سمے وار (تحریر: سید شہریار) ایک اخبار میں 12 سال ملازمت کے بعد کچھ دوستوں کے مشورے پر زیادہ تنخواہ اور بچوں کے اچھے مستقبل کی لالچ میں روزنامہ “دنیا” جوائن کیا۔ یوں اِس اخبار کے لیے بھی 11 سال دن رات ایک کر دیے۔
زندگی و صحافت میں ایک اور موڑ آیا۔ اسلام آباد آفس جاتے ہوئے حادثے میں ٹانگ کی ہڈی چَکنا چور ہو گئی۔ ادارے کے مالک سیٹھ صاحب نے ایک ماہ تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی مگر ایک ماہ بعد یہ کہہ کر تنخواہ ڈیڑھ سال تک بند کر دی کہ شکر کرو ملازمت سے نکالا نہیں۔ ٹانگ پر لوہے کے کڑے اور دس کے قریب راڈ ڈالنے کے باوجود بیساکھیوں پر آفس جاتا رہا مگر پھر بھی تنخواہ نہیں ملی۔
یوں وہ کام شروع ہوا جس کا ساری زندگی روادار نہیں تھا۔ کبھی ایک اور کبھی دوسرے دوست سے قرض لیا۔ یوں قرضوں میں ڈوبتا چلا گیا ۔ بینک سے قرض لیا اور پھر بینک ڈیفالٹر ہو گیا۔
ڈیڑھ سال اس ذلالت سے گزرنے کے بعد 2023 میں دوبارہ ڈیوٹی جوائن کی ۔ چند ماہ میں ہی سیٹھ صاحب نے یہ بہانپ بنا کر نوکری سے فارغ کر دیا کہ ایکسائز کی معمولی سی خبر پر ایکسائز کا موقف کیوں نہیں لیا۔ ساتھ مزید رپورٹروں کو بھی ایسے ہی بہانے بنا کر فارغ کر دیا گیا ۔ تب سے اب تک بے روزگاری چل رہی ہے۔
اس دوران جو صحافت میں نہیں سکھا سکی وہ حالات نے سکھا دیا۔ قریبی رشتوں اور لوگوں کے اللہ نے رنگ دکھائے۔ جو لوگ شاہ جی ‛شاہ جی کرتے تھکتے نہیں تھے وہ منہ موڑ گئے ۔ مگر اس عرصہ میں کچھ دوست ایسے بھی تھے جو فرشتوں سے کم نہیں تھے ۔ اللہ انھیں میری عمر بھی لگا دے جنھوں نے بہت ساتھ دیا۔
اس دوران ملازمت کی بہت کوشش کی۔ دروازے کھٹکٹائے پر کچھ نہیں بنا ۔ بچوں کے لیے کام کرنے نکلا مگر کچن بھی نہیں چل سکا ۔ اس بدبخت صحافت کے علاوہ آتا بھی کچھ نہیں تھا ۔جاتا تو جاتا کہاں ۔ کرتا تو کرتا کیا ۔ دو سال سے بچے تعلیم سے فارغ گھر بیٹھے ہیں ۔ گھر کبھی کھانا پکتا ہے تو کبھی نہیں ۔ قرضوں میں ڈوب گیا ہوں ۔ دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے شرمندہ ہو گیا ہوں۔
ہمارے چند نام نہاد صحافی رہنما فون اٹھاتے ہیں نہ میسج کے جواب دیتے ہیں ۔ تنظیموں کی توجہ کے لیے تو مرنا ضروری ہے۔ تعزیتی ریفرنس بھی تو کرنے ہوتے ہیں ۔ گرمی میں بجلی کے بغیر بیٹھے ہیں؟ قرضوں سے قبر اور آخرت دونوں خراب ہو گئے ۔ اللہ اب اس ذلالت والی زندگی سے نکال دے۔ آمین.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
اخباری تنظیموں کی توجہ کے لیے مرنا ضرروی ہے!
