Categories
Education Exclusive Health Karachi Media Society Tahreem Javed انکشاف تحریم جاوید تعلیم دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار- راہ نمائی کراچی

کراچی میں لاشیں سونگھنے والے گِدھ

سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
شہر ناپرساں کراچی میں کوئی دن ہی جاتا ہے کہ جب کوئی قتل وغارت، ڈکیٹی راہ زنی اور یہ سب نہیں تو خوں ریز حادثات اور سانحات کی خبر نہ آتی ہو۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ایسے واقعات کسی نہ کسی طور پر بڑھتے ہی جا رہے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ایک چیز پتا نہیں آپ نے کبھی محسوس کی یا نہیں وہ ان لاشوں کے ساتھ غیر محسوس طریقے سے اس شہر کے فلاحی اداروں کی تشہیر ہے۔
جی ہاں، آپ کسی بھی سانحے کی ویڈیو دیکھیے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان فلاحی اداروں نے باقاعدہ اپنے کیمرا مین بٹھا رکھے ہیں جو اپنی ایمبولینسوں کی نقل وحرکت اور ہٹو بچو کا شور کرتی گاڑیاں، اور پھر مرنے والوں پر اپنے نام کی چادر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی ان نام نہاد فلاحی ایمبولینسوں نے لاش سونگھنے والے گدھوں کی شکل اختیار کرلی ہے، جو شہر میں نئی پرانی ، مرد کی اور عورت کی جیسی بھی ہو لاش کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور جیسے ہی کوئی لاش آجائے بس ان کی قسمت جاگ اٹھتی ہے۔ ٹی وی پر کوئی بھی ویڈیو دیکھیے آدھے سے زیادہ مناظر ان کی ایمبولینسوں کے ہوتے ہیں، جس میں جائے وقوعہ سے لے کر اسپتال اور اسپتال سے پوسٹ مارٹم اور تدفین تک کے مناظر کو فلم بند کیا گیا ہوتا ہے۔
ان ایمبولینس کے اداروں نے شہر بھر کے کرائم رپورٹروں سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے، اور جوں ہی کوئی لاش گرتی ہے ویسے ہی یہ حرکت میں آتے ہیں اور اپنی ایمبولینس کا ایک اشتہار بنا کر ان رپورٹروں کے گروپ میں روانہ کردیتے ہیں۔ جس سے رپورٹروں اور کیمرا مینوں کو پکا پکایا مل جاتا ہے اور ان ایمبولینس چلانے والے نام نہاد فلاحی ادارون کی مفت کی تشہیر ہاتھ آجاتی ہے۔
دوسری طرف عملی طور پر ان فلاحی اداروں کو کبھی مریض لے جانے کے لیے کال کیجیے تو پیسے اور ناجائز یا جائز پیسے لینا تو دور کی بات ہے، یہ آپ کو صاف منع کردیں گے اور کہیں گے فلاں کی ایمبولینس بلالیں اور فلاں کی بلالیں، جب کہ فلاں والے بھی ٹوپیاں کراتے رہتے ہیں، انھیں بھیجنی ہی نہیں ہوتی، یہ ہنگامی صورت ہوتی ہے، کسی کی جان کا خطرہ ہوتا ہے، لیکن ایمبولینس ہوتی ہے آکر نہیں دیتی۔ اس سے اچھا تو سرکاری 1122 والے ہیں، وہ ان کے مقابلے میں کم از کم انسانیت تو دکھاتے ہیں۔ اگر آپ نے اسپتال کی راہ داریوں میں کسی اپنے کو کھو دیا ہے تو بس پھر اسپتال سے میت لے جانے کے لیے کوئی گاڑی اس شہر میں موجود نہیں ہے۔ لیکن جیسے ہی ان ایمبولینسوں کو کسی ناگہانی کا پتا چلے کوئی حادثہ ہو، کہیں سے لاشیں نکل آئی ہوں تو بس پھر درجن کے حساب سے ایمبولینس پیں پیں کرتی ہوئی آموجود ہوں گی، کیوں کہ وہاں سارے چینل کے کیمرے ہوں گے۔ لوگ دیکھیں گے اور ان کے نام پر چندہ خوب بڑھ بڑھ کر آئے گا۔۔۔
کوئی ہے جو ان اداروں سے سوال پوچھے، یا کم از کم ہمارے چینل ان لاشوں کے نام پر ان کی مفت کی تشہیر تو بند کریں تاکہ ان کی یہ بری عادت کی اصلاح ہو۔ ایسا نہ لگے کہ لاشوں پر نام لگانے کے لیے اور لاش اٹھانے کے لیے دوڑ لگا رہے ہیں اور عام شہری ان کی سہولت کے لیے خوار بیٹھا رہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights