سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
جامعہ کراچی میں محض 9 برسوں (1966 تا 1975) میں 9 میں سے 3 طلبہ یونین صدور ’پنجابی سوداگرانِ دہلی‘ برادری سے تعلق رکھتے تھے!
سلطان چاؤلہ جو کہ بعد میں ایوان صنعت وتجارت سے لے کر سماجی شعبے میں معروف رہے ہیں، محمود اللہ والا (مرحوم) بھی سیاسی و سماجی خدمت کے شعبے میں سرگرم رہے، جب کہ شفیع نقی جامعی نے ’بی بی سی‘ اردو سے دنیا بھر میں اپنے فن کی دھاک بٹھائی اور اب بھی لندن میں مقیم اور کافی علیل ہیں۔
دلی کی یہ ’پنجابی سوداگران‘ برادری بالکل میمن برادری کی طرح تجارت پیشہ تھی اور آج بھی ہے۔
معروف تبت کریم، اصلی پری دھاگا، ڈالر انک، سنو وہائٹ، ٹپ ٹاپ، الیاس پریس، شفیق پریس، ثنا اللہ، زبیداز، لالی والا، میڈی کیم، ٹچ می، انگلش مایونیز، ڈکس اسٹیشنریز، ہیبٹ اسٹورز، بن سعید، ریپکوم ایڈورٹائزنگ اور فِرپو گروپ آف کمپنیز وغیرہ اسی برادری کے مشہور و معروف کاروباری ادارے ہیں۔
کراچی کا معروف تاج محل ہوٹل جو بعد میں ’ریجنٹ پلازا‘ کہلایا اور اب ’ایس آئی یوٹی‘ کا اسپتال ہے، بھی اسی برادری کے فیروزالدین باویجہ کا تھا۔ مہران ہوٹل اور جیبس ہوٹل صدر کی ملکیت بھی اسی برادری کے پاس تھی۔
۔
کل ’فیس بک‘ پر جناب ڈاکٹر محمود غزنوی کی جانب سے لگائی گئی جامعہ کراچی کی طلبہ یونین کے صدور کی فہرست دیکھی، تو خیال آیا کہ 9 سال میں تین صدور دینے والی ’پنجابی سوداگرانِ دہلی‘ میں کیا اس کے بعد تعلیمی اور علمی شعبہ زوال پذیر ہوگیا۔۔۔؟
اگرچہ اُس وقت بھی اس برادری کی معروف ’غیر کاروباری‘ شخصیات آج بھی جانی پہچانی جاتی ہیں، جن میں
ڈاکٹر منظور احمد (معروف فلسفی، جامعہ کراچی، سابق ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)،
عمر فاروقی (بانی روزنامہ ’انجام‘)
بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمن صدیقی (سابق ترجمان ’آئی ایس پی آر‘)،
محمد رفیع شمسی (روح و رواں جمعیت تعلیم القرآن)
شکیل عادل زادہ (بانی سب رنگ ڈائجسٹ)،
مسٹر دہلوی (معروف مزاح گو شاعر)،
ایس ایم نقی (براڈ کاسٹر ریڈیو پاکستان)،
پروفیسر یسین معصوم (معروف مصنف وسفرنامہ نگار)،
عبدالخالق اللہ والا (سابق ڈپٹی میئر کراچی)،
سلطان رفیع (ادیب و کالم نگار)،
اقبال یوسف (سابق مشیر وزیراعلیٰ سندھ)
یونس ریاض (بانی روزنامہ ’بیوپار‘)
پروفیسر محمد نقی چاندنہ (ماہر تعلیم، سابق رجسٹرار ہمدرد یونیورسٹی)
اور
جاوید سلطان جاپان والا (سابق صوبائی وزیر خزانہ)
جیسے نمایاں نام دکھائی دیتے ہیں، جن کا میدان تجارت کے سوا دیگر رہا۔
اِس کے بعد کے زمانے میں ہمیں ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی (پاکستان کے ممتاز ماہر امراض خون اور بانی NIBD اسپتال)،
شعیب یونس (پاکستان کی نمائندگی کرنے والے معروف کراٹے ماسٹر)،
انور نسیم چاندنہ (بانی عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ)،
ڈاکٹر عرفان الٰہی چاندنہ (معروف ماہر امراض قلب، ٹبا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ)،
اسلم خالق (بانی ہنر فاؤنڈیشن)،
سیما کامل (سابق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک)،
جاوید بسام (مصنف اور کہانی کار)،
طارق جمیل بھولا والے (بانی بزم شعر و سخن)،
ڈاکٹر قمر العارفین (پی ایچ ڈی کیمسٹری، کالج اسسٹنٹ پروفیسر) اور
کائنات غزل (بچوں کی صاحب کتاب کہانی کار) وغیرہ جیسے مشاہیر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
* اس کے علاوہ تحریک انصاف کے سابق گورنر عمران اسمعیل بھی ’پنجابی سوداگران دہلی‘ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے چچازاد زاہد سعید (انڈس فارماسیوٹیکل) ادویہ سازی کے شعبے میں معروف اور جماعت اسلامی کراچی کے ایک بہت فعال رکن ہیں اور قومی اسمبلی کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ایک معروف رکن خالد سلطان بھی اسی ’پنجابی سوداگران دہلی‘ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
اگر اس ’غیر تاجر‘ فہرست میں اقبال راجا صاحب کا ذکر نہ ہو تو زیادتی ہوگی، آپ اگرچہ مرکزی طور پر ایک کاروباری شخصیت ہی تھے، افسوس انھوں نے بہت زیادہ گوشہ نشینی کو ترجیح دی اور اپنی سخن وَری کو کتابی شکل میں بھی محفوظ نہیں کیا، لیکن جس سلیقے سے انھوں نے اپنے ادبی کردار سے انصاف کیا ہے، اس کا ذکر کرنا بھی لازمی ہے۔
ہم نے فہرست طویل ہونے کے خدشے کے پیش نظر اس میں معروف کاروباری شخصیات شامل نہیں کیں، ورنہ ایوان صنعت وتجارت کراچی اور ’کاٹی‘ (کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری) وغیرہ جیسی بے شمار کاروباری انجمنوں کے عہدے اکثر و بیش تر اسی برادری کے لوگوں کے پاس رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔
* معروف مزاح نگار ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی بھی اسی برادری کے داماد تھے، پروفیسر عنایت علی خان ٹونکی صاحب سے بھی اس برادری کا تعلق سمدھیانے کا ہے، یہی نہیں سابق صدر مملکت ممنون حسین اور جماعت غربا اہل حدیث (پاکستان) کے سابق امرا کے بھی اس برادری میں بہت قریبی رشتہ داریاں موجود ہیں اور غالباً جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔
* کراچی میں دہلی مرکنٹائل سوسائٹی(شہید ملت روڈ)، شمسی سوسائٹی (ملیر) اور اللہ والا ٹائون (کورنگی) اسی برادری کے پلیٹ فارم سے آباد کیے ہوئے معروف علاقے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد بننے والی کراچی کی پہلی باقاعدہ کالونی ’دہلی کالونی‘ (سابق پیر کالونی نمبر1) کی آبادکاری میں بھی اسی برادری کا اہم کردار رہا ہے۔
* جمعیت پنجابی سوداگرانِ دہلی‘ کراچی میں ان کی ایک بڑی اور مرکزی انجمن ہے، جو کہ ہندوستان میں موجود ’انجمن وکیل قوم پنجابیان‘ کی کراچی تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، یہاں اس کے علاوہ ’کل پاکستان انجمن پنجابی سوداگران‘ بھی ایسی ہی مرکزی انجمن کے طور پر قائم ہوئی ہے، جب کہ 2012 میں ’سوداگران یوتھ فورم‘ (ایس وائے ایف) اور کچھ عرصے قبل ’دہلی پنجابی سوداگران فاؤنڈیشن‘ (ڈی پی ایس ایف) کے ذریعے بھی برادری کی تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کی داغ بیل ڈالی گئی ہے۔
* جمعیت پنجابی سوداگران دہلی کا ترجمان ماہ نامہ ’سوداگر‘ گذشتہ 75 برس سے زائد عرصے سے جاری ہے اور بلاشبہ اردو کے چند مسلسل شائع ہونے والے پرچوں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ’کل پاکستان انجمن پنجابی سوداگران‘ کا ترجمان ’قومی گزٹ‘ بھی نکلتا ہے۔
* دلی کا مشہور و معروف میگزین ’شمع‘ اور سکھر کا معروف اخبار ’کلیم‘ بھی اسی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔
* پاکستان میں یہ برادری کراچی میں سب سے بڑی تعداد میں آباد ہے، اس کے علاوہ سکھر اور لاہور کے علاوہ کچھ تعداد میں راول پنڈی میں بھی رہائش پذیر ہے۔ شہروں میں رہنے کے باوجود مجموعی طور پر یہ برادری کافی منظم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے کچھ مخصوص پکوان اور زبان وبیان کے کچھ طریق ان کی شناخت کا تیر بہ ہدف نسخہ جانے جاتے ہیں۔
* اس برادری کی جڑیں آبائی طور پر پنجاب میں ہیں، اسی بنا پر کئی سو سال گزرنے کے بعد بھی ثقافتی طور پر پنجابی زبان و تہذیب کے بہت سے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ عمومی طور پر یہاں یہ ’دلی والے‘ کہلاتے ہیں، لیکن ہندوستان میں انھیں ’پنجابی برادری‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، یہاں تک کہ ان کی زبان کو اردو میں سند بھی تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
