سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
28 جنوری 2026 کو سانحہ گل پلازا پر اپنے کالم میں کس طرح وزیراعلیٰ سندھ کو کورنش بجا لا کر مخاطب کر رہے تھے کہ طالب علم اس پر حیران تھا، ارے 18 سال سے اس کی پارٹی سیاہ وسفید کی مالک ہے اور آپ محترم وزیراعلیٰ سندھ اور ’’شاہ صاحب‘‘ ’’شاہ صاحب‘‘ کی گردان کرتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسی مصلحت؟ کیسی صحافت اور دانش وری ہے؟
حال ہی میں مظہر عباس بلاول زرداری کے حضور پیش ہوئے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موصوف پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، وہ شاذ ونادر ہی ان کے خلاف کچھ بولتے ہیں۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے کراچی والے ہیں، جو ہم سے کہیں زیادہ اس شہر کی تباہ کاری کی معلومات رکھتے ہیں اس کے باوجود وہ براہ راست پیپلز پارٹی کو کبھی کراچی کی تباہی اور کراچی سے تعصب کا ذمہ وار نہیں قرار دیتے۔ اگر مگر کرکے بات گھما دیتے ہیں۔۔
بلاول سے حالیہ ملاقات پر بھی انھیں بہت سے حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، بہت سوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک صحافی کا منصب نہیں ہے کہ وہ ایک اہل اقتدار کی چوکھٹ پر جائے۔ سیاسی لوگوں سے ایسی ملاقات ان کی جانب داری پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر وہ سب سیاست دانوں سے ملتے ہٰں تو ان کی کسی اور سے ایسی ملاقاتیں کیوں نہ ہوئیں۔ صحافی صرف انٹرویو کے لیے کسی صحافی کے پاس جاتا ہے۔ اسے مشورے دینے نہیں۔ یہ اس کا منصب نہیں ہے۔
کسی نے یہ صائب مشورہ بھی دیا کہ پیپلز پارٹی میں مہاجر کوٹا خالی ہوگیا ہے تاج حیدر چل بسے، راشد ربانی بھی نہیں رہے، کمال اظفر بھی انتقال کرچکے، این ڈی خان اب عمر کی وجہ سے گوشہ نشین ہیں، اقبال یوسف کو بھی زرداری لیگ راس نہیں آئی۔ لے دے کر وقار مہدی کو سینٹیر بنا دیا ہے، شہلا رضا کو آگے کر دیا ہے۔ باقی کوئی معقول مہاجر پیپلزپارٹی میں اب نظر نہیں آرہا کیا ہی اچھا ہو کہ مظہر عباس کو سینٹیر مظہر عباس بنا دیا جائے تو شاید ہمیں ایک مختلف اور بہت سیاست دان دکھ جائے، کیوں کہ وہ کالم نگاری اور صحافت میں بھی تو پیپلز پارٹی ہی کا مقدمہ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسی صحافت کی جگہ اگر وہ منتخب ایوان کے اندر لب کشائی کریں گے تو پیپلزپارٹی کا مہاجر کوٹا پر ہوگا اور سیاسی ایوان کی گھٹن میں ہوا کا تازہ جھونکا ہوگا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
بہتر ہے آپ سینٹیر مظہر عباس بن جائیے!
