعد اب وہ گوشہ نشین ہیں۔

آگے بڑھے تو 2000 ہی کے زمانے کا ایک انٹرویو “نئی سیاسی جماعت” ٹائیگرز آف پاکستان” کے سربراہ اور سابق پولیس افسر ممتاز احمد برنی کا ملا، جن کا ارشاد تھا “عوام جمہوریت سے عاجز آچکے ہیں” پتا نہیں اس موقف کے باوجود انھوں نے سیاسی جماعت ہی کیوں بنائی؟ اس کے بعد یہ صاحب اور ان کی جماعت کہاں گئی، بلکہ شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو کہ اس نام کی کوئی سیاسی جماعت اور یہ صاحب کہیں تھے بھی۔۔

اسی میں لش کر طی بہ کے سربراہ حافظ سعید کا ایک انٹرویو ہے کہ “کشمیر کا حل صرف جہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے، دو چار سال میں کشمیر آزاد ہوجائے گا” اصل بیان یہ ہے کہ “ہم انتخابی سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیں گے، کیوں کہ انتخابات مغربی جمہوریت کا طریقہ کار ہے جس کے ہم خلاف ہیں، جمہوریت نے پاکستان کو ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے۔”
موجودہ صورت حال کیا ہے؟ اس بارے میں آپ کو خود بہتر پتا ہونا چاہیے۔ یہ بہت دل چسپ انٹریو ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہی 25 سال پرانے اس انٹرویو میں خلاف معمول ان کی تصویر شامل نہیں اور ساتھ یہ لکھا گیا ہے کہ وہ تصویر نہیں کھنچواتے اس لیے یہ انٹرویو بغیر تصویر کے شائع کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد بہت عرصہ ہوا کہ وہ تصویر کھنچوانے بھی لگے۔

اس کے بعد اس وقت کی “ملت پارٹی” (جو سابق صدر فاروق لغاری نے بنائی تھی اور پھر ق لیگ میں ضم کردی تھی) کے مرکزی راہ نما سینٹیر محمد علی درانی نے کہا “ملت پارٹی مفادات اور پیسے کی سیاست کا خاتمہ چاہتی ہے” آج برسوں بعد مفادات اور پیسے کی سیاست تو ختم نہ ہوئی، لیکن ملت پارٹی ضرور ختم ہوگئی۔ اور رہے محمد علی درانی، تو وہ بھی کہیں نہ کہیں کبھی کبھی دکھائی اور سنائی دے جاتے ہیں۔ اگرچہ اسے کافی عرصہ بیت چکا ہے۔

کوئی دو عشروں سے پہلے کا ہی ایک انٹرویو “البدر مجاہدین” کے سربراہ بخت زمین خان کا ہے کہ “کشمیر دو سال میں آزاد ہوجائے گا” شاید ابھی دو سال شروع نہیں ہوئے۔۔

عوامی تحریک کے سربراہ ممتاز سندھی قوم پرست رسول بخش پلیجو نے کہا “بے نظیر، الطاف حسین اور نواز شریف کو سخت سزا ملنی چاہیے” موصوف مرکزی سطح پر اتنے اہم تو نہیں رہے، لیکن مستقل مزاجی سے وہ متحرک رہے، اب ان کے بیٹے ایاز پلیجو فعال ہیں۔

(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
