(تحریر: تحریم جاوید)
ہر سانحے کی طرح اس سانحے پر بھی جہاں کراچی میں دھماکوں اور تکلیف دہ صورت حال میں جہاں لاشیں اور زخمیوں کی موجودگی کے ساتھ بڑے بڑے کیمرے بھی ہوں وہاں پر چھیپا، ایدھی اور دوسری ایمبولینسیں بھی موجود ہوگئیں۔
اللہ محفوظ رکھے ورنہ اگر کبھی آپ کو چھیپا یا ایدھی کی ایمبولینس کی ضرورت پڑی ہو تو اچھی طرح اندازہ ہوگا کہ ان کی ساری توجہ ایسی جگہوں کے لیے ہوتی ہے جس کی خبر بنے، جہاں کیمروں کا جمگھٹا ہو، وہاں پر یہ ایمبولینسیں کسی بھی وقت دست یاب ہوجاتی ہیں۔ اگر آپ کو اسپتال سے دوسرے اسپتال بھی جانا ہو تو پھر نہ پوچھیے کتنی دیر لگتی ہے، ورنہ صفا منع کردیا جاتا ہے یا ٹالتے رہتے ہیں لائن کاٹ دیتے ہیں اور پھر جب آتے ہیں تو کبھی اسٹریچر خراب تو کبھی ایمبولینس کے شیشے ٹوٹے ہوئے۔ اور پیسے؟ پیسے لینے میں یہ آگے آگے ہوتے ہیں اور پورے پورے گن کر پیسے لیتے ہیں، رسید کے پیسے الگ ہوں گے اور چاہے آپ کسی عزیز کی میت لے جا رہے ہوں ان کو چائے پانی کی پڑی ہوتی ہے۔
کسی بھی سینٹر پر چلے جائیے، سڑک کے کنارے دیکھ لیجیے ان کی ایمبولینسیں خالی کھڑی دکھائی دیں گی، لیکن کسی عام مریض کے لیے بہ مشکل دست یاب ہوں گی، بالخصوص جب رات گئے یا بہت صبح کا وقت ہو تو۔ ایدھی ہو یا چھیپا اتنی بڑی ایمبولینس سروس۔ کیا کبھی توقع کی جاسکتی ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ یہ آپ کو ایمبولینس کے لیے نہ کرسکیں؟
ایسا کون سا کال پڑ گیا اور کون سا حیدرآباد بلا رہے ہیں کہ ایمبولینس ہی نہیں ملتی۔ ان کے سینٹروں پر دیکھیے درجنوں ایمبولینس کسی ناخوش گوار حادثے کی صورت میں چیں چیں کرتی نکلتی چلی جائیں گی۔ یہ سب کیا ہے؟
یہ فلاحی ادارے ہیں؟ یہ عوام کے چندے سے چلتے ہیں؟
یا انھیں اپنے مفادات عزیز ہیں؟
جگہیں یہ سرکاری گھیریں اور نام لیں عوامی خدمت کا اور حقیقت میں ان کا یہ عالم ہو کہ مریض کے لیے ایمبولینس نہیں ملے گی، کہیں لاوارث لاش ہے تو فوری اپنے کھاتے میں لکھنے کے لیے دوڑے چلے جائیں گے۔ کوئی دھماکا ہوجائے تو فوراً درجنوں ایمبولینس نکل جائیں گی، لیکن عوام کو نہیں ملے گی، کیوں کہ وہاں تصویر نہیں بنے گی، مشہوری نہیں ہوگی۔
اس لیے اتوار کو گل پلازہ کیا جلا وہاں سب سیاست کرنے پہچنے تو رمضان چھیپا کیوں پیچھے رہتے وہ بھی دوڑے چلے آئے انھیں یہی تو چاہیے کوئی حادثہ ہو اور فوراً چھیپا حاضر۔ ورنہ ایمبولینس بھی نہیں اور جہاں کیمرے ہوں وہاں آپ ایمبولینس چھوڑ پورا چھیپا لے جائیے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
مریض کے لیے ایمبولینس نہیں، حادثے میں پورا چھیپا مل جائے گا!
