سمے وار (تحریر: نازش عابدی)یہ جو آج کل نسبتوں کا احتساب شروع ہوا ہے، اس میں سب سے پہلے لفظ “مہاجر” کٹہرے میں کھڑا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے یہ لفظ کوئی جرم ہو جو نسل در نسل منتقل ہو گیا ہو، اور اب ہر نئی سانس کے ساتھ اس کا جواب دینا لازم ٹھہرا ہو۔۔۔۔۔ […]
سمے وار (تحریر: نازش عابدی)یہ جو آج کل نسبتوں کا احتساب شروع ہوا ہے، اس میں سب سے پہلے لفظ “مہاجر” کٹہرے میں کھڑا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے یہ لفظ کوئی جرم ہو جو نسل در نسل منتقل ہو گیا ہو، اور اب ہر نئی سانس کے ساتھ اس کا جواب دینا لازم ٹھہرا ہو۔۔۔۔۔ […]
سمے وار (تحریر: احتشام ارشد نظامی)کئی برس پہلے کی بات ہے۔ میں اکنا کنوینشن میں فرینڈز آف ہیومینیٹی کو بوتھ لگانے بالٹی مور گیا تھا۔ ڈاکٹر ایم اے طور بھی شکاگو سے گئے ہوئے تھے۔ کنوینشن کے دوسرے دن طور صاحب مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال صاحب کو بوتھ دکھانے لے کر آئے۔ اس […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)ایک طرف جماعت اسلامی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی وحدانیت سندھ اور کراچی سندھ کے اٹوٹ انگ جیسی قرار داد کی حمایت کرتی ہے تو دوسری طرف اسی جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر صاحب جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ کے ساتھ حکومت سندھ کے دہرے معیار کا نوحہ کہتے ہیں۔وہ […]
سمے وار (تحریر: ڈاکتر عبید علی)ستر کے اخر میں قیام ہوا ۔ کئی لوگ شامل تھے ، کئی شریک سفر رہے ۔ انھیں کوئ نہیں جانتا تھا ۔ یہ لوگ مارے مارے پھرے ۔ کھمبے بجے اور سورج اسی کے اخر میں اپنے اب و تاب پر پہنچ گیا ۔ جن کے پاؤں تلے زمین […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)گذشتہ دنوں ختم ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں آخری روز متحدہ کی مرکزی راہ نما نسرین جلیل کے لیے بیٹھک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے گفتگو ہونی تھی، جسے معزز صحافی مظہر عباس نے زیادہ تر کسی اور جانب ہی موڑے رکھا۔ اب نہیں معلوم یہ دانستہ کوئی […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)سانحہ گل پلازا کے بعد مبینہ طور پر وہاں سے واپس جاتے ہوئے 20 جنوری 2026 کو ڈاکٹر اسامہ انجم اور ارتضیٰ صدیقی کے لاپتا ہونے کو کئی روز گزر گئے تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ واضح رہے ایم کیو ایم لندن کے دونوں فعال کارکنان جوہر عابد ایڈووکیٹ […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں غیر مقامی مقررین، غیر مقامی ترجیحات اور غیر مقامی موضوعات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔حکومت سندھ کے مرکزی اسپانسر کے طور پر شروع ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں سندھی مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں خالی کرسیوں کی تصویر انتظامیہ اور اسپانسر […]
سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)وہ جنوری 2018کی ایک ناخوش گوار صبح تھی جب شہر میں بیرون ملک سے ڈاکٹریٹ کرکے آنے والے ایک عملی اور مثالی نظریاتی کارکن اور دیوقامت علمیت رکھنے والے فلسفی ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش ملی۔ان کی لاش رات بھر کی گم شدگی کے بعد ریڑھی گوٹھ جیسے دور […]
سمے وار (تحریر: سلمان نسیم شاد)پاکستان کی شہری سیاست کو اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹا جائے تو وہ لفظ اضطراب ہے۔ یہ اضطراب نہ اچانک پیدا ہوا، نہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ ہے۔ اس کے پیچھے ہجرت کے زخم بھی ہیں، شناخت کے سوال بھی، ریاستی فیصلوں کی تلخی بھی اور وہ سانحات […]
(تحریر: رضوان طاہر مبین)لاہور کے بچوں اور بڑوں کی ہمیشہ خیر ہو۔۔۔ہمیں لاہور سے بھی بہت اپنائیت اور انسیت ہے۔۔وہاں کھلے گٹر میں گر کر خاتون اور بچے کی جان چلے جانا بے بہت شک الم ناک حادثہ ہے۔اس حادثے کا موازنہ کراچی میں مسلسل اور منظم طور پر جاری مجرمانہ بے شرمی اور غفلت […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)گل پلازا میں درجنوں لاشیں جل کر سرمہ ہوگئیں، لیکن بے حسی کا ایک سلسلہ ہے جو کہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ ایک طرف کراچی میں قائم نام نہاد ثقافتی ادارے ہیں، جنھوں نے ایک دن کے لیے بھی اپنے ڈھول ڈھمکے تک نہیں روکے۔ وہاں ہو ہا ویسے کے ویسے […]
سمے وار (تحریر: اجمل شعیب)اس ملک میں جس طرح بے شمار جھوٹ بہت شدو مد سے پھیلائے گئے اس میں سے ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ کراچی میں کراچی والے کسی کو بھی زندہ نہیں رہنے دیتے۔ یہاں بہت تعصب ہے، یہاں بھتا ہوتا ہے، یہ لوگ بہت برے ہیں، سب سے نفرت کرتے […]
سمے وار (تحریر: سعد احمد)یہ میں آپ کو لکھ کر دینے کے لیے تیار ہوں کہ پاکستان میں اور کسی شہر میں اتنا بڑا کیا اس کا آدھا سانحہ بھی ہوجائے اور وہاں ایسے رقص اور موسیقی جاری رہے۔یہ صرف کراچی آرٹس کونسل میں ممکن ہے، جہاں غیر مقامی اور کم ظرف انتظامیہ قابض ہے […]
سمے وار (تحریر: سعد احمد)جو دنیا میں کہیں نہیں ہوتا وہ کراچی میں ہوتا ہے، جیسے اپنے ہی شہر میں تیسرے درجے کے شہری بلکہ غلاموں جیسی زندگی گزارنا۔ ریاست کی جانب سے ہندوستانی اور غدار سمجھنا، ان کی حب الوطنی 80 سال بعد بھی مشکوک سمجھنا اور ان کے وسائل اور اداروں پر غیر […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)آتش زدگی سے کراچی کے معروف شاپنگ مال “گل پلازا” کی تباہی کے بعد جہاں کراچی والوں میں پیپلزپارٹی کی 18 سال سے مسلسل جاری رہنے والی حکومت کے خلاف زبردست غم وغصہ پایا جاتا ہے اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ سندھ کی جائے وقوعہ پر اگلے دن آمد پر […]