سمے وار (تحریر: سائرہ نقاش)
تقریباً 40 سال سے ایک کتاب پاکستان کی تاریخ کے بارے میں تصورات کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ کتاب غلط طور پر محترمہ فاطمہ جناح سے منسوب کی گئی، “مائی برادر” کے عنوان سے یہ کتاب 1987 میں شائع ہوئی، یعنی ان کی وفات کے دو دہائیوں بعد اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس میں قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کے بارے میں ان کے ذاتی خیالات شامل ہیں، لیکن چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے یہ کتاب کبھی لکھی ہی نہیں تھی۔
عام طور پر یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ ایسی واردات کسی بیرونی طاقت کی جانب سے کی گئی ہوگی، جو ہماری تاریخ کو مسخ کرنے میں دل چسپی رکھتی ہو۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ دھوکا خود پاکستان کے اندر پروان چڑھا، ہمارے ہی اداروں نے اسے اپنایا، اور انھی اسکالرز اور میڈیا شخصیات نے اسے نظرانداز کیا جنہیں اس کا جائزہ لینا چاہیے تھا۔
جب یہ کتاب پہلی بار شائع ہوئی تو اسے وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا۔ نوجوان طلبہ اور اسکالروں سمیت کئی لوگوں نے اس کے مواد پر اعتماد کیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ واقعی فاطمہ جناح کے خیالات پڑھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بقول خرم علی شفیق صاحب وہ بھی ایک زمانے تک اس کتاب کی سچائی پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن مزید تحقیق نے اُن کا نقطہ نظر بدل دیا۔
کتاب کی جعل سازی کا پردہ فاش کیسے ہوا؟
اس کہانی میں پہلا شک اس وقت پیدا ہوا جب سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکیڈمی خواجہ رضی حیدر کے ساتھ گفتگو کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہ کتاب درحقیقت فاطمہ جناح کی تحریر نہیں تھی۔ اس کے بعد مزید تحقیقات کی گئیں، جن میں قومی آرکائیوز میں موجود اس کتاب کے اصل مسودے کا تجزیہ بھی شامل تھا۔
اس کے نتائج حیران کن تھے۔ یہ مسوّدہ ئدفاطمہ جناح کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر نہیں تھا بلکہ ایک ٹائپ شدہ دستاویز تھی، جسے مبینہ طور پر جی۔ الانہ کی مدد سے تیار کیا گیا تھا, وہی محقق جو پہلے بھی جناح پر کتابیں لکھ چکے تھے۔ اس کے علاوہ اس میں متعدد تاریخی غلطیاں اور جھوٹے واقعات بھی شامل تھے۔
کتاب کی اصلیت کے خلاف سب سے مضبوط ثبوت اس میں بیان کردہ ایک واقعہ ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی محمد علی جناح سے دادا بھائی نورو جی کے 1892ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات جیتنے پر بات کی تھی، اور جناح نے اس الیکشن کو لندن میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جناح 1893ء میں لندن پہنچے یعنی انتخابات کے تقریباً ایک سال بعد!
یہ کوئی معمولی غلطی نہیں بلکہ کتاب کی مکمل ساکھ کو تباہ کر دینے والی دھوکہ دہی تھی۔ یہ کہانی سب سے پہلے برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھو کی کتاب “جناح: کریئیٹر آف پاکستان” میں لکھی گئی، جسے بعد میں “مائی برادر” میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کتاب کے مصنف نے فاطمہ جناح کی اصل یادداشتوں کو بیان نہیں کیا بلکہ محض پرانی کہانیوں کو دُہرایا۔
سب سے افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ 40 سال تک کسی بھی بڑی یونیورسٹی، علمی ادارے یا صحافی نے اس کتاب کے دعووں کی حقیقت کو جانچنے کی زحمت نہیں کی۔ اس کے برعکس، اسے بار بار حوالہ دے کر مزید مضبوط کیا گیا۔ آج بھی معروف صحافی اور دانش ور اس کتاب کا حوالہ دیتے ہیں بغیر اس کی ساکھ پر سوال اٹھائے۔
حالیہ مثال سینئر صحافی حامد میر کا ایک وائرل کلپ ہے، جس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ “فاطمہ جناح کو ان کی زندگی میں ‘مائی برادر’ شائع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی”۔ لیکن اس دعوے کا کوئی ثبوت دست یاب نہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کسی بھی مرکزی میڈیا پلیٹ فارم پر اس کتاب کی حقیقت کو چیلنج نہیں کیا گیا۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
تاریخی سچائی محض ایک ریکارڈ درست کرنے کا معاملہ نہیں—یہ قومی تشخص، پالیسی فیصلوں، اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تشکیل دیتی ہے۔ جب جھوٹے بیانیے بلا روک ٹوک چلنے دیے جاتے ہیں، تو وہ قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ “مائی برادر” کی حقیقت محض ایک مثال ہے ان بے شمار تاریخی غلط بیانیوں کی جو پاکستان کی تاریخ میں گھڑی گئی ہیں۔
سوال تو یہ ہے کہ ہمارے ادارے تاریخی دستاویزات کی تصدیق میں کیوں ناکام رہے؟
کتنے اور نام نہاد “تاریخی حقائق” دراصل جھوٹ پر مبنی ہیں؟
ذمہ دار شہریوں کو تاریخی سچائی کی جانچ کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
اب ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ ہم گم راہ کن بیانیوں کو چیلنج کریں۔ ہمیں تاریخ کو آنکھیں بند کر کے قبول کرنے کے بp جائے تحقیقی رویہ اپنانا ہوگا حقائق کی تصدیق کرنی ہوگی، ذرائع کو پرکھنا ہوگا، اور ان افراد سے جواب طلب کرنا ہوگا جو عوامی علم کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ دانش ور، صحافی، اور عام شہری مل کر تاریخی سچائی کو واپس حاصل کریں۔ اگر ہم نے اپنی تاریخ پر خود قابو نہ پایا، تو دوسرے اسے اپنے مفاد کے مطابق بدلتے رہیں گے۔
تو کیا آپ وہی تاریخ قبول کریں گے جو آپ کو سکھائی گئی، یا خود سچ کی تلاش کریں گے؟
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
پس نوشت: مجھے اس کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے۔ براہ مہربانی رواداری اور اعتدال کا مظاہرہ کیجیے گا ۔ اشتعال انگیزی منطق کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے پائے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
فاطمہ جناح کی کتاب جعلی؟ اور حامد میر کا الزام
