سمے وار (خصوصی اقتباس)سرسید احمد خان کا شباب جوبن پر تھا۔ ایک محفل میں ایک حسین و جمیل اور چلبلی طوائف، ناز و جان محوِ رقص تھی۔ اس کی نظر سرسید پر پڑی تو وہیں ٹھہر گئی۔ وہ بار بار ان کی طرف لپکتی اور ان کے سامنے آ کر ناچتی۔ مسکرا مسکرا کر سید […]
سمے وار (خصوصی اقتباس)سرسید احمد خان کا شباب جوبن پر تھا۔ ایک محفل میں ایک حسین و جمیل اور چلبلی طوائف، ناز و جان محوِ رقص تھی۔ اس کی نظر سرسید پر پڑی تو وہیں ٹھہر گئی۔ وہ بار بار ان کی طرف لپکتی اور ان کے سامنے آ کر ناچتی۔ مسکرا مسکرا کر سید […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)آپ سب لان کی شوقین خواتین “ثنا سفیناز” سے تو واقف ہی ہوں گی۔ ڈریس ڈئزائنرز کی یہ مشہور جوڑی نہ صرف دس سال کی عمر سے پکی سہیلیاں ہیں، بلکہ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ سفیناز منیر، ثنا ہاشوانی کی بھابھی بھی ہیں۔سفیناز منیر اپنے کاروبار کے […]
سمے وار (تحریر: نصرت امین)نورالہدی شاہ، منور سعید اور ولن کے لسانی پس منظر کا معاملہایک بار آرٹس کاونسل آف پاکستان کے ایک شو میں، نورالہدی شاہ صاحبہ اپنے خطاب کے دوران بتا رہی تھیں کہ ایک زمانے میں پی ٹی وی کراچی سینٹر میں کس طرح خاص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں سے […]
سمے وار (تحریر: شاہ جی sua)وقت بدلتا ہے، کیلنڈر بدلتے ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں مگر کچھ معاشرے شاید اپنے مسائل کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں۔ کبھی رفتار تیز ہو جاتی ہے، کبھی آہستہ، مگر منزل پھر بھی وہیں کھڑی رہتی ہے جہاں برسوں پہلے تھی۔ آج یہی احساس اُس وقت ہوا جب اچانک […]
سمے وار (تحریر: سید ایان ملک)بنام چیئرمین ‘ایم کیو ایم’ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور متحدہ کے تمام وہ کارکنان جو کراچی اور سندھ میں متحدہ کو دوبارہ عروج پر دیکھنا چاہتے ہیں۔مکرمی!آج میں ایک ساتھی، ایک کارکن، اور ایک ایسے شخص کے طور پر اپنے دل کی چند باتیں لکھنا چاہتا ہوں جس نے […]
سمے وار (تحریر: شاہین کمال)اب مجھے پردیس کاٹتے ہوئے تقریباً سولہ برس بیت چکے ہیں۔ زندگی نے مجھے خوب خوب جھکولے دیے پر شکر اس مالک کا کہ اس نے ہاتھ نہیں چھوڑا ۔ میں کراچی یعنی شہر دلبرا کی متوسط طبقے کی ایک عام سی لڑکی تھی. جس کے خواب بھی اسی کی طرح […]
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں، (جی ہاں، کبھی کبھی ہی سوچتے ہیں، کیوں کہ سوچنے کی عادت کے باوجود روزی روٹی اس کی ‘اجازت’ کم ہی دیتی ہے) کہ زندگی کو جیسے ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، کیا دوسرے بھی ایسے سوچتے ہیں؟ یا پھر صرف ہم ہی ایسے […]
سمے وار (تحریر: عالیہ چشتی)میں نے زندگی میں کبھی کوئی جانور نہیں پالا۔ قربانی بھی اگر کبھی کی تو حصے ڈال کر، اور اگر کبھی جانور خریدا بھی تو اسے گھر میں رکھ کر اس کے ساتھ وقت گزارنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ مگر اس سال پہلی بار ایسا ہوا کہ ہم نے قربانی کے […]
سمے وار (تحریر: انیس شیخ)گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے موجودہ چیئرمین محمد وسیم صاحب کے خلاف ویڈیوز پوسٹ دیکھنے کو اور پھر پڑھنے کو ملی جس میں یہ بیان کیا گیا کہ موجودہ چیئرمین صاحب نے بہت زیادہ کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور ان کے خلاف ثبوت […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)حج کے اہم ارکان میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی شامل ہے۔ آج یہ سعی کرنے والے زائرین ایک نہایت آرام دہ اور ٹھنڈے ماحول میں یہ عبادت ادا کرتے ہیں، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں مسعیٰ (یعنی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ) نہایت […]
سمے وار (تحریر: سعد احمد) گذشتہ دنوں ڈرگ اسمگلنگ میں سامنے آنے والی ملزمہ عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر چیخ پکار دیکھی جس میں وہ پولیس کے تشدد کا الزام لگا رہی تھی۔ایم کیو ایم کے خلاف 1992 کے زمانے کے آپریشن کے دنوں کی بات ہے کہ جب سندھ ہائی […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ کی یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں ڈوب رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں. کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 کے مطابق پاکستان کی 18 یونیورسٹیاں فہرست میں موجود ہیں۔سندھ کی صرف ایک جامعہ کراچی اور وہ بھی 1001 سے 1200 کے درمیان بہ مشکل جگہ بناسکی ہے اور یہ کارنامہ […]
سمے وار (تحریر: راجہ زاہد اختر خانزادہ)متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور ان کے کارکنوں کے خلاف پاکستان میں کارروائیاں اور سیاسی محاذ آرائی کئی دہائیوں سے جاری ہیں اس دوران وقت بدلتا رہا حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، چہرے اور بیانیے بدلتے رہے، مگر ایک چیز مستقل رہی اور وہ تھے فاصلے یہ […]
سمے وار (تحریر: ڈاکٹر تہمینہ عباس)ہم نے اپنے اساتذہ کو اپنے اساتذہ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے جاتے دیکھا۔ ڈاکٹر انوار احمد جب کبھی کراچی آتے ہیں اساتذہ کی قبروں پر ضرور حاضری دیتے ہیں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف ، ڈاکٹر فاطمہ حسن اور دیگر علمائے اردو،اپنے محسنین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے […]
سمے وار (تحریر: فارینہ حیدر)پاکستانیوں کی مذہب دشمنی یا مذہبی کم علمی کی وجہ شاید بہت سے لوگ جانتے نہیں ہوں گے یا جانتے ہوں گے تو بولنا نہیں چاہتے ہوں گے ۔ کہتے ہیں تو فقط اتنا، پاکستانی شدت پسند ہیں ، یہاں جہالت ہے ، مولوی صحیح علم دیتا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ان کا […]