سمے وار (تحریر: سعد جاوید)
جس طرح ’کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ جس طرح ’سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ ہوگئی، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی توڑ کر ملیر ڈیولپمنٹ اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی بنائی گئی ہیں۔ جناح میڈیکل یونیورسٹی کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کیا گیا۔
کراچی کے کچرا اٹھانے کے لیے ’سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ‘ اور کراچی کی بسیں چلانے کے لیے ’سندھ ماس ٹرانزٹ بنائی گئی، این آئی سی وی ڈی کے اندر سندھ آئی سی وی ڈی بنایا گیا۔ ایسے نہ جانے کتنی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ایسے ہی سندھ سرکار نے کراچی پریس کلب پر بھی نگاہیں گاڑ لی ہیں، اس لیے اب دیکھتے ہیں کہ یہاں کب کراچی پریس کلب کی جگہ ’سندھ پریس کلب‘ بنتا ہے، ویسے غیر مقامی صدر اور غیر مقامی عہدے داران کے درمیان یہ مہاجروں اور کراچی والوں کے لیے اجنبی بن چکا ہے۔
یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح ایف آئی آر میں سندھی زبان شامل کی گئی، نمبر پلیٹ میں سندھی اجرک گھسیڑی گئی۔ سرکاری اداروں میں انگریزی کے ساتھ سندھی زبان کا پرچار کیا گیا اور اردو سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے یہ ہونا اچنھبے کی بات نہیں ہوگی۔
ویسے ہی بے غٰیرت مہاجر صحافی کبھی مہاجر حق کے لیے نہیں بولتے، بلکہ مہاجروں کی شناخت کی نفی کرکے انھیں سندھی بننے پر زور دیتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے اب کراچی پریس کلب میں سندھی زبان کے کورس شروع کردیے ہیں۔ یہ مفت کورس پہلے سندھی لینگویج اتھارٹی کی جانب سے اعلان کیے گئے تھے، لیکن اب 28 اگست کو کراچی پریس کلب کو بھی اس میں جھونکا جا رہا ہے۔
سندھی زبان یا کوئی اور بھی زبان سیکھنا کبھی غلط نہیں ہے، لیکن جس طرز عمل کے ذریعے سندھی ثقافت اور زبان مسلط کی جا رہی ہے۔ اور کراچی والوں کو ان کے اپنے نگر کے اندر بے گانہ اور اکیلا کیا جا رہا ہے وہ تشویش ناک ہے۔ ایسے میں آپ کراچی کی شناخت چھینیں گے اور سندھی زبان وثقافت مسلط کریں گے تو اس کا ردعمل ہوگا۔ کراچی لاوراث سیاسی حقوق کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے نتائج خاکم بدہن اچھے نہ ہوں گے۔ اس لیے فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں۔
برا نہ مانیں سندھی زبان سیکھ کر کیا مہاجروں کو سندھی کے برابر حقوق مل جائیں گے۔ سرکاری ملازمتوں سے لے کر ان کے سارے حقوق سندھیوں کے برابر ہوجائیں گے؟ ہر گز نہیں ہوں گے۔ سندھ میں کتنے مہاجروں نے سندھی زبان جانی، لیکن انھیں بھی ایسی ہی نفرت ملی جیسے کراچی حیدرآباد میں ملتی ہے۔ اس لیے ایسی چیزوں کی روک تھام ہونی چاہیے جو قوموں کو ملانے کے بجائے بانٹ کر رکھ دیں۔ ویسے بھی صحافیوں کی جو حالت ہے ان کو تو اردو کی کلاسز کی ضرورت ہے۔ سندھی زبان سیکھ کر صحافی کیا کر لے گا؟ دنیا کی زبان انگریزی ہے، فرانسیسی ہے، عربی ہے فارسی ہے۔ لیکن یہاں ہم سندھی سکھانے کے ناٹک کر رہے ہیں۔۔
ہم کو غور کرنا چاہیے، وہ بھی پریس کلب جیسے فورم پر جہاں ہزاروں ممبران ہیں، وہ تک کچھ نہیں کہتے، شاید سبھی مفاد پرست یا مصلحت میں پڑ گئے ہیں اور کام کرنے والے اپنا کام تمام کر رہے ہیں۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کراچی پریس کلب میں سندھی کی کلاسیں
