سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین) کراچی میں زبانِ زد عام ہونے والی ’مقامی‘ اور ’غیر مقامی‘ کی بحث اب سندھ کی اسمبلی میں بھی پہنچ چکی ہے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر سعید غنی خاصخیلی نے اس ’اصطلاح‘ پر کافی اعتراض ظاہر کیا۔ ایک وہ ہی نہیں، اکثر وہ لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں، جو کہ اس ’غیر مقامی‘ کی زد میں آ رہے ہوتے ہیں، انھی میں سے بعضے اس فقرے پر خوب جلتے اور بھنتے بھی ہیں، پھر یہ بتلاتے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ ”بھئی ہندوستان سے آنے والے ہی تو اصل میں ’غیر مقامی‘ ہیں!“ لیکن حقیقت انھیں بھی پتا ہوتی ہے کہ کراچی میں ’مقامی‘ کون ہے اور ’غیر مقامی‘ کون!
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اس کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ آج کل کراچی میں یہ ’مقامی‘ اور ’غیر مقامی‘ کی بات کیوں اتنی زیادہ ہونے لگی ہے۔ آئیے، کچھ دیکھتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا رہی ہے۔ یہ سبھی کو پتا ہے کہ اِس ’مقامی‘ کی تعریف میں اکثر مہاجر ہی مراد ہوتے ہیں، یا پھر اس میں کچھ رعایت ان غیر مہاجروں کو بھی مل جاتی ہے، جن کا تعلق کراچی کے علاوہ کہیں اور سے ہے، لیکن اب وہ کراچی کے رنگ ڈھنگ میں رچ بس چکے ہیں، جب کہ ’غیر مقامی‘ میں کراچی سے باہر سے آئے ہوئے وہ لوگ ہیں، جو یہاں فقط کمائی کے لیے آتے ہیں اور ساتھ میں جو جی میں آتا ہے دھڑلے سے کرتے پھرتے ہیں اور کراچی میں انھیں اب روکنے ٹوکنے کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہا۔ ایسے میں جب ’کراچی والا‘ دیکھتا ہے کہ چوری ڈکیتی سے لے کر لوٹا ماری، قتل وغارت سے لے کر دیگر انتہائی جرائم تک میں واضح اکثریت انھی ’غیر مقامیوں‘ کی ہی ہے، تو وہ اس پر احتجاج کرتا ہے۔ یہی نہیں باقاعدہ سرکاری چشم پوشی یا اشتراک سے شہر میں ان غیر مقامیوں کو باقاعدہ قبضے کر کے دیے جا رہے ہیں، یہ دھڑلے سے کراچی کے حصے کی بجلی، پانی اور گیس چوری بھی کر ر رہے ہیں، دوسری طرف پورے ٹیکس دینے والے کراچی کے شہری اس بجلی چوری کے نتیجے میں زائد بل اور لوڈ شیڈنگ بھگتتے ہیں، پانی جیسی بنیادی چیز تک مہنگے داموں خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کراچی میں پانی کے ٹینکر اور چھوٹی ٹینکیاں بیچنے والوں تک میں سارے کے سارے دوسری قوموں کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔
کراچی شہر میں تفریح گاہوں کی ویسے ہی کمی تھی، رہے سہے تفریحی مقمات میں بھی جانے کا اب تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ساحل سمندر سے لے کر مختلف پارکوں تک میں اوباش ’غیر مقامی‘ جتھوں کی جانب سے فیملیوں کو ہراساں کیا جانا ہے۔ عام سڑکوں اور چوراہوں پر ہلڑ بازی کرتے ہوئے اِن ’جانوروں‘ کو لگام ڈالنے والا اب کوئی نہیں۔ ’غیر مقامیوں‘ کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ یہ کراچی کے بنیادی مسائل پر کراچی والوں کے ہم آواز ہونے کے بہ جائے ان کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ خوب نفرت آمیز باتیں کرتے ہیں اور کراچی دشمن وڈیرا شاہی کا دفاع کرنا شروع کردیتے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال پچھلے سال ’سندھی اجرک‘ والی نمبر پلیٹ کے جبری نفاذ کے بعد سامنے آئی۔ یہی نہیں جب پیپلز پارٹی کی وڈیرا شاہی نے کراچی میں شہریوں کو ’ای چالان‘ بھیجنا شروع کیے، اس پر جب کراچی والوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا، تو یہاں بھی ’غیر مقامیوں‘ نے خوب بغلیں بجائیں اور بہ جائے کراچی والوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے، اسے ترقی یافتہ ممالک جیسی ’سہولت‘ قرار دیا۔ جب کراچی والوں نے یہ کہا کہ پہلے سڑک تو بنا دو، سڑک پر چلنے والوں کو جان ومال کا تحفظ تو دو، راستے روشن تو کر دو، پھر جا کر لگا دینا یہ کیمرے اور ان سے بھیجتے رہنا ’ای چالان‘۔۔۔ لیکن غیر مقامیوں نے کہا کہ ’ای چالان‘ کے خوف سے کراچی والے ٹریفک سگنلوں پر رکنے لگے ہیں۔ جس سے ایک بار پھر مقامی اور ’غیر مقامی‘ کی تفریق مزید گہری ہوتی گئی۔
کراچی والے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں، تو انھیں پیدل چلنے تک کی جگہ نہیں ملتی، لیکن حکومتی مافیا کی آشیرباد سے ’غیر مقامیوں‘ کے ٹھیلے اور پتھارے نہایت دھڑلے سے سڑک پر موجود ہوتے ہیں۔ ایک عام شہری کی بائیک نہیں گزر سکتی، لیکن چائے کے ہوٹلوں پر کئی کئی فٹ باہر تک میز کرسیاں ڈالی گئی ہوتی ہیں۔ سروس روڈ اور مصروف شاہ راہوں پر انھی لوگوں کے منی ٹرک، ٹینکر اور بار بردار سوزوکیاں مستقل کھڑی رہتی ہیں۔ ایسے میں اگر کسی کی ایمبولینس پھنسے گی اور اسے آمدورفت میں جنجال ہوگا تو کیا وہ ’غیر مقامیوں‘ کے واسطے کوئی نیک خیالات رکھے گا؟
کراچی میں شہریوں کے باقاعدہ خون پسینے کی کمائی سے خریدے ہوئے گھروں اور دکانوں کو تو ’غیرقانونی‘ اور ’تجاوزات‘ کہہ کر ملیا میٹ کر دیا جاتا ہے، لیکن کراچی میں موجود کسی اور قوم کی کسی ایک غیر قانونی بستی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جا سکتا، جب کہ یہاں سڑک چوڑی کرنے اور فٹ پاتھ نکالنے کے نام پر کیا کچھ توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ہے، پھر انھی خالی کرائی گئی گھاس پٹی، سبزہ زار، فٹ پاتھوں اور سڑک کے کنارے سارے غیر مقامی، جرائم پیشہ اور نشوں کے عادی افراد آکر پڑے ہوئے ہیں۔ اب تو بہت تیزی سے ان کے پورے پورے خاندان تک یہاں اقامت پذیر ہو رہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے، یہاں تک کہ باقاعدہ پارکوں تک میں بھی اب انھی کے قبضے ہونے لگے ہیں، کورنگی ندی کے اندر بھی بھرپور طریقے سے ان غیر مقامیوں کی بستیاں آباد ہو گئی ہیں۔ مختصر یہ کہ شہر کی بربادی اور تباہی کا سبب بننے والے ہر مجرم کے پیچھے جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو باہر سے یہاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لا لا کر ڈالے جا رہے ہیں۔ انھیں اپنے کھانے پینے کی بھی کوئی فکر نہیں، یہاں فٹ پاتھوں پر قابض مفت دسترخوان صدقے اور خیرات کے نام پر انھیں صبح شام مرغ مسلم، قورمے اور بریانی متنجن پیش کر دیتے ہیں، انھیں اور کیا چاہیے؟
پھر یہی ’سیلانی‘ ویلفیئر کے سیخ کباب، ’چھیپا‘ کے قورمے اور ’جے ڈی سی‘ کے شتر مرغ کھا کر شہر کے گٹر کے ڈھکنے توڑتے پھرتے ہیں، جس میں اس شہر کے بچے گر کر مرتے ہیں۔ یہ نالوں کی چھتوں سے سریا نکال کر ان کا ستیا ناس کرتے ہیں، جس سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ یہی ’غیر مقامی‘ کراچی کی مرکزی سڑکوں، پلوں اور پارکوں کی گرل کاٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیمروں میں بھی بہ خوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں سے چھینا جھپٹی کرنے والے بھی زیادہ تر غیر مقامی ہوتے ہیں۔ کراچی سے بچے اغوا ہو کر دوسرے علاقوں سے برآمد ہوتے ہیں، کراچی میں پہلے تصور نہیں تھا کہ کوئی راہ چلتی خاتون کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے، آج حال یہ ہے کہ اوباش جاہلوں کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور ہراسانی عام ہو چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں کون کراچی والا ہوگا، جو اپنے شہر کو تباہ کرنے والوں سے نفرت نہیں کرے گا۔
یہی ’غیر مقامی‘ کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی قابض ہیں، جو آئے روز خواتین اور عام مسافروں سے بدتمیزی کرتے ہیں، بس روکنے یا چلانے یا من مانے کرایوں پر گالم گلوچ کرتے اور ہاتھا پائی کرتے ہیں۔ ٹینکروں اور ڈمپروں سے کراچی والوں کو کچلنے والوں کا تعلق بھی اس شہر سے نہیں ہوتا، پھر جب ’ٹینکر مافیا‘ کے خلاف بات کی جائے، تو وہ براہ راست اُسے ’لسانی‘ رنگ دینے لگتے ہیں۔ ریاست بھی غیر اعلانیہ طور پر انھی کی تائید کرتی ہے اور وہ بھاری گاڑیاں جو رات 12 بجے کے بعد سڑکوں پر آٹی تھیں، وہ 10 کے بھی پانے دس بجے سے دندناتی پھرتی ہیں، یہی نہیں بیرون شہر چلنے والی بسیں بھی اب کراچی شہر کی عام سڑکوں پر چلائی جانے لگی ہیں، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے یہ قوی الجثہ بسیں مصروف سڑک پر مسافروں کا سامان لدوانے میں مصروف ہوتی ہیں، نتیجتاً ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے پھر کراچی سے ’غیر مقامیوں‘ کو بے دخل کرنے اور ان کے ’علاج‘ کرنے کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔
اس مقامی اور غیر مقامی کے سارے مسئلے کا بہت سادہ سا حل یہ ہے کہ کراچی والوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔ ’جیو اور جینے دو‘ کا اصول کراچی شہر پر بھی لاگو کیا جائے۔ آخر کب تک کراچی والوں کی وفاداری مشکوک سمجھ کر ان کے شہر پر غیر منتخب اور غیر مقامی حکم راں مسلط کیے جاتے رہیں گے، یہاں تو کسی بھی تھانے کے ’ایس ایچ او‘ سے لے کر اعلیٰ عہدوں تک پر متعین افسران تک کا تعلق اس شہر سے نہیں پولیس کی ساری عام نفری اور رینجرز اہل کاروں اور یہاں تک کے ٹریفک پولیس اور نجی کمپنیوں کے گارڈز تک، سب کے سب غیر مقامی ہیں۔ ایسے میں کراچی والے مقامی اور ’غیر مقامی‘ کا نعرہ کیوں بلند نہ کریں۔ کیا کوئی یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی گاڑی کی پارکنگ میں کوئی اور گاڑی کھڑی کردے اور وہ اس کا منھ دیکھے؟ تو پھر یہاں تو باہر سے آکر لوگ آپ کے پورے شہر اور آپ کے اداروں پر قابض ہو چکے ہیں۔ آپ کے شہر کے سارے وسائل ہڑپ کر رہے ہیں، آپ کو آپ کے گھر کے اندر ذلیل کرنے کی قدرت حاصل کرچکے ہیں، آپ کے اپنے شہر کو آپ ہی کے لیے ناقابل رہائش اور آپ ہی کو یہاں اجنبی بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب وجوہات کیسے نظرانداز کی جا سکتی ہیں؟
سندھ اسمبلی یا نام نہاد دانش وَروں کے ’ادبی میلوں‘ میں بیٹھ کر کراچی والوں کی اِس سوچ کو ’ناقابل برداشت‘ یا ’قابل نفرت‘ قرار دینے سے پہلے اس کے پس پشت محرکات کو تسلیم کرنا اور دور کرنا اشد ضروری ہے۔ اس کے بغیر یہ مسئلہ نہ ماضی میں کبھی حل ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ اس بنیاد پر کراچی جیسے کھلے ڈلے شہر کو تعصب یا تنگ نظری کا طعنہ دینا شرم ناک ہے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ کراچی شہر میں تو ہمیشہ سے ہی دوسرے شہروں اور چاروں صوبوں سے محنت کشوں کی نقل مکانی جاری رہی ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ آٹھ، دس سال پہلے تک کبھی ’غیر مقامیوں‘ کے خلاف یہ نعرے سامنے نہیں آئے؟ تب بھی تو دوسری قوموں کے لوگ یہاں آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ سلسلہ ایک حد اور دائرے میں ہوتا تھا، شہر کے لوگوں میں آزادانہ سیاست اور حق نمائندگی باقی تھا۔ اب اسٹیبلشمنٹ نے کراچی کی سیاسی قیادت کو جبر کی زنجیروں میں جکڑ کر اس شہر کے رہے سہے وسائل اور اختیارات پر بھی قبضہ جمالیا ہے، دوسری طرف کراچی کو کچلنے کا ٹھیکا پیپلز پارٹی جیسی بدترین نسل پرست جماعت کے حوالے کیا گیا ہے، جس کے پاس مہاجروں کی شناخت اور ان کے حقوق کے لیے ذرا سی بھی گنجائش موجود نہیں۔
ایسے ماحول میں کراچی میں یہ ’غیر مقامی‘ اور مقامی کی تفریق نہ صرف بڑھے گی، بلکہ آنے والے دنوں میں خاکَم بدہن کسی سنگین صورت حال میں بھی بدل سکتی ہے، کیوں کہ ہر چیز کی ایک برداشت ہوتی ہے، اس کے بعد اس کا ردعمل آنا شروع ہو جاتا ہے اور کراچی میں ہم سب اسی ردعمل کو دیکھ رہے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ کچھ سوچے، اب بہت ہو چکا! اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، کراچی والوں کو اپنی ’کالونی‘ اور مفتوحہ علاقہ سمجھنے کی سوچ ترک کی جانی چاہیے۔ اتنے مظالم کے بعد آج بھی کراچی والے اس ملک میں کسی بھی دوسری قوم سے کہیں زیادہ محب وطن اور مخلص ہیں، لیکن افسوس کہ ریاستی سطح پر ان کی وفاداری شاید اب بھی تیسرے درجے کی سمجھی جاتی ہے۔ جب تک ریاست کی یہ سوچ تبدیل نہیں ہوگی، کراچی میں مقامی اور غیر مقامی کی یہ بحث بڑھ تو سکتی ہے، لیکن کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
Categories
کراچی میں ’مقامی‘ اور ’غیر مقامی‘ کی بحث کیسے ختم ہوگی؟
