سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں غیر مقامی مقررین، غیر مقامی ترجیحات اور غیر مقامی موضوعات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔
حکومت سندھ کے مرکزی اسپانسر کے طور پر شروع ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں سندھی مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں خالی کرسیوں کی تصویر انتظامیہ اور اسپانسر کا منہ چڑا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اکسفورڈ اور ادبی میلے ٹھیلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس شہر میں اور کن لوگوں کے لیے مشاعرہ کر رہے ہیں۔ ہر بار غیر مقامی جتھوں اور باقاعدہ جمع کیے گئے مجمعے سے یہ پروگرام کام یاب نہیں کیے جاسکتے۔ واضح رہے دو ماہ قبل ہونے والی 2025 کی عالمی اردو کانفرنس میں غالب ہونے والے غیر اردو موضوعات کے بعد پہلی بار احمد شاہ نے سندھی مشاعرہ کراڈالا تھا، جس میں جیسے تیسے لوگ جمع ہوگئے تھے، لیکن آکسفورڈ کے لٹریچر فیسٹول کی سندھی مشاعرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوٹ گئی ہے۔ تمام طرح کے ہتھ کنڈے اور برگر کلاس کی آشیر باد کے بعد سجایا جانے والا سندھی مشاعرہ سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
لوگ سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ کب تک یرغمال شہر کر یرغمال موضوعات سے بہلایا جاتا رہے گا۔ کراچی میں کراچی کی زبان، کراچی کی ثقافت کو نظرانداز کرنے کا یہی نتیجہ نکلنا ہے۔ آج لٹریچر فیسٹول ہے، کل احمد شاہ کانفرنس المعروف عالمی اردو کانفرنس کے بھی غیر مقامی اور غٰیر منطقی موضوعات کا یہی حشر ہونے والا ہے، کیوں کہ مصنوعی چیز مصنوعی ہی ہوتی ہے۔ سندھی مشاعرے سندھ میں ہونے چاہئیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی شہر میں آپ کسی اور قوم کی ثقافت لا کر تھوپ دیں؟
Categories
فیسٹول کراچی کا مشاعرہ سندھی کا؟ اب یہ تو ہوگا
