سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
ایم کیو ایم کے سابق راہ نما اور پی ایس پی کے سابق جنرل سیکریٹری اور پیپلزپارٹی کے موجودہ راہ نما اور مشیر وزیراعلیٰ سندھ رضا ہارون کا ایک انٹرویو دیکھا کہ وہ فرما رہے ہیں کہ کیا کرنے کے کام سارے ہوگئے جو اسمبلی شراب پر پابندی کا بل لا رہی ہے۔
بالکل یہی بات ہمارے ذہن میں بھی آئی تھی جب وڈیرا حکومت نے کراچی میں حیرت انگیز رفتار دکھاتے ہوئے چالان بھیجنے کے لیے کیمرے لگائے تھے۔ کیا سڑکیں بنا لیں؟ کیا کچرا صاف کرلیا؟ روشنی کا مناسب انتظام، شہریوں کے لیے آمدورفت کا تحفظ وغیرہ جیسے بنیادی کام انجام پا گئے ہیں کہ ان کے لیے جدت کے نام پر ایک مستقل تلوار لٹکا دی گئی اور شہریوں نے چاروناچار تحفظ کے نام پر یہ مصیبت قبول بھی کرلی۔
جب پچھلے برس یہ کیمرے مسلط ہوئے تو امید تھی کہ ضرور ان سے شہریوں کے تحفظ کا کام بھی لیا جائے گا، لیکن اگست 2026 کی ’سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق اس ماہ 1884 موبائل فون چیھنے گئے، اور یہ تو صرف سی پی ایل سی کے اعدادوشمار ہیں۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ تعداد اس سے کتنی زیادہ ہوسکتی ہے۔ باقی شہریوں کے ساتھ نازیبا حرکتوں کے ساتھ قتل وغارت اور لوٹا ماری تک کے واقعات اسی تیزی اور آزادی سے جاری ہیں، جس سے یہ واضح ہوگیا کہ ان کیمروں سے جان ومال کا تحفظ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ کیمرے صرف کمائی کا دھندا ہیں، ورنہ شہر قائد میں امن وامان نہ بھی ہوتا، کم سے سڑکوں اور گلیوں میں ہونے والے کم جرائم کی شرح میں واضح کمی تو ضرور آجاتی، شاید دیہی سندھ سے منتخب ہونے والوں کا منشا یا مقصد یہ ہے ہی نہیں۔۔۔
اب دیکھتے ہیں کہ جو صرف تعصب کی بنیاد پر ان کیمروں کے قصیدے پڑھ رہے تھے کہ نظم وضبط آجائے گا، لوگ گاڑیاں ڈھنگ سے چلائیں گے۔۔۔
خود ہی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا رانگ سائیڈ سے آنے والی گاڑیوں میں کوئی رکاوٹ ہوئی؟
سمع خراچ ہارن کا مسئلہ حل ہوا؟
آدھی گاڑیوں پر اب بھی اندھا کردینے والی ہیڈ لائٹ موجود ہیں۔۔
تیز رفتاری کے مسائل اب بھی ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مجال ہے کہ ذرا سا بھی کوئی اثر ہوا ہو، صرف وہاں کوئی اثر ہوگا تو ہوگا کہ جہاں کیمرے ہیں یا شاید وہاں بھی اس سرعت سے اس پر قابو نہیں پایا جا رہا ہے، ورنہ شہر کے بے ہنگم ٹریفک میں کہیں تو رکاوٹ ہوتی۔
کوئی تو بے وقت آنے والے ڈمپر اور ٹرالر کو خوف ہوتا، کہیں تو کئی اثر دکھائی دیتا۔۔
عملی طور پر یہ کیمرے صرف آن لائن بھتا بن چکے ہیں، جو پرچی کی صورت میں گھر پر پہنچ جاتا ہے۔ کہیں پر گاڑی کھڑی کردی غلطی سے، لیجیے ہزاروں روپے کے چالان منتظر ہیں، کہیں پر شہریوں کے فائدے کی کوئی بات نہیں، سب حکومت کی لوٹا ماری کی سہولت ہے۔۔۔
Categories
کراچی والوں پر آن لائن بھتے کی تلوار!
