Categories
Education Exclusive History of Pakistan India Interesting Facts Media Tahreem Javed اردوادب انکشاف تحریم جاوید تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی قومی تاریخ

پاکستانی فلموں میں ہندوستانی آوازیں کب سے؟

سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
پاکستان اور ہندوستان بہ یک وقت جنم لینے والے عجیب وغریب ملک ہیں، ان کے درمیان اچھے تعلقات اور دوستی نہ ہونے کے برابر رہی۔ بس جنگی ماحول نہ ہو یا کم سے کم مذاکرات ہو رہے ہوں تو یہ اسے خوش گوار دور کہا جاتا ہے۔ اور اس دھینگا مشتی میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے اظہار کے طریقے بھی ڈھونڈے جاتے ہیں، جس میں ایک دوسرے سے تجارت منقطع کرنے کےساتھ ثقافتی دوری بھی ہے۔
جیسے 1965 کی جنگ کے بعد ہندوستانی فلموں پر پابندی لگی، تو چالیس پچاس سال بعد جا کر کچھ پابندی نرم ہوئی اور پھر اس سے زیادہ سخت پابندیاں ہوگئیں، یہاں تک کہ فن کاروں کے ایک دوسرے کے ہاں کام کرنے پر پابندی ہوگئی، حالاں کہ تعلقات اچھے نہ ہونے کے باوجود یہ تاریخ کافی طویل اور کافی دل چسپ ہے۔ باری باری جائزہ لیتے ہیں، اس سے پہلے نور جہاں نے تقسیم سے پہلے ہندوستانی سینما کے لیے بھی کام کیا ہے۔ اسے اب ہندوستانی کہیں گے یا پاکستانی؟
۔
پاکستانی فلم بڑا آدمی (1957) میں مبارک بیگم نے پاکستانی فلم کے لیے احمد رشدی کے ساتھ دوگانا گایا تھا۔
راز (1959) میں مبارک بیگم نے چار گانے گائے، جن میں احمد رشدی کے ساتھ دوگانے بھی شامل تھے۔ اس کے مشہور گیتوں میں پتلی کمر موری ترچھی نظر قابل ذکر ہے۔
گھنگھور گھٹا 1961 میں طلعت محمود نے گائیکی کا مظاہرہ کیا۔
اداکار محمد علی کی پہلی فلم چراغ جلتا رہا 1962 میں بھی طلعت محمود کے دو عدد گانے تھے۔
اس کے بعد 1965 کی جنگ کی کشیدگی کا اثر تھا کہ یہ سلسلہ آگے نہ دیکھا جاسکا۔
طویل عرصے بعد 1995 میں عدنان سمیع کی فلم سرگم میں آشا بھوسلے کی آواز سننے کو ملی۔ ان کے گائے ہوئے گانوں میں ذرا ڈھولکی بجائو گوریو!
اس کے بعد پھر تسلسل باقی نہ رہ سکا، لیکن 2000ء کے بعد یہ سلسلہ بہت تیز رہا۔
گھر کب آئو گے 2000 میں بہت سے ہندوستانی گائیک شامل ہوئے۔
تیرے پیار میں 2000 میں ہی ہندوستانی گلوکار سونو نگم، کویتا کرشن مورتی، ہِیما سردیسائی، جسپندر نرولا وغیرہ شامل رہے۔
فلم ’یہ دل آپ کا ہوا‘ 2002 میں سونو نگم کویتا کرشن مورتی کے ساتھ ساتھ مشہور زمانہ کمار سانو کے گیت بھی شامل رہے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ وہ دور تھا کہ اس میں گلوکاروں کے نام تک نہیں بتائے جاتے تھے تاکہ ناظرین کو ’’دھوکا‘‘ دیا جاسکے، لیکن آواز سننے والے صاف پہچان جاتے تھے کہ یہ پاکستانی آوازیں نہیں ہیں۔
پیار ہی پیار میں 2003 میں پامیلا جین و دیگر ہندوستانی آوازیں شامل رہیں۔
کوئی تجھ سا کہاں 2005 میں اڈت نارائن، الکا یاگنک، شریا گھوشال، اور ابھیجیت جیسے ہندوستانی گلوکار شامل رہے۔
پنجابی فلم محبتٰں سچیاں 2008 میں سونو نگم، شریا گھوشال، سنیدی چوہان، رچا شرما جیسے ہندوستانی گائیک شامل ہوئے۔
فلم کھولے آسمان کے نیچے 2008 میں بھی بھارتی گلوکار شامل رہے۔
ایک اور فلم لو میں گُم 2011 میں شریا گھوشال سمیت دیگر ہندوستانی گلوکار شامل رہے۔
فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی 2013 میں نیتی واگھ نے گانئے گائے۔
فلم سسٹم 2014 میں جاوید علی اور دیگر نے پلے بیک سنگنگ کی۔
اس کے علاوہ 2014 میں فلم سلطانہ میں بھی ہندوستانی گائیک سنائی دیے۔
فلم بن روئے 2015 میں ریکھا بھاردواج، انکت تیواری اور ہرش دیپ کور جیسے ہندوستانی گلوکار شامل رہے۔
اس کے بعد پھر یک دم ہندوستانی گلو کارون کی شمولیت بند ہوگئی اور دس سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔
جب کہ ہمارے ہاں سے مہدی حسن، ریشماں، نازیہ حسن، نصرت فتح علی خان، شفقت امانت، علی عظمت، راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم تک بہت سے پاکستانی گلوکاروں نے بھی وہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کا مشترکہ موسیقی کا ورثہ کوئی تھوڑا نہیں ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights