سمے وار (تحریر: سارہ شاہدہ)چیزوں کے نرخ کا اصول یہ ہے کہ ان کے حجم، استعمال اور ضرورت کے حساب سے ان کی قیمت بہ حوالہ وزن متعین کی جاتی ہے، جیسے عام مسالا جات کو ہم پائو ۤآدھا پائو، بلکہ اس سے بھی کم یعنی چھٹانک اور 100 گرام تک کی قیمت میں معلوم […]
سمے وار (تحریر: سارہ شاہدہ)چیزوں کے نرخ کا اصول یہ ہے کہ ان کے حجم، استعمال اور ضرورت کے حساب سے ان کی قیمت بہ حوالہ وزن متعین کی جاتی ہے، جیسے عام مسالا جات کو ہم پائو ۤآدھا پائو، بلکہ اس سے بھی کم یعنی چھٹانک اور 100 گرام تک کی قیمت میں معلوم […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)مندرجہ بالا تصویر اس وقت کی ہے کہ جب 1978 میں جامعہ کراچی میں “اے پی ایم ایس او” کے پرچم کی پہلی بار رونمائی کی گئی تھی۔اس تصویر میں “اے پی ایم ایس او” اور “ایم کیو ایم” کے بانی الطاف حسین تو نمایاں ہیں ہی، لیکن ان کے ساتھ ساتھ […]
سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)اختلاف ہو سکتا ہے، اختلاف رائے ہوسکتا ہے، لیکن دُہرے معیار پر تو اچھی طرح گرفت ہونی چاہیے۔ سوال تو ہے کہ گذشتہ دنوں کراچی پریس کلب سے شیما کرمانی نام کی ڈانسر کو حراست میں لینے کی دھینگا مشتی میں خواتین پولیس اہل کار نے ذرا سی کلائی کیا پکڑ […]
سمے وار (تحریر: نوید صدیقی ہادی)ہم مُدتوں تک پنجاب کے خلاف سندھ کی محبت میں مبتلا رہے، اور کامریڈوں و قوم پرستوں کا بیانیہ بیچتے رہے کہ پنجاب ملک کے وسائل پر قابض ہے اور سندھ کا استحصال کررہا ہے۔اس بیانیئے کو اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے بھی تقویت ملتی رہی۔ وہ تو بھلا ہو اٹھارویں […]
سمے وار (تحریر: شہباز قاضی)ان سے ملیے، یہ ہیں پوڈکاسٹ نگری کے مہان دانش ور شہزاد غیاث شیخ! جو اپنی پوڈکاسٹ پر اتنے دھیرے سے اور “صبر، پیار، تحمل” کا چورن بیچتے ہوئے مائیک کے سامنے بیٹھتے ہیں کہ ناظر سمجھے شاید ملک کا سارا درد ان کے دل میں ہے، لیکن جیسے ہی ان […]
سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)جامعہ کراچی میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین کا وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے نام کھلا خط لکھا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اساتذہ و ملازمین کی جانب سے جاری بائیکاٹ پر فوری مداخلت کرکے شہر و صوبے کے نوجوانوں کا مستقبل بچایا جائے۔اس خط کے […]
سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)کل ہی کی بات ہے کہ ہمارے دفتر میں “مصنوعی ذہانت” کی ہمارے مستقبل کے واسطے ہلاکت خیزی کا ذکر ہو رہا تھا، بلکہ ذکر بھی کہاں باقاعدہ بحث ہو رہی تھی ایک جانب سے یہ اصرار تھا کہ مصنوعی ذہانت بالآخر مصنوعی ہی رہے گی، یہ انسان کی طرح […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)فہیم صدیقی کے بقول 2002 میں ستائیس دسمبر 2002 میں گورنر ملنے پر منائے گئے جشن میں بے نظمی نے الطاف حسین کو ناراض کردیا تھا۔ تنظیمی کمیٹی توڑ دی گئی۔نئی تنظیمی کمیٹٰ کے انچارج وسیم آفتاب تھے۔ لانڈھی ملیر اور لائنز ایریا نوگوایریا تھا۔ بیت المحزہ مسمار ہوا تو اس کی […]
سمے وار (تحریر: انور اقبال)23 مارچ 1961 کی یہ تصویر محض ایک سرکاری اعزازی تقریب کی تصویر نہیں، بلکہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی، تہذیبی اور آئینی تاریخ کا ایک گہرا اور تلخ استعارہ ہے۔ اس تصویر میں صدر ایوب خان، شیرِ بنگال اے۔کے۔ فضل الحق کو “نشانِ پاکستان” عطا کر رہے ہیں۔ وہی فضل الحق […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)کچھ عرصے قبل سوشل میڈیا پر اسکرولنگ کرتے ہوئے آپ نے بھی ایک شادی کے موقع کی ویڈیو ضرور دیکھی ہوگی، جس میں ایک دبلا پتلا نوجوان گھر میں مہمانوں کے سامنے اپنی دلہن کو اٹھا کر اس کے ساتھ ڈانس کرتا ہوا پایا جاتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ […]
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)24 مئی 2026 کو امریکا میں مقیم ‘متحدہ قومی موومنٹ’ کے ایک سابق دیرینہ رکن اور سابق ٹائون ناظم گلشن اقبال ٹائون واسع جلیل نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے سابق قائد الطاف حسین کی ‘ایم کیو ایم’ میں واپسی کا اعلان کیا ہے۔واسع جلیل کی پارٹی میں واپسی […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)آپ سب لان کی شوقین خواتین “ثنا سفیناز” سے تو واقف ہی ہوں گی۔ ڈریس ڈئزائنرز کی یہ مشہور جوڑی نہ صرف دس سال کی عمر سے پکی سہیلیاں ہیں، بلکہ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ سفیناز منیر، ثنا ہاشوانی کی بھابھی بھی ہیں۔سفیناز منیر اپنے کاروبار کے […]
سمے وار (تحریر: سید ایان ملک)بنام چیئرمین ‘ایم کیو ایم’ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور متحدہ کے تمام وہ کارکنان جو کراچی اور سندھ میں متحدہ کو دوبارہ عروج پر دیکھنا چاہتے ہیں۔مکرمی!آج میں ایک ساتھی، ایک کارکن، اور ایک ایسے شخص کے طور پر اپنے دل کی چند باتیں لکھنا چاہتا ہوں جس نے […]
سمے وار (تحریر: شاہین کمال)اب مجھے پردیس کاٹتے ہوئے تقریباً سولہ برس بیت چکے ہیں۔ زندگی نے مجھے خوب خوب جھکولے دیے پر شکر اس مالک کا کہ اس نے ہاتھ نہیں چھوڑا ۔ میں کراچی یعنی شہر دلبرا کی متوسط طبقے کی ایک عام سی لڑکی تھی. جس کے خواب بھی اسی کی طرح […]
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں، (جی ہاں، کبھی کبھی ہی سوچتے ہیں، کیوں کہ سوچنے کی عادت کے باوجود روزی روٹی اس کی ‘اجازت’ کم ہی دیتی ہے) کہ زندگی کو جیسے ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، کیا دوسرے بھی ایسے سوچتے ہیں؟ یا پھر صرف ہم ہی ایسے […]