Categories
Exclusive History of Pakistan Interesting Facts Karachi KU MQM Rizwan Tahir Mubeen انکشاف ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف پیپلز پارٹی تحریک انصاف تعلیم جامعہ کراچی جماعت اسلامی دل چسپ رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ سندھ سیاست عمران خان قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

تنہا آفاق احمد کی ’مہاجر سیاست‘ کا سفر

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
’مہاجر قومی موومنٹ‘ کے چیئرمین آفاق احمد کا دعویٰ ہے کہ وہ 1992ءمیں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے علاحدگی کے بعد سے اب تک مسلسل اور مستقل ’مہاجر شناخت‘ اور مہاجر سیاست کے عَلم بردار ہیں۔ واضح رہے کہ آفاق احمد ساڑھے سات سال اسیر بھی رہے۔ ان کی سیاسی جماعت مہاجر قومی موومنٹ عرف ’حقیقی‘ کو 1992ءکے بعد تقریباً دس برس کی سرکاری سرپرستی حاصل رہی۔ اس کے بعد 2002ءمیں الطاف حسین کی جماعت کے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل ہونے کے بعد انھیں پہلی بار ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ لانڈھی میں ان کی جماعت کے مرکز ’بیت الحمزہ‘ کو مسمار کر دیا گیا۔ 2002ءکے انتخابات میں پہلی بار ’مہاجر قومی موومنٹ‘ کا ایک رکن قومی اسمبلی محمود احمد قریشی اور ایک رکن صوبائی اسمبلی یونس خان منتخب ہوئے۔ بدقسمتی سے محمود قریشی کچھ ہی دنوں بعد انتقال کرگئے، جس کے بعد ان کے حلقے لانڈھی سے متحدہ کے ڈاکٹر فاروق ستار جیت گئے، دوسری طرف یونس خان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سندھ اسمبلی سے بالوں سے گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا۔ اپریل 2003ءمیں آفاق احمد بھی گرفتار ہوگئے، 2004ءمیں ان کے نائب عامر خان بھی دھر لیے گئے۔ آفاق احمد دسمبر 2011ءمیں رہا ہو سکے، جب کہ عامر خان مئی 2011ءمیں رہا ہوئے۔ آفاق احمد کا موقف تھا کہ انھوں نے پہلی بار مہاجر نام پر لوگوںکو اسمبلی میں بھیجا، کیوں کہ ’ایم کیو ایم‘ نے ہمیشہ ’حق پرست گروپ‘ کے نام سے انتخاب لڑا اور اس کے بعد 1997ءمیں یہ لوگ ’متحدہ قومی موومنٹ‘ ہوگئے۔ اس طرح مہاجر نام پر کبھی کوئی منتخب ایوان میں نہیں گیا تھا۔
وقت کے ساتھ ہر ایک کے تجربے اور لب ولہجے میں تبدیلی آتی ہے، سو آفاق احمد میں بھی آئی۔ آج وہ بہت بھرپور دلائل سے مہاجر قوم کی شناخت اور ان کے مساوقی حقوق کا مقدمہ سب کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جس طرح ’ایم کیو ایم‘ اپنے اوائل میں کرتی آئی اور ’متحدہ‘ سیاست کی طرف رخ مرکوز ہونے کے بعد براہ راست اس کی بات اس طرح نہیں کی جاتی۔ آفاق احمد ببانگ دہل کہتے ہیں کہ کراچی کے وسائل سب سے پہلے کراچی کے شہریوں کے لیے ہونے چاہئیں! کراچی کے لوگوں کو برابر کا شہری سمجھنا چاہیے، ان کی حق تلفی اور ان کے خلاف نفرت اور تعصب کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کی مہاجر شناخت کو پانچویں قومیت تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کراچی کی سڑکوں پر بے لگام ڈمپر مافیا کے خلاف آفاق احمد کے سخت اعلان کے بعد شہریوں کو کچلنے والے ٹینکروں کو نذرآتش کرنے کے واقعات ہوئے، تو انھیں گرفتار کرلیا گیا، دوسری طرف ڈمپر ٹینکر الائنس کے لیاقت محسود نے بھی خوب سخت اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی۔ ایسے ہی کئی بار آفاق احمد کے بیانات بھی جوشیلے ہوتے ہیں، لیکن پھر نہیں معلوم کیا ہوتا ہے کہ ایک طویل خاموشی آجاتی ہے۔
2016ءمیں الطاف حسین کی سیاست پر غیر اعلانیہ پابندی لگنے کے بعد کراچی میں سیاسی خلا پیدا ہوا، جس کے بعد آفاق احمد نے بھرپور طریقے سے مہاجر قوم کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ الطاف حسین کے لیے سخت زبان استعمال کرنا ترک کی اور ان سے صرف اپنے نظریاتی اختلاف کا ذکر کیا۔ ان کی قیادت میں کام کرنے تک پر بھی آمادگی ظاہر کی، یہاں تک کہ انھوں نے ’حقیقی‘ اور ایم کیو ایم کی لڑائی میں بھی ان کو لڑکوں کے قتل کی ذمہ داری سے بری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں نے ہمیں مروا کر کمزور کیا اور ہمارے شہر پر قبضہ کیا۔ ان کی اس حکمت عملی کو الطاف حسین سے ہمدردی رکھنے والے ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جاتا ہے۔ دسمبر 2011ءمیں رہائی کے بعد بھی انھوں نے کہا تھا کہ ان کی الطاف حسین سے ذاتی لڑائی نہیں ہے، وطن واپس آجائیں تو میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں، اسی برس مئی 2011ءمیں ان سے الگ ہونے والے عامر خان معافی مانگ کر ’متحدہ قومی موومنٹ‘ کا حصہ بن گئے تھے، الطاف حسین سے لاتعلقی کے بعد عامر خان نے کہا تھا کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
مہاجر قوم کا مقدمہ بے باکی سے لڑنے کے باوجود آفاق احمد کو اب بھی بہت سے مہاجر حلقوں میں سخت مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے، لوگ انھیں مہاجر قوم کا غدار اور مہاجر نظریے کی آڑ میں مہاجروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا قرار دیتے ہیں۔
آج ایک ایسے موقعے پر جب کراچی سیاسی اور سماجی طور پر لاوارث تصور کیا جا رہا ہے اور لوگ پریشانی اور بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں، آفاق احمد ان کے دل کی آواز محسوس ہوتے ہیں، تب بھی بہت سے لوگ آفاق احمد کے ماضی کے کردار کو ذرا بھی بھلانے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف آفاق احمد کئی بار اپنے جلسوں میں اپنی قوم سے معافی مانگ چکے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آج اگر کراچی بربادی کا شکار ہے تو اس میں آفاق احمد کے 1992ءکے بعد کی سیاست کا بھی ایک بنیادی کردار رہا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے ہزاروں لڑکے مارے گئے۔ یقیناً یہ تعداد کسی ’تیسرے‘ کی جانب سے مارے جانے والے مہاجروں کی تعداد سے کسی طرح بھی کم نہ ہوگی۔ یہی نہیں اپنی رہائی سے پہلے تک آفاق احمد اسی ’غیر مقامی‘ مافیا کے اتحادی رہے، آج اپنے شہر میں جس کی اجارہ داری دیکھ کر وہ برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کیوں بھول گئے ’کراچی سٹی الائنس‘ جس میں ان کے ساتھ جماعت اسلامی اور ساری سیاسی جماعتیں بہ شمول ’پیپلز امن کمیٹی‘ سب متحدہ مخالفت کے ایک نکاتی ایجنڈے میں جمع ہوگئے تھے۔ پھر جولائی 2011ءمیں ’امن کمیٹی‘ اور دیگر غیر مقامی سیاسی گروہوں کی آشیرباد سے ملیر اور قائد آباد میں مسلح تصادم ہوا، جس میں سیاسی کارکنان سمیت 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہی نہیں 2011ءمیں رہائی کے بعد آفاق نے ذوالفقار مرزا جیسے سخت گیر اور متنازع شخصیت کے بارے میں کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ اس لیے آج اگر آفاق احمد اتنی تندہی سے مہاجر قوم کا درد محسوس کر رہے ہیں، تو ماضی قریب میں ان کی غیر قوموں سے فقط ’متحدہ دشمنی‘ میں اتحاد کی باتیں بھی لوگوں کو یاد رہ جاتی ہیں، لیاری کی وہ ’پیپلزامن کمیٹی‘ جو کراچی کے شہریوں کے گلے کاٹ رہی تھی، لیکن آفاق احمد اس کے اتحادی تھے۔ اب کیا کیجیے دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے اور ماضی ایک ایسی چیز ہے کہ وی اچھا ہو یا برا، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ مستقبل ضرور ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آج آفاق احمد مہاجر شناخت، مہاجر نظریے اور مہاجر حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں اور مستقل مزاجی سے اسی پر ڈٹے ہوئے ہیں، تو اسے سراہا جانا چاہیے۔ آج آفاق احمد بے آسرا ہونے والے مہاجروں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، اور مخالفین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں کہ کراچی مہاجروں کا شہر ہے، اور ہمارا گھر ہے۔ اگر ’پشتون تحفظ موومنٹ‘ نامی سیاسی جماعت کے راہ نما منظور پشتین یہاں آکر اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کراچی کی چابی اب ہمارے پاس ہے، ہم جب چاہیں گے تب کراچی کھلے گا اور جب چاہیں گے تب بند ہو جائے گا۔‘ تو اس پر بجا طور پر آفاق احمد ہی کہتے ہیں کہ ”کراچی آنے والے ہمارے بھائی ہیں، وہ یہاں آکر روزی کمائیں، لیکن اگر کوئی آکر یہاں آکر خود کو باپ سمجھے گا تو پھر ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم تمھارے باپ ہیں!“
آفاق احمد سوال اٹھاتے ہیں کہ کراچی میں زمین میں کیلیں گاڑکر اس طرح کچی آبادیوں کو کیوں قائم کیا جا رہا ہے؟ ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ کیوں آج یہ نوبت آگئی ہے کہ کراچی میں سندھی قوم پرست تنظیموں کی زور آزمائی کر کے اپنے کارندے بھرتی کرا رہے ہیں۔ کیوں مہاجروں کو کراچی میں نہتا اور بے آسرا سمجھ لیا گیا ہے۔ آج کیسے ننگے پیر آکر بیس روپے یومیہ کی چارپائی پر سونے والا کروڑ پتی بن گیا ہے اور کراچی والا اپنی کمائی سے اب بھی ایک گھر نہیں بنا سکا؟ کیوں کہ اس شہر میں مہاجروں اور غیر مہاجروں کے لیے قانون الگ الگ ہیں۔ اس لیے ہر مہاجر کو چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں ہو، آفاق احمد اسے اپنا کہتے ہیں۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ اپنے لوگوں سے خریداری کرو، اپنے لوگوں کو نوکری دو، تو یہ اسی طرز عمل کا برابر کا جواب ہے کہ جب دوسرے بھی ہر معاملے میں صرف اپنی قوم کو ترجیح دیتے ہیں۔ انھیں کوئی ملازم بھی چاہیے ہوتا ہے تو وہ اپنے ہی گاﺅں سے کسی کو لے کر آتے ہیں، کچھ خریدنا ہوتا ہے تو وہ اپنی قوم کے دکان دار ہی کو ڈھونڈٹے ہیں۔ یہی نہیں آفاق احمد نے زکوٰة اور صدقات بھی اپنے خاندان، اپنے قبیلے اور اپنے ہم سائے میں دینے کی تحریک دی اور اس کے لیے شرعی حوالے بھی دیے، کیوں کہ تحریک انصاف کے ’فکس اٹ‘ تنظیم کے عالمگیر محسود سے لے کر دیگر تنظیموں تک، اکثر سب یہاں سے چندہ جمع کر کے اپنے علاقوں میں خرچ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ نومبر 2024ءمیں ’سیلانی ویلفیر ٹرسٹ‘ تک نے کراچی میں صرف پنجاب کے مخصوص اضلاع کے لیے ملازمت مع رہائش کا اشتہار دیا۔ اس طرح کے طرز عمل سے کراچی کے مقامی مستحقین کا حق مارا جاتا ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ اپنے علاقے اپنے محلے میں اپنے لوگوں کو مضبوط کیا جائے۔
مئی 2016ءمیں آفاق احمد نے ’متحدہ‘ کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود بات چیت کے لیے ’نائن زیرو‘ جانے کے لیے تیار ہوں، لیکن اس وقت ’متحدہ‘ خود آپریشن کا شکار تھی، اس کے بعد اگست 2016ءمیں ’ایم کیو ایم‘ ہی تقسیم کر دی گئی۔ تاہم 2025ءمیں جب وہ ڈمپر مافیا کے خلاف احتجاج پر اکسانے کے الزام میں گرفتار تھے تو الطاف حسین نے پہلی بار آفاق کا نام لے کر ان کی گرفتاری کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ان سے اختلاف اپنی جگہ پر ہیں، لیکن ان کی گرفتاری قابل مذمت ہے، جس پر الطاف حسین کے وفادار حلقے جو آفاق احمد کو کسی طور پر معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھے، وہ چپ ہوگئے تھے۔
حالیہ دنوں میں آفاق احمد نے نہ صرف کراچی میں فیڈرل بی ایریا میں اپنا دفتر قائم کیا ہے، بلکہ اورنگی ٹاﺅن، لانڈھی اور لیاقت آباد میں بڑے جلسے بھی کیے ہیں۔ جس میں بہت سے لوگ ان کے حاضرین کی تعداد کا موازنہ ’سرکاری ایم کیو ایم‘ کے دھڑوں کے جلسوں سے کرتے ہوئے نظر آئے، لیکن بات یہ ہے کہ جو چیز آفاق احمد ابھی تک نہیں کر پائے وہ کراچی بھر میں بھرپور تنظیم سازی ہے، یہ ضرور ہے کہ بہت سے علاقوں میں اب ان کے جھنڈے دکھائی دینے لگے ہیں، لیکن کارکنان بنانا یا حامیوں میں اضافہ کرنا ایک اہم چیز ہوتا ہے۔ جس کے لیے اب ظاہر ہے مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ جب تنظیم بڑی ہوتی ہے تو اپنے آپ اس کا حلقہ اثر وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔
1992ءمیں جب آفاق احمد نے الطاف حسین کی تنظیم سے علاحدگی کی، تو ان کے ساتھ ’ایم کیو ایم‘ کے جوائنٹ سیکریٹری بدر اقبال اور زونل انچارج عامر خان بھی تھے۔ باقی امین الحق، احمد سلیم صدیقی یا زرین مجید وغیرہ وقت کے ساتھ ان سے الگ ہوگئے اور متحدہ کا حصہ بن گئے۔ یا پھر یوں کہیں کہ ان کو دباﺅ کے تحت ’حقیقی‘ میں لایا گیا تھا۔
17مارچ 2010ءکو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے آفاق احمد کے وکیل سہیل انجم ایڈووکیٹ کو ٹیکسی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ عامر خان 2007ءکے بعد سے آفاق احمد سے الگ ہوگئے تھے اور اخبارات میں ان کے بیانات ’ایم کیو ایم‘ (حقیقی) کے چیئرمین کے طور پر لگ رہے تھے، کیوں کہ آفاق احمد نے 1997ءمیں متحدہ بن جانے کے بعد ’مہاجر قومی موومنٹ، پاکستان کی سربراہی سنبھال لی تھی۔ رہے بدر اقبال تو وہ ڈپٹی میئر رازق خان کی طرح مسلم لیگ (ق) میں چلے گئے تھے اور رازق خان 2004ءمیں قتل ہوئے، جب کہ بدر اقبال کو 18 مارچ 2006ءکو ایم اے جناح روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح آفاق احمد کی جماعت کے وائس چیئرمین شمشاد غوری 24مارچ 2018ءکو مصطفیٰ کمال کی ’پاک سرزمین پارٹی‘ میں چلے گئے، ان کے ساتھ جوائنٹ سیکریٹری کاشف مغل اور دیگر بھی شامل تھے۔ اس لیے اس وقت ’مہاجر قومی موومنٹ‘ شروع سے لے کر آخر تک صرف آفاق احمد ہی آفاق احمد ہے۔ ہم نے بہ ذریعہ انٹرنیٹ جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ مہاجر قومی موومنٹ کے سینئر وائس چیئرمین محمد شاہد، وائس چیئرمین ندیم احمد، جنرل سیکریٹری عارف اعظم، جوائنٹ سیکریٹر نگہت فاطمہ، سیکریٹری فنانس تنویر قریشی اور سیکریٹری اطلاعات خالد حمید صاحبان ہیں۔ ان میں سے صرف نگہت فاطمہ کے علاوہ کبھی کسی اور کا نام بھی ہم نے کہیں نہیں سنا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت تنظیم کے اندر خلا ہی خلا ہے۔ یہی نہیں طلبہ تنظیموں کی سطح پر یا نوجوانوں کی سطح پر کبھی کوئی ایسی باڈی موجود نہیں ہے کہ جس میں اپنا نظریاتی کام کیا جائے یا تنظیم کا پیغام آگے تک پہنچایا جائے۔ تو یہ ہے کل خلاصہ کہ آفاق احمد مجموعی طور پر بہت مضبوط بیانیے کے ساتھ کراچی اور مہاجر سیاست کے افق پر موجود ہیں، لیکن مستقبل کیا ہوتا ہے اور وہ آگے کیا کر پاتے ہیں، کیوں کہ اب انھیں تنظیمی سطح پر ایک کھلا میدان میسر ہے، بلکہ سبھی سیاسی جماعتوں کے لیے دس برس سے میدان کھلا ہی کھلا ہے۔ 2016ءسے پہلے جو سیاسی جماعتیں یہ شکایت کرتی تھیں کہ انھیں ’متحدہ‘ کی طرف سے کام نہیں کرنے دیا جاتا، تو گذشتہ دس سال اور دو عام انتخابات بتا سکتے ہیں کہ وہ کراچی کے سیاسی خلا میں کتنی جگہ حاصل کر پائے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights