Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi Media Rizwan Tahir Mubeen Society تعلیم تہذیب وثقافت جیو نیوز دل چسپ ذرایع اِبلاغ رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی

ایسی صحافت کو تو دور سے سلام!

سمے وار (تحریر: رضوان طاہرمبین)
سنا ہے ’روایتی صحافت‘ دَم توڑ رہی ہے، اب تو صرف اس کی اُکھڑی اُکھڑی سی سانسیں باقی رہ گئی ہیں۔ بلکہ اس میں لفظ ’روایتی‘ بھی اضافی ہے۔ اب تو سرے سے صحافت ہی ختم ہو رہی ہے۔ یہ صرف اخبار، ریڈیو، ٹی وی یا ویب سائٹ کا ’سوشل میڈیا‘ ہو جانا نہیں، بلکہ صحافت ہی کا تہہ وبالا ہونا ہے۔
ظاہر ہے ’سوشل میڈیا‘ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب ہر فرد ہی چلتا پھرتا ’چینل‘ بن چکا ہے۔ جب ہم ’ہر فرد‘ کہتے ہیں تو پھر اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب ہے ہر خاص وعام۔ اور ہمارے ملک میں ہر خاص وعام کا کیا عالَم ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ یہاں تو پڑھے لکھوں کو بھی اچھی خاصی تعلیم اور انسانیت سکھانے کی ضرورت ہوتی ہے، جو محروم رہے وہ تو بے چارے پھر رہ ہی گئے۔ ایسے میں جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھائیں گے، کسی منظر پر اپنا کیمرا آزمائیں گے، کسی شخصیت کے روبرو سوالات جمع کریں گے، تو اس کا کیا طریقہ کار اور حدود وقیود ہوں گی؟
حدود وقیود تو بہت دور کی بات ہے صاحب، سب سے پہلے انھیں ’صحافت‘ اور ’خبر‘ کی الف، ب تو پتا چلے! یہ ’خبر‘ کیا ہوتی ہے؟ خبر میں ہر ممکن غیر جانب داری اور معروضیت کس بلا کا نام ہے؟ خبر دیتے ہوئے کس طرح اپنی ذاتی پسند وناپسند اور احساسات اور جذبات کو ایک طرف رکھنا پڑتا ہے۔ خبر کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟ کسی بھی خبر کی کھوج کیوں کر ہو سکتی ہے؟ اس خبر کی تصدیق کیسے ہوگی؟ خبر کے لیے کون کون سی رکاوٹیں موجود ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری باتیں اور اعتراضات بھی اب قصہ¿ پارینہ ہونے والے ہیں۔ کیوں کہ اب نام نہاد ’میڈیا سائنس‘ کرانے والی نجی جامعات میں گرافک ڈیزاننگ، کیمرا اینگلنگ، ویڈیو شوٹنگ، ساﺅنڈ ایڈیٹنگ اور پروڈکشن سے لے کر فلم میکنگ تک سبھی کچھ پر توجہ ہے، اگر نہیں ہے تو زبان وبیان، اِبلاغ کے مسائل، الفاظ کا چناﺅ اور برتاﺅ، حقائق کے حصول، موضوعات کے انتخاب، مندرجات کی بُنت اور ان کے نئے پہلوﺅں سے آگاہی تک کسی چیز کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے میں ہم عام شہریوں سے کیا یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اگر اپنی بات بہت سارے لوگوں تک پہنچانے کی سہولت رکھتے ہیں تو وہ ’صحافت‘ کریں گے؟ یا کسی خبر کو رپورٹ کرنے کے آداب سے آگاہ ہوں گے؟
اب تو عام ذرائع اِبلاغ کے رپورٹر تک ’خبر‘ نام کی شے سے بہت ہی پرے ہو چکے ہیں۔ ان کے لیے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں، سیاسی جماعتوں سے لے کر جملہ شخصیات کی فراہم کردہ معلومات اور بیانات ہی ”خبر“ قرار پاتی ہیں۔ ان کا باقاعدہ کسی موقعے پر خود موجود ہونا اور اسے بلا کم وکاست رپورٹ کرنے جیسے مراحل اب شاذ ونادر ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اب تمام رپورٹروں سے لے کر فوٹو گرافروں تک نے ’ایکا‘ کیا ہوا ہے، ایک ہی ’ڈبے‘ میں ’تیری میری خبریں‘ ایک ساتھ جمع ہوتی ہیں اور پھر بٹ جاتی ہیں اور ہم فلاں بڑے اخبار اور فلانے بڑے چینل کے نام نہاد رپورٹر قرار پاتے ہیں۔
صحافت میں نامہ نگار یا ’رپورٹر‘ خود خبری حقائق کا تعاقب کرتا ہے، تفتیشی نامہ نگاری کرتا ہے، اخلاقیات سے لے کر قانونی موشگافیوں کو سامنے رکھتا ہے، اسے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ریاستی پابندیوں میں بچ بچا کر اُسے اپنی خبر قارئین تک پہنچانی ہے اور پھر سماج میں بھانت بھانت کے فشاری گروہوں کے چُنگل سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہے، کیوں کہ جان سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر آپ موجود ہوں گے تو کل اور کوئی خبر بھی آسکے گی، لیکن اگر آپ ہی کی ’خبر آگئی‘ تو پھر اس کے بعد کوئی خبر نہیں آسکے گی۔
یہ سب باتیں ہوتی تھیں، جو جامعات کے لیکچروں سے لے کر عملی صحافت کی راہ داریوں میں بڑے بوڑھے صحافیوں اور معمر نامہ نگاروں کے ذریعے نئے صحافیوں کی گُھٹی میں پڑا کرتی تھیں۔ اب تو سب ماضی کا قصہ ہوا۔ کیا اخبار اور کیا خبری چینل۔ سبھی اس ’سوشل میڈیا‘ کی وبا کے سامنے اپنا زوال ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں، لیکن کسی طور اپنے معیار اور انفرادیت کو قائم رکھنے کی جستجو نہیں رکھتے۔ رہی ’آن لائن‘ صحافت، جسے آپ ویب سائٹ کہہ لیجیے، انھیں بھی سنسنی خیزی کی ایسی لَت لگ چکی ہے کہ نہ پوچھیے۔ ہر خبر کی کسی نہ کسی طرح کوئی ذومعنی سی سرخی نکال کر اپنی اسکرین پر ایک بھیڑ لگانی مقصود ہے، اور اگ ربھیڑ لگے گی تو پھر شور ہوگا اور شور ہوگا تو ویب سائٹ کی آمدنی خوب سے خوب ہوگی۔ تو زور کس پر رہا؟ شور پر! تو مل ملا کر یہ شور کسی طرح بھی صحافت قرار نہیں دی جا سکتی۔
اس بیچ کیا ذکر کریں اس ڈیجیٹل کہلائی جانے والی ’صحافت‘ کا کہ جو ’سوشل میڈیائی‘ نرغے میں اس قدر گھری ہوئی ہے کہ ’ڈیجیٹل صحافت‘ نہٰں بلکہ ”ڈیجیٹل جہالت“ زیادہ بن چکی ہے، اور کیوں نہ ہو۔ یہ تو مختلف کاروباری اور سیاسی گروہوں کے من چاہے مواد کی تشہیر اور پروپیگنڈا اور فقط پروپیگنڈا ہی ہے۔ یہاں ہم کسی کا نام نہیں لیتے، جب جنگ، ڈان اور نوائے وقت وغیرہ کے خالص صحافتی اداروں کے بعد دیگر کاروباریوں کو ہمارے ذرائع اِبلاغ میں شمولیت کا چسکا پڑا، تب بھی ناقدین نے یہ سوال کیا تھا کہ تاجروں اور سرمایہ کاروں کے اخبار اور چینل خبر سے کیوں کو انصاف کر پائیں گے؟ ان کے اپنے سیٹھوں کے مالی مفادات کو ان کے ہاں اولیت ملے گی۔ مگر اب جو ڈیجیٹل کے نام پر جوتیوں میں جو دال بٹ رہی ہے، اسے دیکھیے تو لگتا ہے کہ بھئی وہ کاوباری اداروں کے اخبارات اور چینل تو پھر بھی شاید کچھ صحافتی وقعت رکھتے تھے، لیکن اب تو صد فی صد بے ہودگی کو ہی ’صحافت‘ اور ’خبر‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یعنی آپ بتائیے کہ آپ کو کیسا تعصب فروغ دینا ہے؟ بس وہی بن جائے گا، کبھی دستاویزی فلم کے نام پر، تو کبھی پوڈ کاسٹ کے نام پر یا ’ویلاگ‘ کے نام پر یہاں سب کچھ بک جاتا ہے،بس بیچنا آنا چاہیے۔
اور ابھی تو ’سوشل میڈیا‘ کی ویب سائٹ کے اپنے ’الگورتھم‘ کا رونا گانا نہیں ہے کہ انھیں بھی تو اپنے مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، وہ بھی چاہیں گے تو آپ کے ہزاروں اور لاکھوں صارفین کو آپ کا مواد دکھائیں اور اگر انھیں نہ بھائے، تو چاہے آپ کے لاکھوں ’فالورز‘ ہوں، اس مضمون اور خبر کا وہیں گلا گھونٹ دیں گے۔ ایسے میں غیر جانب داری، یا کم سے کم ایک عام شہری کی پسند و ناپسند بھی ایک طرف ہو جاتی ہے، اسے تو صرف وہ دکھایا جاتا ہے، جس سے اُس ’سوشل میڈیا‘ ویب سائٹ کا مفاد وابستہ ہوتا ہے، یہ بھی ایک لمبی بحث ہے کہ کس طرح ایک قاری، ناظر اور سامع سے اپنی پسند کی چیز پڑھنے، دیکھنے اور سننے کا اختیار سَلب کر لیا گیا ہے اور نہ صرف سَلب کر لیا ہے، بلکہ ہر لمحہ اس کا سارا ریکارڈ بھی جمع ہو رہا ہے، جو ’مصنوعی ذہانت‘ کا ایندھن بنا کر عوام کے مزید استحصال کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پہلے تو صورت حال یہ تھی کہ خبر مانا ہی اُسے جاتا تھا کہ جو صحافی یا نامہ نگار تگ ودو کر کے نکال کر لاتے تھے، آج کل کہاں ہے وہ خبر؟ آج کل سب کچھ ’واٹس ایپ‘ پر بھیج دیا جاتا ہے۔ کسی جلسے، کسی کانفرنس اور کسی اجلاس میں جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ متعلقہ ’پارٹی‘ خود آپ کو بنی بنائی ”خبریں“ پیش کر دے گی۔ اب یہ خبریں ہوں گی یا ان کی تشہیر؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔
’خبروں‘ کے ساتھ تجزیے، تذکرے اور تبصرے ہوتے ہیں۔ معروضی صحافت میں جذبات اور احساسات کو ایک طرف رکھ کر اس کی اہمیت اور عوام کے فائدے کے لیے متعلقہ موضوع پر مکمل تصویر واضح کی جاتی ہے، اس حوالے سے پوشیدہ پہلوﺅں کو منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ غیر جانب دار رہتے ہوئے حقائق کی بات کی جاتی ہے، لیکن ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اس کا تصور ہی محال ہو چکا ہے۔ انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بنے ہی تعصبات کی بنیاد پر ہیں۔ انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ کس موضوع پر کس ادارے اور کس فرد سے کیا بات پوچھی جانی چاہیے۔ پھر سب سے بڑی بات کہ جس فریق کے خلاف آپ بات کر رہے ہیں، تو اس حوالے سے اس کا نقطہ¿ نظر کیا ہے؟ یہ بنیادی صحافتی اصول اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مفاد کے لیے کسی فرد، ادارے یا سیاسی جماعت کو یک طرفہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس حوالے سے منظر واضح کرے، لیکن یہ ویڈیو کے ذریعے اپنی جیسی تیسی اور بے تکی رائے تھوپنے کی ذہنیت بھلا کب یہ سب خاطر میں لاتی ہے۔ وہ تو ’ڈاکیومنٹری‘ کے نام پر الّم غلّم طریقے سے نہ جانے کیا کیا ابہام پیدا کیے جاتے ہیں۔ ان کی تو کوئی تربیت ہی نہیں ہوتی کہ ’خبر‘ تو ابہام دور کرتی ہے اور آپ خبر سے آگے کی بھی ایک چیز اپنے ناظرین کے لیے پیش کر رہے ہیں تو اس میں پیش کش کے بنیادی آداب کیا ہونے چاہئیں؟ مطلب یہ کہ آپ نے سوال کیا پوچھا تھا، وہ ناظرین کو بتایا ہی نہیں، براہ راست کسی کا جواب دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ فلاں آدمی فلاں شخص کے لیے یہ سب بات کر رہا ہے۔ یہ کس قسم کی صحافت ہو رہی ہے؟
یقیناً یہ صحافت کسی طرح بھی نہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے اِبلاغ کے زاویے اور طریقے بدلتے رہتے ہیں، لیکن بنیادی اقدار اور اصول اپنی جگہ پر مسلّم ہیں۔ اگر روایتی اخبار، ریڈیو اور ٹی وی کی جگہ صحافت کے نام پر یہی سارا ’بھنگڑ خانہ‘ کُھلنا تو ہے پھر معاف کیجیے گا ہم سے یہ ”صحافت“ تو نہ ہووے گی۔ جب یہ جانب دار، پروپیگنڈا، دروغ گو اور بے ہودہ طریقے سے اپنے مَن کے تعصبات اور ادھوری سچائیوں کو دھڑلے سے ناظرین کے مَتھے مارا جائے گا اور بتایا یہ جائے گا کہ یہ تو ’آزادی اظہار‘ اور ’صحافت‘ ہے تو پھر ہماری طرف سے ایسی صحافت کو دور سے سلام، کیوں کہ یہ بدترین مفاد پرستی اور بے ہودگی سمیت سب کچھ ہو سکتی ہے، لیکن صحافت کسی بھی زاویے سے نہیں ہو سکتی!
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)


٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights