سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
کل ہم سب نے اپنا ’یوم آزادی‘ بہت جوش وجذبے کے ساتھ منایا۔ ہمارے اسکولوں میں بھی اس دن کی مناسبت سے مختلف پروگرام ہوئے، لیکن اس کے باوجود شاید ہی کسی نے اس موضوع پر بات کی ہوگی کہ ہمارا پیارا ملک پاکستان آخر کیسے بنا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے درمیان اب ایسے بزرگ بہت کم رہ گئے ہیں، جنھوں نے پاکستان بنتے ہوئے دیکھا، لیکن تاریخ کی کتابوں میں ہمیں اس بات کا جواب مل جاتا ہے کہ ہمارا پیارا ملک پاکستان کیسے وجود میں آیا۔
یہ تو آپ سبھی جانتے ہیں کہ 1947ءسے پہلے پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ بنگلا دیش ایک ہی ملک تھے۔ آزادی کے بعد پاکستان اور ہندوستان دو الگ الگ ملک بن گئے، جب کہ بنگلا دیش بھی ’مشرقی پاکستان‘ کے نام سے 1947ءمیں پاکستان کا حصہ بنا، جو ہمارے آپس کی نفرت کی وجہ سے 1971ءمیں الگ ہو کر ’بنگلا دیش‘ بن گیا۔
آج اگر کسی بھی طالب علم سے پوچھا جائے کہ پاکستان کیسے بنا؟ تو وہ اس کا مکمل اور درست جواب نہیں دے پاتا۔ ہم جانتے ہیںکہ آزادی سے پہلے یہاں انگریزوں کی حکومت تھی، وہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان بنے، اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ بھی پاکستان بننے کے سخت خلاف تھی، تو آخر ایسی کون سی بات تھی جس سے حتمی طور پر یہ طے ہوگیا کہ پاکستان بننا چاہیے؟
آئیے آج آپ کو اس کا جواب دیتے ہیں۔ یوں تو 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کی مختلف تحریکیں چل رہی تھیں، جس میں سرسید احمد خان کی ’علی گڑھ تحریک‘ سب سے نمایاں تھی، اسی تحریک سے وابستہ لوگوں نے 1906ءمیں ڈھاکا میں ’آل انڈیا مسلم لیگ‘ بنائی۔ 1930ءمیں مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس میں علامہ اقبال نے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور سرحد کے مسلم اکثریتی علاقوں کی علاحدگی کی بات کی۔ 1940ءمیں ’قراردادِ لاہور‘ کے ذریعے ایک بڑا اثر پڑا، لیکن یہ صرف ایک سیاسی سنگ میل تھا، قانونی طور پر کسی ملک کو بنانے کے لیے بڑے جلسے اور جلوس ایک اہم کردار ضرور ادا کرتے ہیں، لیکن صرف کسی جلسے کی قرارداد سے کسی ملک کی تقسیم نہیں کی جا سکتی۔ قیام پاکستان کا اصل اور حتمی فیصلہ 1945ءکے انتخابات کے نتیجے میں کیا گیا۔
ان انتخابات میں پورے ہندوستان میں جہاں جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادیاں تھیں، وہاں مسلمانوں کے لیے الگ انتخابی حلقے بنائے گئے، یہاں صرف مسلمان امیدوار ہی انتخابات میں کھڑے ہو سکتے تھے۔ ان حلقوں کی تعداد 30 تھی۔ ان 30 مسلمان حلقوں میں کانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے مسلمان امیدوار بھی میدان میں تھے۔ کانگریس اس بنیاد پر انتخاب لڑ رہی تھی کہ ہندوستان تقسیم نہیں ہونا چاہیے، جب کہ مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن پاکستان بننا ضروری ہے۔ ان انتخابات میں جس جماعت کو زیادہ ووٹ مل جاتے، اس کی بات کو مان لیا جاتا۔ 1937ءکے انتخابات کی طرح یہ ڈر بھی موجود تھا کہ کہیں کانگریس دوبارہ سے انتخابات نہ جیت جائے، لیکن جب نتائج آئے تو ’آل انڈیا مسلم لیگ‘ نے 30 کی 30 مسلمان حلقوں سے بے مثال کام یابی حاصل کر لی تھی۔ یہی وہ آخری موڑ تھا، جس کے بعد برطانوی حکومت اور کانگریس یہ ماننے پر مجبور ہوگئی کہ ملک کو تقسیم کر کے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن پاکستان بنا دیا جائے۔
پاکستان کے قیام کا فیصلہ کرنے والی یہ 30 مسلم نشستیں کون کون سے علاقوں کی تھیں؟
یہ بڑی دل چسپ بات ہے کہ ان میں 17 نشستوں، یعنی واضح اکثریت (56.66%) کا تعلق موجودہ ہندوستان سے تھا۔ ان میں صوبہ ’یو پی‘ کی چھے، بمبئی، بہار اور مدراس کی تین، تین، جب کہ آسام اور ’سی پی‘ کی ایک، ایک نشست شامل ہے۔ باقی 13 مسلم نشستوں میں بنگال اور پنجاب کی چھے، چھے اور سندھ کی ایک نشست بھی شامل ہے، جو کہ خوش قسمتی سے ’پاکستان‘ میں شامل ہوئیں۔ مسلم لیگ کے ان 30 نمائندوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا، جب کہ ان میں سے بہت سوں کے حلقے پاکستان میں شامل بھی نہیں ہوئے، اس کے باوجود ان کی تحریک پاکستان سے یہ لگن تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان کے علاقے تو پاکستان میں شامل نہیں ہوں گے، تو وہ کیوں پاکستان بننے کی حمایت کریں۔ تحریک پاکستان کا یہی وہ جذبہ تھا کہ جس نے ایک ناممکن کو ممکن بنایا اور ہندوستان بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن پاکستان وجود میں آگیا۔ ہمیں امید ہے کہ اب آپ کو اچھی طرح پتا چل گیا ہوگا کہ ’پاکستان کیسے وجود میں آیا؟‘ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی اس تاریخ کو نہ صرف خود یاد رکھیے، بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ضرور بتائیے، تاکہ ہم اپنی تحریک آزادی کی اس اہم معلومات کو ہمیشہ زندہ رکھ سکیں۔
٭ 1945ءکے انتخابات جیتنے والے 30 مسلم لیگی امیدوار
قیام پاکستان کے مطالبے کے حوالے سے ہونے والے 1945ءکے اہم انتخابات میں تمام 30 مسلم نشستوں پر منتخب ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے امیدواروں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔
’یو پی‘ (اتر پردیش) کے 6 امیدواروں میں قائد ملت لیاقت علی خان، راجا امیر احمد خان آف محمود آباد، ڈاکٹر سر ضیا الدین احمد، خان بہادر غضنفر اللہ خان، نواب محمد اسمعیل خان اور سر محمد یامین شامل ہیں۔
بمبئی (ممبئی) کے 3 امیدواروں میں قائداعظم محمد علی جناح، ایم ایم قلعدار اور سیٹھ احمد ابراہیم جعفر موجود ہیں۔
’بِہار‘ کے 3 امیدواروں میں خان بہادر حبیب الرحمن، عابد حسین اور محمد نعمان ہیں۔
مدراس (چنائے) کے 3 امیدواروں میں ایم رحمت اللہ، حاجی عبدالستار سیٹھ اور مولوی جمال الدین شامل ہیں۔
’آسام‘ کی واحد نشست سے علی اصغر منتخب ہوئے۔
’سی پی‘ (مدھیہ پردیش) سے نواب صدیق علی خان انتخاب جیتے۔
بنگال (مشرقی پاکستان) کے 6 امیدواروں میں عبدالرحمٰن صدیقی، حسین شہید سہروردی، شیخ رفیع الدین صدیقی، شاہ عبدالحمید، چوہدری محمد اسمعیل خان اور مولوی تمیز الدین خان کے نام شامل ہیں۔
پنجاب کے 6 امیدواروں میں مولانا ظفر علی خان، کیپٹن عابد حسین، حافظ محمد عبداللہ، شیر شاہ جیلانی، مولانا غلام بھیک نیرنگ اور نواب شیر محمد شاہ منتخب ہوئے۔
سندھ کی مسلم نشست سے سیٹھ یوسف عبداللہ ہارون انتخابات جیتے۔
٭ پاکستان میں شامل ہونے والے علاقے اور ریاستیں
قیام پاکستان کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا ریفرنڈم اور صوبہ بلوچستان (قلات، خاران اور مکران) شاہی جرگے کے فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کا حصہ بنے۔ دیگر ریاستوں میں ’بہاول پور‘ اور ’خیر پور‘ نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا، یہ دونوں ریاستیں اب صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کا حصہ ہیں۔ اسی طرح ریاست لسبیلہ پاکستان سے الحاق کے بعد آج صوبہ بلوچستان میں موجود ہے۔
سوات، دیر، چترال اور ’امب‘ نامی ریاستیں پاکستان میں شامل ہو کر آج صوبہ خیبرپختونخوا کا حصہ ہیں۔ آج کے ’گلگت بلتستان‘ کا حصہ ’ہنزہ‘ نے بھی قیام پاکستان کے بعد اس ملک سے الحاق کیا۔ اس کے علاوہ 1958ءمیں وزیراعظم پاکستان سر فیروز خان نون نے بلوچستان کے اہم ساحلی علاقے ’گوادر‘ کو عرب ملک عَمان سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا۔ افغانستان کی سرحد کے ساتھ موجود چھے قبائلی علاقے باجوڑ، خیبر، مہمند، اورک زئی، کُرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ’فاٹا‘ FATA (Federally Administered Tribal Areas) کہلاتے تھے۔ یہ قبائل 1947ءسے ہی پاکستان کے ساتھ شامل رہے۔ 2018ءمیں ’فاٹا‘ کو باقاعدہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بھی بنا دیا گیا۔
پاکستان بننے کے بعد ہندوستان کی ایک مال دار ریاست ’حیدر آباد (دکن) اور جونا گڑھ بھی پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتی تھیں، لیکن وہاں کی ہندو اکثریت اور چاروں طرف سے ہندوستان میں گِھرے ہوئے ہونے کی وجہ سے 1948ءمیں انھیں ہندوستان نے زبردستی اپنے ساتھ شامل کرلیا۔ پاکستان کے ابتدائی عرصے میں ’دکن‘ نے دل کھول کر روپیا بھی فراہم کیا تھا۔ اس کے علاوہ مسلمان اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کو بھی ان کی مرضی کے خلاف ہندوستان کا حصہ بنایا گیا۔ 1948ءکی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں کشمیر کا کچھ حصہ آج پاکستان کے ساتھ موجود ہے، جسے ہم ’آزاد کشمیر‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ’آزاد کشمیر‘ ایک الگ ریاست تصور ہوتی ہے۔ اس کا پرچم، آئین، صدر اور وزیراعظم سے لے کر سپریم کورٹ تک سب پاکستان سے الگ ہیں۔ وہاں صرف ’دفاع‘ اور ’کرنسی‘ پاکستانی استعمال ہوتی ہے۔ کشمیر ہی کے پڑوس میں ایک علاقہ ’گلگت بلتستان‘ بھی ہے، جو 1947ءمیں پاکستان کا حصہ بنا اور 2009ءمیں ’گلگت بلتستان‘ کو جزوی طور پر پاکستان کے پانچویں صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے بعد وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے بعد وزیراعلیٰ کا چناﺅ ہوتا ہے، لیکن فی الحال وہاں دیگر چار صوبوں کی طرح قومی اسمبلی کے لیے انتخابات نہیں ہوتے۔
(بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس 15 اگست 2026)
Categories
پاکستان کا قیام کیسے عمل میں آیا؟
