سمے وار (تحریر: ثاقب علی)
آج سے 40 سال پہلے ہعنی 26 اپریل 1986 کو جوہری پلانٹ چرنوبل پر ہونے والے حادثے کے نتیجے میں جو تاب کاری فضا کے اندر پھیلی اس کا اثر پاکستان تک پہنچا یا نہیں؟
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی PINSTECH نے 1987 نومبر کے اندر ایک ریسرچ پیپر پبلش کیا جو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ 27 صفحوں کے اس ریسرچ پیپر کے اندر اپریل 1986 میں ہونے والے واقعے کے بعد سے لے کے جولائی اور اگست تک اسلام آباد کی اوپری فضا کے سیمپل لیے اور اس میں دیکھا کہ کیا اس میں وہ فشن پروڈکٹس موجود ہیں جو قدرتی طور پر موجود نہیں ہوتی بلکہ کسی جوہری حادثے کی وجہ سے ہی وہ وہاں پہ موجود ہو سکتی ہیں۔ اس کے اندر سیزیم 137 اور روتھینیم 103 پائے گئے۔
سیزیم کی 15 بیکرل کے قریب مقدار تھی اور روتھینیم کی 9 بیکرل کے قریب تھی جو اس بات کا اشارہ تھا کہ چرنوبل کے اندر ہونے والے حادثے کے نتیجے میں زمین کی اوپری فضاء کے اندر فشن بائی پروڈکٹس موجود تھے اور ہوا کے ذریعے چلتے چلتے پاکستان کی فضاء کے اوپر حصے میں بھی پائے گئے۔
» اور یہ سیمپل کیسے اکھٹے کیے گئے؟
یہ سیمپل اصل میں پاکستان ایئر لائنز پاکستان ایئر فورس کے جہاز جو اس فضاء سے گزرتے تھے مختلف بلندی پر، جب یہ لینڈ کرتے تھے تو ان سے ٹشو پیپر کو گیلا کر کے اس کے اوپر تقریباً دو مریع میٹر کے رقبہ سے وہ نمونہ اکٹھا کیا جاتا تھا۔ اس کا گیما سپیکٹرسکوپی کے ذریعے سپیکٹرومیٹری کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا تھا اور اس میں دیکھا جاتا تھا کہ کس عنصر کی یعنی سیزیم اور روتھینیم کے کتنے ایٹمز ہیں جو disintegrate ہو رہے ہیں یعنی اس کے اندر بیکرل کے اندر اس کی تاب کاری کتنی آ رہی ہے۔
اس ریسرچ کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ باقی پروڈکٹس تھیں جیسے سٹرانشیم یا آئیوڈین وہ کتنی مقدار میں تھیں۔ سٹرانشیم کے لیے تو فیسلٹی نہیں تھی اور آئیوڈین جلدی decay ہو جاتا ہے اس کی ہاف لائف تقریبا آٹھ دن ہے۔ سیزیم کی تقریباً 30 سال ہاف لائف ہے اور روتھینیم کی 40 دن کے قریب ہاف لائف تھی اور یہ دونوں کیوں کہ بِیٹا اور گیما ایمیٹرز ہیں تو اس لیے ان کو آسانی سے لیب کے اندر ڈیٹیکٹ کیا گیا اور بتایا گیا کہ چرنوبل حادثے کے بعد اس کے جو اثرات تھے وہ کہاں کہاں تک پہنچے۔
پاکستان تقریباً تین ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور ہے اس پلانٹ سے تو اب ہم بات کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لوگوں کے لیے کتنا خطرناک تھا۔ جو اس سیمپل کے اندر ہمیں رزلٹ ملے تو اوپری فضا کے اندر صرف 15 بیکرل (Bacquerel) یا 9 بیکرل کی جو ایکٹیوٹی ہے وہ اتنی زیادہ نقصان دہ نہیں تھی اگر اس کو International Commission on Radiological Protection کے حساب سے جو Annual Intake Limit بتائی گئی ہے اس سے موازنہ کریں تو یہ بہت کم ہے کہ کسی انسان کو نقصان پہنچا سکے۔
تو یہ ہے اس کا مختصر جواب کہ وہ اثرات آئے ضرور لیکن اس نوعیت کے نہیں تھے کہ ہمیں متاثر کرسکتے۔
Categories
کیا چرنوبل جوہری حادثے کے اثرات پاکستان تک آئے؟
