سمے وار (مرسلہ: شاہد شاد)
ہر خاندان میں ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب کوئی بہت پُرجوش کزن واٹس ایپ گروپ بناتا ہے۔
اس کے بعد خاندان کبھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔
ہمارے خاندان میں بھی ایک گروپ بنا۔ نام رکھا گیا:
“ہم سب ایک ہیں”
گروپ بنانے والے کزن نے سب سے پہلا پیغام لکھا:
“السلام علیکم سب کو۔ یہ گروپ صرف ضروری باتوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ براہِ کرم غیر ضروری ہر قسم کی اصلاحی، تبلیغی، معلوماتی، سائنسی اور مزاحیہ ویڈیوز اور فارورڈ چیزوں سے بالکل گریز کریں۔”
یہ پیغام بھیجنے کے تقریباً تین منٹ بعد سب سے پہلے ایک آنٹی نے “صبح بخیر” والی تصویر بھیجی، حالاں کہ وقت رات کے ساڑھے دس بجے تھا۔
تصویر میں سورج نکل رہا تھا، ایک چائے کا کپ تھا، دو گلاب تھے اور نیچے لکھا تھا:
“جو لوگ دوسروں کے لیے اچھا سوچتے ہیں، اللہ ان کے لیے اچھا کرتا ہے۔”
سب نے ادباً دل والے ایموجی بھیج دیے۔
پھر ایک ماموں نے اپنی طرف سے “وعلیکم السلام” لکھنے کی کوشش کی، مگر voice typing آن تھی۔ گروپ میں ان کا پیغام آیا:
“وعلیکم السلام میں نے چاول بھگو دیے ہیں۔”
کسی نے کچھ نہیں کہا۔
ایک منٹ بعد انہوں نے وہ پیغام حذف کردیا۔
پھر ایک اور پیغام آیا:
“یہاں پتا نہیں کیسے لکھا جاتا ہے۔”
وہ بھی مٹ گیا۔
گروپ کا اصل مقصد چھوٹے کزن کی شادی کے لیے انتظام کرنا تھا۔ منتظم نے لکھا:
“تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اتوار تک بتا دیں کہ کتنے افراد آئیں گے تاکہ کھانے کا انتظام ہو سکے۔”
پہلا جواب آیا:
“ان شاء اللہ۔”
دوسرا جواب:
“دعا میں یاد رکھیے گا۔”
تیسرا جواب:
“ماشاءاللہ بہت خوشی ہوئی۔”
چوتھا جواب ایک ویڈیو تھی، جس میں ایک بچہ کیک کاٹ رہا تھا۔
کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے لوگ آئیں گے۔
دو گھنٹے بعد منتظم نے دوبارہ لکھا:
“مہربانی کرکے صرف افراد کی تعداد بتا دیں۔”
اس بار ایک خالہ نے جواب دیا:
“بیٹا، ابھی بچوں سے پوچھ کر بتاتی ہوں۔ چھوٹا والا کہہ رہا ہے وہ نہیں جائے گا، لیکن وہاں چکن کڑاہی ہوئی تو پھر ضرور جائے گا۔”
دوسری خالہ نے فوراً لکھا:
“اسے لے آنا، بچے خوش رہیں تو گھر میں برکت رہتی ہے۔”
پھر بحث شروع ہوگئی کہ کھانے میں بریانی ہونی چاہیے یا پلاؤ۔
ماموں نے لکھا:
“شادی ہے یا دیگ کا مقابلہ؟ جو بھی ہو، سالن اچھا ہونا چاہیے۔”
ایک کزن نے لکھا:
“Please no more food discussion.”
یہ پیغام بھی اسی گروپ میں چلا گیا جس میں سب food discussion کررہے تھے۔
اس کے بعد تقریباً پانچ منٹ تک خاموشی رہی۔
پھر اسی کزن کی والدہ نے لکھا:
“بیٹا اگر تمہیں اتنا مسئلہ ہے تو گروپ چھوڑ دو۔”
اس نے فوراً جواب دیا:
“امی میں آپ کو نہیں کہہ رہا تھا۔”
مگر وہ کس کو کہہ رہا تھا، یہ کسی نے نہیں پوچھا۔
اگلے دن منتظم نے شادی کے تحفے کے لیے پیغام بھیجا:
“فیملی گفٹ کے لیے ہر گھر سے پانچ ہزار روپے جمع کیے جا رہے ہیں۔ براہِ کرم جمع کرا دیں تاکہ وقت پر تحفہ لیا جا سکے۔”
اس کے بعد گروپ میں وہ خاموشی آئی جو عموماً امتحان کے بعد “پیپر کیسا ہوا؟” پوچھنے پر آتی ہے۔
ایک گھنٹے بعد ایک کزن نے صرف یہ لکھا:
“Done.”
کسی نے پوچھا:
“کتنے بھیجے ہیں؟”
اس نے جواب دیا:
“میں نے میسج پڑھ کرلیا ہے۔”
دو دن گزر گئے۔ پچاس کے قریب افراد گروپ میں موجود تھے۔
ہر صبح سلام، ہر دوپہر کوئی مزاحیہ ویڈیو، کوئی حیران کن سائنسی ویڈیو اور کوئی اپنی پارٹی کی سیاسی پروپگینڈے کی ویڈیو کے ساتھ ہر شام کسی کی پرانی تصویر، مگر پانچ ہزار بھیجنے والے صرف تین لوگ تھے۔
آخرکار منتظم نے گروپ کا نام تبدیل کردیا۔
“ہم سب ایک ہیں ” سے اب بن گیا:
“پانچ ہزار ابھی بھیج دیں”
گروپ میں فوراً ہل چل مچ گئی۔
ایک آنٹی نے پوچھا:
“یہ نام کس نے بدلا؟”
ماموں نے لکھا:
“میرے موبائل میں بھی یہی آرہا ہے، شاید واٹس ایپ کا کوئی اضافہ آیا ہے۔”
اسی دوران منتظم نے آخری پیغام بھیجا:
“جن لوگوں نے رقم بھیج دی ہے، ان کا شکریہ۔ باقی لوگ براہِ کرم آج شام تک کر دیں۔”
تھوڑی دیر بعد سب سے پہلے وہی ماموں، جنھوں نے چاول بھگو دیے تھے، گروپ سے نکل گئے۔
پھر ایک خالہ نکلیں۔
پھر ان کے شوہر نکلے۔
پھر دو کزن نکل گئے۔
رات تک گروپ میں صرف سات لوگ رہ گئے: منتظم، وہ تین لوگ جنھوں نے پیسے بھیجے تھے، اور تین آنٹیاں جو ابھی تک “صبح بخیر” کی تصاویر بھیج رہی تھیں۔
اگلی صبح گروپ میں ایک نئی تصویر آئی۔
ایک خوب صورت سا سورج، چائے کا کپ، گلاب کے پھول۔
نیچے لکھا تھا:
“رشتے پیسوں سے نہیں، دل سے بنتے ہیں۔”
اور اس کے فوراً بعد منتظم کا پیغام آیا:
“بالکل خالہ۔ لیکن تحفے کی دکان والے دل قبول نہیں کررہے۔”
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
خاندان کا واٹس ایپ گروپ: کیا سے کیا ہو گیا
