سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
وہ جنوری 2018کی ایک ناخوش گوار صبح تھی جب شہر میں بیرون ملک سے ڈاکٹریٹ کرکے آنے والے ایک عملی اور مثالی نظریاتی کارکن اور دیوقامت علمیت رکھنے والے فلسفی ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش ملی۔
ان کی لاش رات بھر کی گم شدگی کے بعد ریڑھی گوٹھ جیسے دور افتادہ علاقے سے برآمد ہوئی۔ سرکار نے اِسے دل کا دورہ قرار دیا۔ لیکن ابتدائی خبریں تشدد زدہ لاش کی برآمدی کی تھیں، سو وہ دبا دی گئیں اور وہ موت طبعی قرار پائی جس میں وہ اپنی گاڑی کو اپنے دفتر اور گھر سے بہت دور لے کر ریڑھی گوٹھ نکل گئے اور اپنی گاڑی سے نکل کر پچھلی نشست پر بیٹھے اور اپنی جان جانِ آفریں کی سپرد کردی۔
خون خاک نشیناں تھا خاک ہوا۔ ایسا ہی ہوتا ہے یہاں۔ سو اسی روز نماز جنازہ اور تدفین ہوگئی۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں جھوٹ تک خالص نہیں ملتا وہاں ایک ڈاکٹر حسن ظفر عارف جیسا قدآور شخص ایک ریاستی جبر تلے کچلی جانے والی جماعت ایم کیو ایم الطاف حسین گروپ کے سربراہ کے طور پر پاکستان میں موجود ہیں۔ یہ لبرلوں نے کب تسلیم کیا تھا، لیکن حسن ظفر عارف جیسا ان سب کا “باپ” سامنے تھا، سو کوئی دم نہیں مار سکتا تھا، لیکن افسوس تب ہوا کہ ان کی موت کے بعد جب آج کے آسودہ حال زندگی گزارنے والے کچھ نام نہاد قلم کار اور صحافی جو خود کو روشن خیال اور انسان دوست باور کراتے نہیں تھکتے وہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو جج کر رہے ہیں۔۔۔
یہ دنیا کو یہ منظر بھی دیکھنا تھا کہ بحریہ ٹائون میں زندگی گزارنے والے اور اسے میرا گائوں میرا گائوں کہہ کر صبح شام خود پسندی کی دلدل میں غوطے کھانے والے ناصر چغتائی کہتے ہیں کہ میں حسن ظفر عارف کو منفی نمبر دوں گا؟؟

ارے، ایک نظریاتی شخص اپنی زندگی وار گیا، دنیا کی آسودگی پر چار حروف بھیج کر اس نے مرتے دم تک جبر اورمساوات کی ایک مثال رقم کردی۔ اب اسے بے شمار دوسرے ڈومیسائل والے اپنے حلق سے نہیں اتار پا رہے، لیکن منہ سے کچھ نہیں بول رہے کہ شرم آتی ہوگی، لیکن سلام ہے ناصر چغتائی اور مہناز رحمن جیسے لبرلوں کو۔۔۔
جو آج اپنے ڈیفنس کے آسودہ گھر میں بیٹھ کر بے موت مارے جانے والے حسن ظفر عارف کی ذات اور کردار پر خامہ فرسائی کر ہری ہیں۔
پیپلزپارٹی کے غم میں صبح شام کرنے والے ایک صحافی ناصر بیگ چغتائی ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے حوالے سے ارشاد فرما ہیں “حیرت صرف یہ ہے کہ جن کے نظریہ کے خلاف تھا ان تک کیسے پہنچ گئے؟”
جس پر این جی او چلانے والی معروف خاتون مہناز رحمن لکھتی ہیں:
“لیفٹ کے لوگوں میں بہت تبدیلیاں بھی آئیں اور غلطیاں بھی ہوئیں ۔ ایک زمانے میں انہوں نے تھیسس لکھا کہ نواز،شریف صنعت کاروں کانمائندہ ہے اور پیپلز پارٹی فیوڈل کی نمائندہ ہے، اس لیے لیفٹ کو نوازشریف کو سپورٹ کرنا چاہئیے اور بہت سے لیفٹسٹس نے اس تھیسس کو تسلیم کیا
اور پھر آخری عمر میں وہاں پہنچ گئے جس،کا آپ نے ذکر کیا”
ناصر بیگ چغتائی لکھتے ہیں:
“یہ ارتقا نہیں شاید فکری زوال تھا!
جو شخص خود پستی اور زوال کی عملی تفسیر بنا ہوا ہے، وہ نظریاتی شہید کی فکر کو زوال کہہ رہا ہے۔ قیامت کیوں نہیں آجاتی۔ پاکستان کے زوال اور تباہی میں جہالت سے زیادہ ایسے دانش وروں اور نام نہاد مساوات کے ٹھیکے داروں کا مرکزی حصہ ہے۔
آئیے مل کر ماتم کریں کہ ہم سب اپنے اپنے سچ کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں، خود حق کو پسند کرتے ہیں اور کوئی حق پرستی کرے تو اس کو مرنے کے بعد بھی ایسے کھلے میں جج کرتے ہیں کہ فطرت شرم سار ہوجاتی ہے اور ساری دانش وری انگشت بہ دنداں رہ جاتی ہے!
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
