سمے وار (تحریر: ڈاکتر عبید علی)ستر کے اخر میں قیام ہوا ۔ کئی لوگ شامل تھے ، کئی شریک سفر رہے ۔ انھیں کوئ نہیں جانتا تھا ۔ یہ لوگ مارے مارے پھرے ۔ کھمبے بجے اور سورج اسی کے اخر میں اپنے اب و تاب پر پہنچ گیا ۔ جن کے پاؤں تلے زمین […]
سمے وار (تحریر: ڈاکتر عبید علی)ستر کے اخر میں قیام ہوا ۔ کئی لوگ شامل تھے ، کئی شریک سفر رہے ۔ انھیں کوئ نہیں جانتا تھا ۔ یہ لوگ مارے مارے پھرے ۔ کھمبے بجے اور سورج اسی کے اخر میں اپنے اب و تاب پر پہنچ گیا ۔ جن کے پاؤں تلے زمین […]
سمے وار (تحریر: نوشین اقبال)پاکستان کے حکمران سیاسی خاندان میں پرورش پانے پر اپنی دھماکا خیز یادداشت لکھنے کے پندرہ برس بعد، مصنفہ نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ایک ہلا دینے والی روداد قلم بند کی ہے۔ وہ “دوڑتی بھاگتی زندگی” اور آخرکار کہیں ٹھہر جانے کی بات کرتی ہیں۔اگر فاطمہ بھٹو کو […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)گذشتہ دنوں ختم ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں آخری روز متحدہ کی مرکزی راہ نما نسرین جلیل کے لیے بیٹھک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے گفتگو ہونی تھی، جسے معزز صحافی مظہر عباس نے زیادہ تر کسی اور جانب ہی موڑے رکھا۔ اب نہیں معلوم یہ دانستہ کوئی […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں رہائش اور آسان رہائش مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں اپنے گھر اور سرپر چھت کے نام پر جتنا زیادہ نجی ہائوسنگ اسکیم کے ذریعے لوٹا جاتا ہے وہاں دیگر طور سے بھی یہ دھینگا مشتی کوئی کم نہیں ہے۔ایسی ہی ایک اسکیم ہاکس بے ہائوسنگ اسکیم […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں غیر مقامی مقررین، غیر مقامی ترجیحات اور غیر مقامی موضوعات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔حکومت سندھ کے مرکزی اسپانسر کے طور پر شروع ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں سندھی مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں خالی کرسیوں کی تصویر انتظامیہ اور اسپانسر […]
سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)اصل پروپیگنڈا اِسے کہتے ہیں کہ 18 سال سے مسلسل حکومت کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اپنے چیئرمین کو اسلام آباد لے جا کر وہاں کے صحافیوں کے سامنے اپنی کارکردگی کے چرچے کرواتی ہے۔ اور اسلام آباد کے نام نہاد بڑے صحافی واری واری جاتے ہیں۔و […]
سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)وہ جنوری 2018کی ایک ناخوش گوار صبح تھی جب شہر میں بیرون ملک سے ڈاکٹریٹ کرکے آنے والے ایک عملی اور مثالی نظریاتی کارکن اور دیوقامت علمیت رکھنے والے فلسفی ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش ملی۔ان کی لاش رات بھر کی گم شدگی کے بعد ریڑھی گوٹھ جیسے دور […]
سمے وار (تحریر: محمد امین الدین)سانحات، حادثات اور بد انتظامی کی وجہ سے صرف کراچی نہیں بلکہ پورا ملک گویا کسی آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ نہ جانے کب کہاں سے لاوا اُبل پڑے، کچھ معلوم نہیں۔پاکستان میں سانحات کی 78 سالہ تاریخ ہے ۔ ہر سانحے کی فائل سرد مہری کے گردو غبار […]
سمے وار (تحریر: سلمان نسیم شاد)پاکستان کی شہری سیاست کو اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹا جائے تو وہ لفظ اضطراب ہے۔ یہ اضطراب نہ اچانک پیدا ہوا، نہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ ہے۔ اس کے پیچھے ہجرت کے زخم بھی ہیں، شناخت کے سوال بھی، ریاستی فیصلوں کی تلخی بھی اور وہ سانحات […]
(تحریر: رضوان طاہر مبین)لاہور کے بچوں اور بڑوں کی ہمیشہ خیر ہو۔۔۔ہمیں لاہور سے بھی بہت اپنائیت اور انسیت ہے۔۔وہاں کھلے گٹر میں گر کر خاتون اور بچے کی جان چلے جانا بے بہت شک الم ناک حادثہ ہے۔اس حادثے کا موازنہ کراچی میں مسلسل اور منظم طور پر جاری مجرمانہ بے شرمی اور غفلت […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)گل پلازا میں درجنوں لاشیں جل کر سرمہ ہوگئیں، لیکن بے حسی کا ایک سلسلہ ہے جو کہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ ایک طرف کراچی میں قائم نام نہاد ثقافتی ادارے ہیں، جنھوں نے ایک دن کے لیے بھی اپنے ڈھول ڈھمکے تک نہیں روکے۔ وہاں ہو ہا ویسے کے ویسے […]
سمے وار (تحریر: اجمل شعیب)اس ملک میں جس طرح بے شمار جھوٹ بہت شدو مد سے پھیلائے گئے اس میں سے ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ کراچی میں کراچی والے کسی کو بھی زندہ نہیں رہنے دیتے۔ یہاں بہت تعصب ہے، یہاں بھتا ہوتا ہے، یہ لوگ بہت برے ہیں، سب سے نفرت کرتے […]
سمے وار (تحریر: سعد احمد)یہ میں آپ کو لکھ کر دینے کے لیے تیار ہوں کہ پاکستان میں اور کسی شہر میں اتنا بڑا کیا اس کا آدھا سانحہ بھی ہوجائے اور وہاں ایسے رقص اور موسیقی جاری رہے۔یہ صرف کراچی آرٹس کونسل میں ممکن ہے، جہاں غیر مقامی اور کم ظرف انتظامیہ قابض ہے […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)گل پلازا آتش زدگی کے بعد کراچی والوں کے احتجاج اور شدید ردعمل کے سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حساب سے اس میں حصہ ڈال رہی ہیں، جس میں جماعت اسلامی حق دو کراچی کو یکم فروری کو احتجاج کر رہی ہے، جس کے ردعمل میں مبینہ طور پر پیپلز […]
سمے وار (تحریر: سعد احمد)جو دنیا میں کہیں نہیں ہوتا وہ کراچی میں ہوتا ہے، جیسے اپنے ہی شہر میں تیسرے درجے کے شہری بلکہ غلاموں جیسی زندگی گزارنا۔ ریاست کی جانب سے ہندوستانی اور غدار سمجھنا، ان کی حب الوطنی 80 سال بعد بھی مشکوک سمجھنا اور ان کے وسائل اور اداروں پر غیر […]