Categories
Education Exclusive Karachi Media Society تعلیم تہذیب وثقافت سعد احمد سمے وار بلاگ کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

ابے مہاجر! تُو تو اور مسالا دے گیا

سمے وار (تحریر: سعد احمد)
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس پہلو کو نظرانداز کیا جا رہا ہو، اگر کوئی اس کا ذکر کرلے تو وہ خبر بن جاتی ہے۔ ایسا ہی ہوا کہ جب ٹیلنٹ ہنٹ ٹی وی شو میں ایک لڑکے نے آکر پروگرام کی جج اور اداکار ماہ وش حیات کے سامنے اپنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو کراچی سے مہاجر کہہ کر متعارف کرایا تو لوگ فیس بک پر جذباتی ہوگئے۔ سب اس ویڈیو کو فخریہ انداز میں لگانے لگے، ایک دوسرے کو بھیجنے لگے۔ اس کی تائید اور تعریفیں کرنے لگے۔
لیکن دوسری طرف میں نے بھی یہ ویڈیو دیکھی، میرے جذبات بھی ایسے ہی ہوئے کہ مرکزی دھارے کے کسی چینل پر ایک ایسی قوم کا ذکر ہوا کہ جس کو لوگ حق مانگنے کے قابل بھی نہیں سمجھتے، اسے برابر کے شہری اور انسانی حقوق تو درکنار اس کے وجود ہی کا انکار کردیتے ہیں۔ چلیے اچھی بات ہے کہ ایک چینل پر ایسا ہوا اور اسے نشر بھی کیا گیا۔ جس میں مہاجر شناخت کی بات کی گئی۔ بہت اچھا لگا لیکن بھائی تم بہت قابل ہو، اور اپنی قوم اور اپنی جڑوں سے آشنا بھی ہو، اس پر فخر بھی رکنا جانتے ہو، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس ویڈیو میں جو تمھارے خراب دانت نظر آرہے ہیں، تم اس کا بھی کچھ کرلیتے۔ معذرت کے ساتھ اس طرح کسی کی ذات پر بات نہیں کرنی چاہیے، مگر ماجرا یہ ہے کہ ویڈیو دیکھنے سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ان کے دانت پان یا گٹکا کھانے کی زیادتی اور دانتوں کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے تقریباً سیاہی مائل ہوچکے ہیں۔۔۔
جب وہ اسٹیج پر خود کو مہاجر کہتے ہیں تو پھر بات کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ بھائی تو نے بہت اچھا کیا اور کہا، مگر اس سے پہلے ذرا سے دانتوں کا کچھ کرلیتے، ہمیں ویسے ہی تنگ نظروں نے گٹکا مافیا اور پان تھوکنے والا کہہ کر لعن طعن کیا ہوا ہے، اوپر سے آپ آگئے ان کو تقویت دینے کے لیے اپنے کالے دانت لے کر۔ وہ اور مذاق بنائیں گے یہ ہیں بانیان پاکستان؟ یہ ہیں الگ صوبہ مانگنے والے؟ یہ ہیں گنگا جمنی تہذٰب؟ یہ ہیں اپنی تہذیب پر فخر کرنے والے۔۔۔ نہیں حد ہے ناں یہ کہ آپ کو ذرا بھی خیال نہ ہوا، آپ گٹکا کھائیں یا پان اور اپنا حلیہ جیسا بھی بنائیں لیکن جب آپ اسٹیج پر آتے ہیں اور پھر اپنی قوم کی شناخت بتاتے ہیں تو پھر زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ کی شخصیت بھی ویسی ہو۔۔ کم از کم عارضی طور پر کسی طریقے سے جگاڑ کرلینا چاہیے تھا کہ دانت صاف نظر آتے اور بہ ظاہر ہماری شناخت کے لیے اٹھایا جانے والا قدم الٹا ہمارے مذاق اڑانے والوں کو مسالا فراہم نہ کرتا.
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights